ہزارہ نسل کشی – ٹی بی پی اداریہ

201

ہزارہ نسل کشی

ٹی بی پی اداریہ

گذشتہ اتوار بلوچستان کے علاقے گیشتری مچھ میں صبح صادق سے پہلے کوئلہ کانکن دن بھر کی سخت مزدوری کے بعد مزدور کوارٹروں میں آرام کررہے تھے، لیکن ان میں سے کئی مزدوروں کیلئے یہ آخری رات ثابت ہوا۔

رات کی تاریکی میں فوجی لباس میں ملبوس کچھ مسلح افراد انکے رہائشی کوارٹروں میں گھس آئے اور ایک مخصوص نسل کے مزدوروں کو شناخت کے بعد الگ کرکے انکے ہاتھ پیچھے باندھ کر انکے آنکھوں پر پٹیاں چڑھا دیں اور اس کے بعد دل کو دہلا دینے والا ایک واقعہ پیش آیا۔ کچھ کیلئے آخری لمحات سرمیں گولی مار کر آسان بنادیئے گئے لیکن کچھ کو اذیت ناک انداز میں زندہ ذبح کردیا گیا۔

کل گیارہ مزدوروں کو نا حق قتل کردیا گیا، تمام نشانہ بننے والے مزدوروں کا تعلق ہزارہ قوم سے تھا۔ ہزارہ قوم کے حقوق کیلئے متحرک تنظیموں کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران کم از کم 3000 ہزارہ قتل کردیئے گئے ہیں اور انکی نقل و حرکت اب محض چند کلومیٹروں تک مقفود کردی گئی ہے، وہ ایک محدود علاقے سے باہر نہیں نکل سکتے ہیں۔ وہ جو روزگار کی خاطر جرئت کرکے باہر نکلتے ہیں، انہیں بیدردی کیساتھ قتل کردیا جاتا ہے۔ فروری 2013 میں اسی طرح کے ایک حملے میں ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والے 91 افراد کو قتل اور 200 کو زخمی کیا گیا تھا۔

اس قتل عام کی وجہ سے ہزارہ برادری کی بھاری اکثریت نقل مکانی پر مجبور ہوچکی ہے۔ جو صاحب استطاعت تھے وہ آسٹریلیا یا مغربی ممالک میں آباد ہوگئے ہیں، لیکن جو ہجرت نہیں کرسکے ہیں وہ روزانہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

ہزارہ برادری زیادہ تر اسلام کے شیعہ فرقے کی پیروی کرتے ہیں، انکے قتل عام کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہی فرقہ واریت بتائی جاتی ہے۔ ان پر زیادہ تر حملوں کی ذمہ داریاں سنی عسکریت پسند تنظیمیں جیسے کہ لشکرے جھنگوی اور داعش وغیرہ قبول کرتے آئے ہیں۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ لشکرے جھنگوی پاکستانی خفیہ اداروں کا ” اسٹریٹجک اثاثہ” رہ چکا ہے اور افغانستان میں طالبان کے ہمراہ “جہاد” میں شریک رہا ہے۔ لیکن گذشتہ دو عشروں سے اس تنظیم نے نام بدل بدل کر اپنی بندوقیں کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی جانب موڑ لی ہیں۔

لشکرے جھنگوی حال ہی میں دولت اسلامیہ خراسان پاکستان میں ضم ہوگئی تھی، جس کے بعد اسی نام سے کاروائیاں قبول کرتی آرہی ہے۔ اتوار کے روز ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی اسی نام سے قبول کی گئی۔

تاہم ہزارہ اور بلوچ رہنما اس امر میں شبہات کا اظہار کررہے ہیں کہ ان حملوں کی وجہ محض فرقہ واریت ہے۔ معروف ہزارہ رہنما طاہر خان ہزارہ نے 2018 میں دی بلوچستان پوسٹ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہزارہ قوم کا قتل عام بلوچ قومی تحریک سے توجہ ہٹانے کیلئے کیا جارہا ہے، اور یہ حملے بلوچوں کیخلاف آپریشن کیلئے راہ ہموار کرنے کیلئے استعمال کیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی قانون نافذ کرنے والے ادارے ہزارہ برادری پر ہونے والے ان حملوں میں ملوث ہیں۔

بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب بلوچ نے بھی اتوار کے روز پاکستان کے خفیہ اداروں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مچھ میں ہزارہ برادری پر ہونے والے حملے میں براہ راست ملوث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “دشمن ریاست” بلوچ مزاحمت کے خلاف بطور حربہ ہزارہ برادری کا قتل عام کررہا ہے۔

سب سے حیران کن بات وہ حالات ہیں، جن میں یہ حملہ ممکن ہوپایا تھا، 26 دسمبر کو بی ایل اے نے بولان میں پاکستان کے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس حملے کے بعد پاکستانی فوج نے اس پورے علاقے کو گھیرا ہوا ہے اور وہاں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ایک بڑے پیمانے کا فوجی آپریشن جاری ہے۔ اس علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں فوج چپے چپے پر موجود ہے۔ لیکن اسکے باوجود مسلح افراد کا اتنی آسانی کے ساتھ مزدوروں کو شناخت کے بعد قتل کرکے فوج کی بھاری تعداد کے بیچوں بیچ سے نکل جانا سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔