بلوچستان ریذیڈینشل کالج خاران کی عدم فعالیت تشویشناک ہے ۔ بی ایس اے سی

86
File Photo

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی صورتحال انتہاہی مخدوش حالت میں ہے حکومت کی جانب سے تعلیمی ایمرجنسی کے نعرے کھوکھلے رہے ہیں۔ عملی میدان میں بنیادی اور معیاری تعلیم کی فراہمی میں گزشتہ اور موجودہ حکومت ناکام نظر آتی ہے۔ موجودہ حکومت بلوچستان کے طلباء و طالبات کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے میں انتہاہی نااہل رہی ہے جس کا اندازہ گزشتہ دو سال میں طلباء کی جدوجہد سے لگایا جاسکتا ہے۔

مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ خاران بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح تعلیمی پسماندگی میں یکساں ہے۔ سات سال قبل منظور ہونے والی بلوچستان ریذیڈینشل کالج خاران تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے حوالے سے امید کی کرن ثابت ہوئی تھی۔ لیکن حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے 20 کروڑ لاگت کا یہ پروجیکٹ سات سال گزر جانے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا۔ یہ پروجیکٹ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے چند گروہ کا زیر تعمیر تعلیمی ادارے پر قبضہ ہے بلوچستان ریذیڈینشل کالج خاران کی فعالیت خاران سمیت اردگرد کے علاقوں کے طلباء کے لئے باعث سکون اور تعلیم کے حصول کے لئے ایک آسان راہ ثابت ہوگی۔

مرکزی ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ریذیڈینشل کالج خاران کی انفراسٹرکچر کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے اور کالج میں تدریسی عمل کا جلد از جلد اجراء کیا جائے۔  بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی بلوچ طلباء کے معیاری تعلیم جیسے بنیادی حقوق کے لئے جہد و جہد کو اپنا نصب العین سمجھتی ہے ۔ بلوچستان ریذیڈینشل کالج خاران کے جلد فعال نہ ہونے کی عدم صورت میں اپنا آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے اور پرامن احتجاج کے تمام آپشن استعمال کریں گے۔