وہ یروشلم کی گلیوں میں ہوتا تو نبی ہوتا – محمد خان داؤد

85

وہ یروشلم کی گلیوں میں ہوتا تو نبی ہوتا

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ نے کبھی بھی عالموں کو اپنے دل کے اندر نہیں سمویا۔ تاریخ نے عالموں کو اپنے دماغ میں جگہ دی ہے۔ پھر جیسے جیسے علم مٹتا جاتا ہے ویسے ویسے وہ عالم بھی مٹتے جا تے ہیں۔ پر تاریخ نے عاشقوں کو ہمیشہ سے اپنے دل میں سمویا ہے اور وہ عاشق تاریخ کی دل کے ساتھ دھڑکتے رہتے ہیں۔

اگر عاشق نہ ہو تے تو بلند و بالا پہاڑوں کے دامنوں میں بھاری پتھر بھی نہ ہوتے
بھلا عاشقوں کے سوا کون ان پتھروں پہ چلتا ہے؟
بھاری پتھر عاشقوں کے لیے ہیں
اور عاشقوں کے نرم و نازک پیر ان پتھروں پر پڑنے کے لیے!
مجھے نہیں معلوم کہ وہ پیر آگے بڑھ کر ان پتھروں کی عزت بڑھاتے ہیں یا وہ پتھر آگے سرک کر ان پیروں کی توقیرکرتے ہیں؟پر یہ سچ ہے یہ بلند و بالا پہاڑ یہ بھا ری نوکدار پتھر عاشقوں کے لیے ہیں!
بالاچ مری بھی عالم نہ بنا وہ عاشق بنا!
اس لیے اس کے حصے میں وہ نفیس ہاتھ وہ سرخ رخسار نہ آئے جو محبت کا پتا دیتے ہیں۔
پر اس کے حصے میں آئے وہ پہاڑ اور وہ پتھر جن پر اس کے نرم وہ نازک پیروں کے نشان اب بھی باقی ہیں
اس کے حصے میں وہ سکون اور آرام نہ آیا جو سرداروں کی لونڈی ہوتی ہے۔
پر اس کے حصے میں آیا وہ سفر جو موسیٰ نے بھی کیا تو عیسیٰ نے بھی
اس کے حصے میں وہ وزارت نہ آئی جو بلوچستان کے سردار ساز باز سے حاصل کر ہی لیتے ہیں
اس کے حصے میں آئی وہ صلیب جو اس سے پہلے عیسیٰ کے حصے میں آئی تھی اور بالاچ مری نے اپنے بھائی عیسیٰ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے اس صلیب کو قبول کیا!
اس کے حصے میں گھر کی راحت نہ آئی
پر اس کے حصے میں آئی وہ ہجرت جو اسے پہاڑوں کا مکین بنا گئی
اس کے کان ایسے نہ تھے کہ وہ ماؤں کی فریاد سنتا اور اپنے کانوں کو جھوٹے دلاسوں پر خوش رکھتا۔
وہ ایسا نہ تھا کہ دیس درد بنا رہتا اور وہ کچھ لے اور کچھ دے کی بنیاد پر اپنا حصہ لیکر خوش رہتا
وہ ایسا نہ تھا کہ دیس دشت کی پکار بنا رہتا اور وہ اسمبیلی فلور پر مسٹر بین بنا رہتا
وہ ایسا نہ تھے کہ زندہ تو زندہ پر بلوچستان کی زمیں پر مردوں کی بھی توہین ہو تی رہتی اور وہ خاموش تماشائی بنا رہتا۔
وہ ایسا نہ تھا کہ بلوچستان کی زمیں مسخ شدہ لاشوں کو ایسے پر ایسے اُگلتی رہتی جیسے من و سلوا برس رہا ہو
اور یہ سبحان تیری قدرت کا ورد کرتا رہتا
وہ ایسا نہ تھا کہ بلوچستان کے سفید پھول لہو سے سرخ ہو رہے ہیں اور یہ ان سفید پھولوں پر
لہوں کے سرخ چھینٹے پڑتا دیکھتا رہتا
وہ ایسا نہ تھا کہ مائیں مسافر بنے اور یہ آگے بڑھ کر ان ماؤں سے پوچھے بھی نہیں کہ
”اماں یہ کشت کیوں؟“
وہ تو سفید پھولوں کی سفیدی کا امین تھا
وہ تو ماؤں کے دردوں کو کم کرنے کی دوا تھا
وہ ایسا نہ تھے کہ دشت بے نام قبروں کا بوجھ برداشت کرتا رہتا
اور یہ اپنے محل نما گھر میں سکھ چین کی بانسری بجاتا رہتا
بالاچ!
بالاچ!
بالاچ!
اس لیے پیدا نہیں ہو تے کہ وہ سکھ سے رہیں
بالاچ اس لیے پیدا ہو تے ہیں کہ وہ دھرتی کو جگائیں
بالاچ مری نے بھی دھرتی کو جگایا!
اگر یہ یروشلم کی گلیوں میں ہوتا تو نبی ہوتا!

بالاچ!نے منافقت کی دیوار کو پھلانگ کر دیس کی محبت سے بھر گیا
وہ ایسا بھنورہ تھا جو بلوچستان نامی پھول پر مست تھا
وہ کب تک ایسے بے سُرے گیت سنتا رہتا جن گیتوں میں سب کچھ تھا پر بلوچستان کے زخموں کا مرہم نہ تھا
وہ کب تک ایسے دلا سے سنتا رہتا جن دلاسوں میں بلوچستان پیکچ سے لیکر عوامی حکومت کے دعوے تھے پر بلوچستان کے دردوں کی دوا نہ تھی
وہ کب تک ایسی بے ہودہ باتیں سنتا رہتا جن باتوں میں سوائے شرمندگی کے سوا کچھ نہ تھا
اس لیے
بالاچ!
بالاچ!
بالاچ!
آپ ہی حرمت
اور آپ ہی غیرت بن کر اُٹھا
اور تاریخ نے اپنے اندر سے عالموں کو دور نکال پھینکا
اور ایک عالم کو دل میں جگہ دی
جو کورا تھا کاغذ کی طرح
جو نرم تھا روئی کی طرح
جو گلابی تھا سندور کی ماند
جو سفید تھا چاند کی طرح

جب تاریخ ایک حُریت پسند کو اپنی دل میں جگہ دے رہی تھی تو چاند دھیرے دھیرے سے نیچے اُتر رہا تھا
دنیا کے بہادر انسان پہاڑوں پر چڑھ کر چاند کو بہت ہی قریب سے دیکھتے ہیں کیوں کہ انہیں آزادی سے عشق ہوتا ہے
پر جب چاند کسی کو حُریت پسند کو دیکھنے کے لیے آکاش سے خود ہی نیچے اتر آئے تو بھلا اس کو کیا کہیں گے؟
بالاچ!
بالاچ!
بالاچ!

جب بالاچ مری کو تاریخ اپنے صحیفوں میں جگہ دے رہی تھی تو چاند آکاش سے سُرک رہا تھا پھر تاریخ،پہاڑوں اور پتھروں کی آنکھوں نے دیکھا کہ چاند اور بالاچ بغلگیر ہوگئے
روشنی آزادی کے عاشق کی بہانوں میں تھی
اور آزادی روشنی کا ماتھا چوم رہی تھی!
اوربہت دور چاند پہاڑوں کی معرفت دنیا کے عالموں کو یہ پیغام دے رہا تھا کہ
”عقل را بفروش حیرانی بخر
عقل تزویر است حیرانی نظر!“
”عقل کو بیچ کر اس کے بدلے دل خرید کرو
کیوں کہ عقل دوکھا دیتی ہے اور دل نظر پیدا کرتی ہے!“
یہ عاشق یرو شلم کی گلیوں میں ہوتا تو نبی ہوتا
پر ہم چاہتے ہیں کہ یہ بلوچستان کی گلیوں میں نبی ہو جائے
مولا!
یا تو بلوچستان کی گلیوں کو یرو شلم کر دے
یا تو بلوچ قوم کو بنی اسرائیل کردے
کیوں کہ یہاں کے لوگ اسے پہچان نہیں رہے
آئیں اس دیس کے عاشق کو سلام کریں کہ
”شاد باد اے عشق خوش سودائے ما
اے طبیب جملہ علت ہائے ما!“
”اے میرے خوش جنوں عشق تو سلامت رہ
کیوں کہ تم ہی میری جملا بیمارویوں کا علاج ہو“
سلام بالاچ مری شہید!
تم ہی بلوچستان کی جملا بیماریوں کا علاج ہو


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں