میری محبت بھی عبادت جیسی – محمد خان داؤد

42

میری محبت بھی عبادت جیسی

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

وہ عبادت جیسی تھی، وہ عشاء تھی، وہ اپنے بابا کی محبت میں ظہر تھی، وہ ماں کے دن جیسے فجر تھی۔
وہ ہو بہ ہو عصر تھی، وہ ایک وقت تھی،وہ ایک سماء تھی، ماں اسے دیکھے بغیر مغرب نہیں پڑھا کرتی تھی
بابا اس کا نام عشاء بھی رکھ سکتا تھا
پر بابا نے اس کو چاند سا نام دیا
”مونیکا“
حالاںکہ اس کا بابا اپنے بابا کی طرح پڑھا لکھا نہ تھا،نہ شاعر،نا نثر نویس،وہ تو کوئی اخباری کالم نویس بھی نہیں،اس روز کی روٹ سے کام تھا بھلا اس کا دانش یا دانش کی باتوں سے کیا کام؟
پر وہ جانتا تھا کہ اس کی بیٹی ہو بہ ہو چاند جیسی ہے،
چاند کی چاندنی جیسی ہے
اس کی آنکھیں بڑی ہیں،روشن ہیں تو اس نے اپنی چاند سی بیٹی کو نام بھی چاند سا دیا
”مونیکا!“
”چاندنی میں ڈوبی ہوئی!“
ہالائے نور،نور کا ہالا!نور میں نہائی ہوئی!
پر وہ شاید اس بات سے لاعلم تھا کہ جب غریب کی بیٹی چاند سی ہو تو اس کی ماں کا رونا مقدر ٹھہرتا ہے
مونیکا کی ماں کا رونا بھی مقدر ٹھہرا
مونیکا کا بابا چاہتا تو مونیکا کو کوئی مذہبی مقدس نام بھی دے دیتا اگر اور کوئی نہیں تو اسے ان نمازوں کے اوقات بہت اچھے لگتے تھے،وہ اپنی مونیکا کو کوئی عشاء،کوئی ظہور اگر نہیں تو ازان تو بنا ہی دیتا
پر وہ چاند سی تھی
اور اس کے بابا نے اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں دیکھ کر اسے ”مونیکا“ نام دیا
پر اس چاند کے ہالے کو بہت جلد گرہن لگ گئی
وہ بھی اس سندھ میں جو لطیف کا سندھ ہے
وہ بھی اس سندھ میں جو سید کا سندھ ہے
وہ بھی اس سندھ میں جو ایاز کا سندھ ہے
وہ بھی اس میں جس کو قومی کارونجھر زہر سے قتل کیا گیا
وہ بھی اس سندھ میں ہو ہوشو،ہیموں،دودو اور دولہا دریا خان کی سندھ ہے
وہ بھی اس سندھ میں جو میر کی سندھ ہے
وہ بھی اس سندھ میں کو کاچھو پہاڑوں اور سندھو دریا کی سندھ ہے
وہ بھی اس سندھ میں جہاں آج بھی اگر خاموشی ہو اور بے ہودہ سیاسی نعرے بند ہو تو ہوشو کی یہ للکار صاف سنائی دیتی ہے کہ”مر سوں،مرسوں،سندھ نہ ڈے سوں“
اس سندھ میں جس سندھ کی مہان ہونے کے نعرے لگا لگا کر ہمارا حلق خشک نہیں ہوتا
اس سندھ میں جس کو ہم تو کیا پر لطیف بھی آباد رہ جانے کی دعا دے گیا ہے
اس سندھ میں جس ہم سندھ کے آباد کے نعرے لگاتے ہیں تو دسری طرف معصوم بچے جنسی درندے کھا جا تے ہیں،مونیکا کو بھی اسی سندھ کے جنسی درندے کھا گئے
اس کے بابا کا بس یہ قصور تھا کہ وہ بہت غریب ہے،وہ چنگ چی چلا کر پیچھے رہ جانے والے بچوں کی روٹی کا بندوبست کرتا ہے،اور مونیکا کا کے دو قصور تھے
ایک وہ کہ وہ غریب بھوکے خاندان میں پیدا ہوئی
اور دوسرا یہ کہ وہ اس دن اللہ کے نام کی روٹی لینے جا رہی تھی
جب سندھ میں اللہ کے نام کی روٹی لینے والی معصوم مونیکاہی درندگی کا شکار ہو جائے
تو پھر سندھ میں کیا بچتا ہے
کیا اسی سندھ کو آگ نہ لگا دی جائے؟
کیا ایسے مرتبے کو آگ کی بھٹی میں نہ پھینک دیا جائے
کیا ایسی دعا کو جلا کر خاکستر نہ کر دیا جائے کہ
”سائیں سدائیں کریں متھے سندھ سُکار!“
کیا ایسی سندھ کے منھ پر کالک نہ مل دی جائے جس سندھ میں معصوم مونیکائیں کپڑوں سے سوا ملیں؟
کیا ایسی سندھ سے ہیموں،ہوشو،دودو،اور دولہا دریا خان ک قبروں پر بلڈوزر نہ چلادیا جائے جہاں معصوم مونیکائیں بس اس لیے جنسی درندگی کا شکار ہو جائیں کہ وہ غریب تھیں اور بھوکے پیٹ کے لے روٹی مانگنے جا رہی تھیں؟!
کیا ایسی سندھ کے گلے میں طوق نہ ڈالا جائے جس سندھ میں بھوکی مائیں ماتم بن جائیں
اور وہ اپنا درد بھی کسی کواس لیے نہ بتا پائیں کہ وہ غریب ہیں،وہ بھوکی ہیں
اگر مونیکا کے گھر میں پو ری روٹی ہو تی تو وہ نہ کبھی گھر سے روتی مانگنے اکیلی نکلتی،نہ جنسی درندگی کا شکار ہو تی اور نہ ہی کپڑوں سے سوا ملتی
ہم اس سندھ کے نعرے کو کیا نہ جلا دیں جن نعروں میں سندھ عظم ہے
جن نعروں میں سندھ تو جیتی ہے،پر مونیکائیں وحشت کا شکار ہو کر گنے کے کھیتوں میں ننگی ملتی ہیں
ہم اس سندھ کو جواب دار مانتے ہیں جس سندھ نے مونیکا کے گھر کو بھوکا رکھا
ہم اس سندھ کو قصور وار سمجھتے ہیں جس سندھ نے مونیکا کے بابا کو اتنی بھی گندم نہ دے جس گندم سے اس کے گھر والوں کا پیٹ بھر جاتا اور مونیکا یو نہ مرتی
یہ سندھ عظیم نہیں
یہ سندھ بہت بڑا طوق ہے
جو مونیکا جیسی بیٹیوں کے گلوں میں پڑا ہے
یہ سندھ عظیم نہیں
یہ سندھ جنسی بھیڑیا ہے جو دن دہاڑے مونیکا جیسی معصوموں کو چیر پھاڑ دیتا ہے
یہ سندھ عظیم نہیں
یہ سندھ تو ننگی کلھاڑ ی ہے جو معصوم مونیکا کے جسموں سے آر پار ہو جا تی ہے
اس سندھ میں سندھو کے کنارے وید کیسے لکھے گئے تھے
جہاں آج بھی مونیکا کے جسم کو اس لیے کچلا جاتا ہے کہ وہ ایک بھوکی بچی ہے اور اس روٹی چاہیے
آئیں اس سندھ کے منھ پر کالک مل دیں
جس سندھ نے آج پھر ایک بھوکی ماں کو ماتمی رنگ میں رنگ دیا
آئیں اس سندھ پر کالک مل دیں
جس سندھ میں آج بھی غریبوں کی چاند جسی بیٹیاں محفوظ نہیں
وہ مونیکا!
جو چاند جسی تھی
جو روشنی کا ہالا تھی
جو عبادت جیسی تھی!
جو خود عشاء
اور ظہر جیسی تھی
جو بابا کی کی عبادت
اور ماں کی فجر تھی
جس کے لیے بابا کی محبت عبادت جیسی تھی
پر سندھ نے اس عبادت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا
”میری محبت عبادت جیسی
ہائے!وہ عادی قضاؤں کا“
وہ محبت جیسی مونیکا اپنی ماں سے قضا ہو گئی
کہاں؟
سندھ میں
سندھ میں
سندھ میں


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔