بلوچستان: دو سال میں خواتین کو ہراساں کرنے کے 26 کیسز درج

115
بلوچستان یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی اسکینڈل پر بڑے پیمانے پر مظاہرے کیئے گئے۔

صوبائی خاتون محتسب بلوچستان صابرہ اسلام کا کہنا ہے کہ بلوچستان بھر میں خواتین کی ہراسگی سے متعلق زیادہ شکایات تعلیم اور صحت کے شعبوں سے ملیں۔

کوئٹہ سے جاری کیئے گئے ایک بیان میں صوبائی خاتون محتسب بلوچستان صابرہ اسلام نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جائے ملازمت پر خواتین کے تحفظ کا ادارہ بھرپور کام کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2 سال میں سرکاری و نجی دفاتر سے خواتین کو ہراساں کیئے جانے کی 26 شکایات ملیں، جن میں سے 18 شکایات کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔

صابرہ اسلام کا کہنا ہے کہ ہراسگی سے متعلق کیسز میں ملزمان کو مختلف نوعیت کے جرمانے اور سزائیں دی گئیں۔ صوبائی محتسب نے بتایا کہ بلوچستان کے ہر ضلع میں ہراسگی کے خلاف شکایات سیل قائم کر دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ خواتین کی ہراسگی کے خلاف ہماری زیرو ٹالرینس کی پالیسی ہے، خواتین میں ہراسگی کے خلاف اعتماد اور آگہی بڑھ رہی ہے۔

صوبائی خاتون محتسب صابرہ اسلام کا یہ بھی کہنا ہے کہ دفاتر میں خواتین سے غیر اخلاقی رویہ، زبردستی تعلق، مراعات کو ذاتی تعلق کہنا ہراسگی ہے۔

یاد رہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں طالبات کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کا معاملہ گذشتہ دو سال پہلے سامنے آیا تھا جب یونیورسٹی انتظامیہ نے چند ملازمین کو آؤٹ آف ٹرن ترقیاں دی تھی۔

یونیورسٹی رجسٹرار نے یہ معلومات بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں ایک ڈویژن بینچ کو فراہم کیں جس نے طالبات کو ہراساں کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

تاہم بلوچستان کی طلباء تنظیموں سمیت سیاسی جماعتوں نے معاملے میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کرانے کا مطالبہ کیا تھا اور بعد ازاں بلوچستان یونیورسٹی کیس سرد خانے کی نظر ہوگئی۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں خواتین کو ہراساں کرنے کے بہت سے کیسز سامنے نہیں آتی ہیں یا وہ رجسٹر نہیں کیے جاتے ہیں۔