کراچی میں طلباء حقوق مارچ، طلباء سیاست کو بحال کرنے کا مطالبہ

138

سندھ کے دارالحکومت کراچی میں مختلف طلباء تنظیموں نے طلباء حقوق مارچ نکالا۔

اس موقع پر طلباء رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج نصف صدی کے بعد پاکستان پھر ایک طلبہ تحریک کے دہانے پر ہے۔ جہاں ایک طرف کرونا جیسی عالمی وباء کا پورے پاکستان کو سامنا ہے وہی طلبہ اپنے بنیادی حق طلبہ یونین کی بحالی کے لئے آج 27 نومبر 2020 کو ملک گیر مارچ کرنے پر مجبور ہیں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ طلبہ یونین پر پابندی کی وجہ سے ہمیں پورے ملک میں طلبہ کا استحصال ہوتے ہوئے نظر آتا ہے جہاں ہمیں قراقرم یونیورسٹی اور بلوچستان یونیورسٹی سمیت ہر ایک تعلیمی ادارے میں جنسی ہراسانی سے لے کر طلبہ کی خودکشی کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کے جب تک طلبہ یونین کو بحال نہیں کیا جاتا تب تک ایسے واقعات کو روکا نہیں جاسکتا۔ جبکہ اس مارچ میں سندھ حکومت کو گذشتہ سال اسٹوڈنٹ یونین کے بل پر دوبارہ نظرثانی کرنے کی طرف توجہ دلانا بھی ہے۔

،طلباء نے مارچ میں مختلف مطالبات پیش کیے کہ طلبہ یونین پر عائد پابندی ختم کی جائے اور فی الفور ملکی سطح پر طلبہ یونین کے الیکشن کرائے جائیں اور پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں طلباء یونین کا اجراء کیا جائے۔ ملک بھر میں انٹرنیٹ کی مفت سہولیات کے بغیر آن لائن کلاسوں کے اجراء کا فیصلہ واپس لیا جائے ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں کی نجکاری کا عمل فوراً بند کیا جائے، فیسوں میں حالیہ اضافہ فوری واپس لیا جائے اور ہر سطح پر مفت تعلیم فراہم کی جائے۔ ایچ ای سی کی حالیہ بجٹ کٹوتیاں اور اساتذہ کی چھانٹیوں کا عمل فوراً کیا جائے اور کل جی ڈی پی کا کم از کم پانچ فیصد تعلیم کے لیے مختص کیا جائے۔ نام نہاد سرکاری حلف نامے کی بنیاد پر تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی فوراً ختم کی جائے۔ اور قومی سلامتی کے نام پر تعلیمی اداروں میں سکیورٹی فورسز کی بے جا مداخلت ختم کی جائے اور تمام سیاسی طلبہ اسیران کو فوری رہا کیا جائے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ طلباء و طالبات کے ہاسٹل کے اوقات کار کی پابندی یکسر ختم کی جائے۔ ہر کیمپس میں جنسی ہراسانی کے قانون کے تحت کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور ان میں طلبہ کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ لائبریری، انٹرنیٹ، ٹرانسپورٹ، معیاری ہاسٹل اور میس جیسی بنیادی سہولیات کی مفت فراہمی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ معیار تعلیم کو جدید سائنسی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کیا جائے۔ تمام پسماندہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کا قیام یقینی بنایا جائے اور دیگر شہروں میں ان علاقوں سے آنے والے طلبہ کا کوٹہ فوری بڑھایا جائے۔ تمام فارغ التحصیل طلبہ کو باعزت روزگار فراہم کیا جائے یا کم از کم اجرت بطور بیروزگاری الاؤنس دیا جائے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ 13 اپریل کو مشال خان کے نام سے منسوب کرتے ہوئے عام تعطیل کا اعلان کیا جائے۔

اس موقع پر طلباء مارچ میں لاپتہ انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین کی والدہ بھی شریک ہوئی، لواحقین کے مطابق راشد حسین بلوچ کو متحدہ عرب امارات سے اماراتی خفیہ اداروں نے حراست میں لیکر چھ مہینے لاپتہ رکھا اور بعدازاں غیر قانونی طور پر پاکستان کے حوالے کیا گیا جو تاحال لاپتہ ہے۔