بے خوف بلوچستان تحریر۔ نادر بلوچ

120

 

فطرتِ زندگی کو سمجھنے کیلئے قدرت کے کرشمات پر غور کرنے اور کائنات میں جاری چہل پہل میں شامل قدرت کی پیدا کردہ مخلوق پر تحقیق سے مشترکہ احساس و جذبات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کرہ ارض پر بسے مخلوق قدرتی تبدیلیوں کے مطابق ردعمل کے طور پر خود کو بدلتی ہیں۔ سرد و گرم موسموں، امن و جنگ کے دنوں میں ہجرت ہر چرند پرند و انسان و حیوان میں مشترک احساس و جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ انسان بھی ہجرت کرتے ہیں حیوان اور چرند پرند بھی سرد علاقوں سے گرم علاقوں کے طرف اڑتے ہیں لیکن سب اندر ہی اندر اس سوچ و کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں کہ کب واپس اپنے آبائی وطن لوٹنا ہے۔ اپنی مٹی کو چومنا ہے، اس مٹی میں شامل ہونا ہے جس سے ہماری شناخت ہے۔ یہ احساس قدرت کی عطا ہے، شاید قدرت خود بھی وطن پرست ہے۔

بلوچستان میں جاری قتل عام، ریاستی ظلم و جبر سات دہائی مکمل کرچکی ہے۔ بلوچ قوم تین نسلیں قربان کرکے چوتھی نسل میدان عمل میں سرگرم کرچکی ہے۔ غلام کی حیثیت سے پیدا ہونے سے لیکر موت تک کے دورانیہ میں پیش آنیوالے واقعات اور انجام کی پیشنگوئی سے حد “موت” مقرر ہوچکی ہے۔ بلوچ جہد کار زندگی کے سرکل کو مکمل پرکھ کر جینے اور مرنے کے ہنر پر سبقت حاصل کرچکی ہے۔ قومی مقصد اور قومی منزل کی پہچان کر لینے کے بعد میدان عمل کا حصہ بننا شعور کی انتہاء ہے۔ بلوچ مرد اور عورتیں جہد کے اس حصے میں خوف و جبر کی دیواریں پھلانگ چکی ہیں۔ جبر نے اس دھرتی پر شعور کی انتہاء کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس مقبوضہ دیس میں اب جینا بھی قومی مقصد کیلئے ہے اور مرنا بھی قومی منزل سے مشروط ہوچکی ہے۔ جب کوئی قوم جینے اور مرنے کے سلیقے و فلسفے سے آگاہی حاصل کرلے تو دنیاکی کوئی طاقت اسے مغلوب نہیں کرسکتی بلکہ قربانیاں قوم پرستی کی بنیادوں کو مزید مظبوطی عطا کرتی ہیں۔

بلوچ کی دھرتی فرنگی حکومت سے مختصر آزادی حاصل کرنے اور پاکستانی مقبوضہ بننے کے بعد مزاحمت کی طویل تاریخ رقم کرتی جارہی ہیں۔ غلامی کے خلاف اگر بلوچ تحریک آزادی کو تین دورانیہ میں تقسیم کرکے تجزیہ کی جائے تو موجودہ تحریکی شکل کی کامیابیاں واضح ہوتی ہیں۔ انیسو اڑتالیس میں آغا عبدالکریم کی جبری الحاق کو ماننے سے انکار کے بعد ریاستی جبر کی عتاب نے بلوچوں کو قابض ریاست کے بلیک لیسٹ میں شامل کیا جسکی وجہ سے قومی آجوئی پر ایمان اور قومی غلامی سے انکار کرنے والے ہر ذی شعور بلوچ کو پہاڑوں، غاروں اور عقوبت خانوں کی تاریکیوں میں تع و تیغ کرکے انکی آوازیں دبائی گئیں تاکہ قومی شعور کو پنپنے کا موقع نہ مل سکے۔ قابض ریاست اس خوش فہمی میں مبتلا ہوگئی کہ اب کوئی ظلم و جبر کے خوف سے آزاد وطن کیلیئے آواز بلند نہیں کرے گا لیکن اس قتل عام کے ردعمل میں بلوچستان میں انیسو ستر تک پے درپے مزاحمتی تحریکیں اٹھتی رہیں ہزاروں پروانے شمع کیلیے قربان ہوکر گمنامی کی شہادتیں قبول کرتے رہے۔اسطرح شعور دوسری نسل سے تیسری اور چوتھے نسل تک منتقل ہوگئی بلوچ اور بلوچستان بے خوف ہوتے گئے۔

خاموشی اور مصلحت پسندی کو قومی موت سے تشبیہ دینے والے سیاسی و نظریاتی کارکن قابض ریاست کی پالیسوں سے ہمیشہ ایک قدم آگے رہتے ہیں وہ جبر و ظلم کا سامنا کرنے کیلیے ہمہ وقت ذہنی طور پر خود کو تیار رکھتے ہیں وہ شعوری طور پر اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ قومی آجوئی جیسے عظیم قومی مقصد کو حاصل کرنے کیلیے صبر آزما جد و جہد سے قربانیوں کے تسلسل کو جاری رکھنا کامیابی کی کنجی ہے۔ نظریہ کی نشو ونما کیلیے قربانیاں خشک سالی میں بارش کے ایک قطرہ کی اہمیت جیسی انمول ہوتی ہے، ہر مثبت عمل قومی منزل کی جانب پیش قدمی ثابت ہوتی ہے رفتار بے شک کم ہو لیکن اثر نسلوں تک رہیگی۔

ہر محاز کو مستحکم کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ جذبات حوصلوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ بلوچ قومی تحریک کی حالیہ لہر قابض کیلیے ایک تھکا دینے والی جنگ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ موجودہ قومی تحریک کا طویل دورانیہ دو دہائیوں کا ہندسہ پار کرچکی ہے، ایک پوری نسل کی پرورش جنگ زدہ خطے میں جوان ہوچکی ہے۔ آجوئی کا نعرہ ہر گھر و گدان تک پہنچ رہی ہے۔ ہزاروں سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں نے مزاحمتی سوچ سے خوف کو شکست دی ہے۔

بی ایس او کی سابق چیرپرسن بانک کریمہ بلوچ اور نامور بلوچ صحافی ساجد حسین کی بیرون ملک دوران جلاوطنی قتل، شہادتوں اور قربانیوں نے قومی تحریک سے کمٹمنٹ اور تسلسل کو اجاگر کیا ہے۔ اس سے پہلے بھی افغانستان اور ایران میں سینکڑوں کی تعداد میں جنگ سے متاثرہ بلوچ مہاجرین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان قربانیوں نے جہد کاروں کی زندگی کی سرکل کے دائرے کو مکمل سمجھنے میں اہم کردار ادا کر کے بلوچ قومی تحریک کے بابت عالمی برادری کے سامنے کھڑے ہوکر بلوچستان میں جاری استحصال و قبضہ گیریت کے خلاف بلوچ قوم کا مقدمہ پیش کرنے کا جواز اور ثبوت پیش کیا ہے۔ بلوچ قوم کا یہ کاروان رواں ہو کر قافلہ منزل کی جانب بڑھتی جارہی ہے،نظریہ ضرورت دم توڑ چکی ہے، مصلحت پسندی، ناعاقبت اندیشی، لالچ و لاپرواہی سے نکل کر نظریہ سے لیس کارکن آزادی کے قافلے میں شامل ہوکر شہیدوں اور اسیروں کے ارمانوں کو قومی خواہش اور ذمہ داری سمجھ کر کاروان کا حصہ بنتے جارہے ہیں جو قابض کی شکست کا موجب بنتے جارہے ہیں۔ ریاستی خوف و دہشت کو بلوچ قوم نے مسترد کرکے شکست سے دوچار کردیا ہے۔ ڈیرہ غازی خان ، راجن پور سے لیکر زاہدان و چاہ بہار تک بلوچ قوم یکجاء ہورہی ہے۔ ہمسایہ اور محکوم اقوام بلوچ جہد سے اثر لیکر جزبہ حریت سے سرشار ہورہے ہیں۔

بانک کریمہ بلوچ کو “لمہ وطن” کے عظیم خطاب سے نوازا جاچکا ہے، کینڈا میں ایک نہتی سیاسی و انسانی حقوق کی کارکن کو گمنام موت کے سپرد کرنے والے سازشی و غیر فطری ریاست قومی شعور کے سامنے ہیچ ثابت ہوچکی ہے۔ “لمہ وطن” کی لازوال قربانی ، زندہ ضمیر رکھنے والے ہر بلوچ کو احساس غلامی کا شعور دے رہی ہے، ہر سیاسی کارکن کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اسکی زندگی اور موت قومی فکر و شعور کو پختہ کرنے کا ذریعہ بن سکے، “لمہ وطن” کی قربانی نے بلوچ نیشنل ازم کی مظبوط بنیادوں میں بلوچ عورت کی بحثیت ایک سیاسی کارکن اور جہد کار کے کردار و اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔ بانک نے اپنے لاثانی کردار و عمل سے خاموش تماشائیوں اور بزدلی کے دلدادہ کرداروں پر یہ واضح کیا ہے کہ بلوچ قوم کی غلامی و بدحالی اور قومی سوال کا حل نیشنل ازم سے وابستہ مزاحمتی جد و جہد میں پیوست ہے۔ خوف و بزدلی کا پرچار کرنے والوں کیلیے کریمہ بلوچ کی مزاحمتی زندگی ایک اعلی مثال ہے۔ قابض ریاست کی وردی والے دہیشتگردوں کی انکی لاش پر قبضہ کی کوشش، لمہ وطن کے نظریہ آزادی کو سچ ثابت کرنے کا موجب بن چکی ہے اس عظیم قربانی نے واضح کردیا ہیکہ بلوچ قومی مسئلے کا حل ایک آزاد وطن، آزاد بلوچستان کے سوا کچھ نہیں۔