ہزارہ برادری کے قتل عام میں ریاست کے اسٹریٹجک اثاثے شامل ہیں – بی آئی ایم

202

بلوچستان انڈیپینڈنٹ موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے ہزارہ برادری کے گیارہ افراد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ نسل کشی کے واقعات کے پیچھے بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کو متنازعہ بنانے والے قوتوں کا ہاتھ ہے۔

ترجمان  نے کہا کہ بلوچستان میں فرقہ واریت کا سوچ زمینی اور فطری نہیں بلکہ مصنوعی ہے یہ وہ قوتیں  ہیں جن کی مذہبی شدت پسندی کی طور پر باقاعدہ  نرسری کی جاتی ہے جنہیں منظم طورپر بلوچ اور ہزارہ برادری کے نسل کشی کے لئے مسلح کیا گیاہے اور انہیں مظلوم اقوام کے قتل عام کے لئے ٹاسک دیا گیا ہے

ترجمان نے کہا کہ تاریخی طور پر بلوچ خطہ میں  مذہبی شدت پسندی کا حامل نہیں بلکہ ایک روشن خیال اور سیکولر قوم کے طورپر اپنے فکری و نظریاتی اور جغرافیہ شناخت رکھتاہے جن قوتوں نے مذہب اور مزہبی شدت پسندی کو مظلوم اقوام کےلئے  بطور ہتھیار استعمال کرتے آرہےہیں ان کی نشاندہی علاقائی اور عالمی سطح پر مشکل اور پیچیدہ نہیں ایک عام آدمی سے لے کر عالمی برادری تک جانتا ہے کہ اس طرح کے سوچ  کی  نرسری خطہ اور عالمی سطع پرکون اور کس کی پشت پناہی میں کی جارہی ہے بلوچستان سے لے کر افغانستان تک اس نیٹ ورک کی پشت پناہی کون کررہاہے

ترجمان نے کہاکہ ہزارہ برادری کی نسل کشی کا مرکز بلوچستان جیسے مظلوم خطہ کو  بناکر نوآبادیاتی سامراجی قوتیں  ایران اور سعودی عرب کی لڑائی میں گماشتگی کا کردار ادا کررہے ہیں  اور دوسری طرف بلوچ تحریک آزادی کو متنازعہ  بنانے اور توجہ ہٹاو پالیسی کے طرز پرعالمی رائے عامہ کو گمراہ کئے جانے کی دانستہ چال چلا رہے ہیں  جب کہ ان ہی اسٹریٹجک اثاثوں کو  چھوٹ دیکر وقتا فوقتا بلوچ تحریک کو کارنر کرنے لئے استعمال کیا جارہاہے

ترجمان نے کہاکہ ہزارہ برادری کے قتل  میں ریاست کے اسٹریٹجک اثاثہ شامل ہے بلوچستان میں ہزارہ برادری کو محصور کردیا گیاہے ان کی آزادانہ نقل و حمل اور ہزارہ شناخت کو ناممکن بنادیا گیاہے  انہیں بلوچستان میں نیم قیدی کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہاہے ۔

ترجمان نے کہاکہ ہزارہ جب تک اس غیرانسانی نظام بلوچ قوم کےشانہ بشانہ نہ ہوں گے تب تک انہیں اس قہر سے نجات نہیں ملی گی ہزارہ قوم کو چاہیئے کہ وہ مظلوم  بلوچ سندھی پشتون اور مہاجر اقوام کے شانہ بشانہ جدوجہد کے ہمراہ بنیں وہ اس نظام اور نوآبادیاتی قوتوں کے خلاف جب تک علم بلند کرکے نہیں اٹھیں گے تو پھر لاشیں اٹھاتے جائیں گے