شازیہ کا درد تو مریم کے درد سے کئی گناہ سوا ہے – محمد خان داؤد

94

شازیہ کا درد تو مریم کے درد سے کئی گناہ سوا ہے

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

وہ عیسیٰ نہ تھے پر ان کے درد عیسیٰ سے بھی بہت بڑے ہیں
وہ مریم بھی نہیں پر وہ روتی ایسی ہی ہے جیسے یسوع کی ماں روتی تھی
وہ مسیح نہ تھے پر اُٹھا ایسے لیے گئے جیسے مسیح کو اُچک لیا گیا تھا
وہ یسوع نہ تھے پرشازیہ ہو بہ ہو مریم کی طرح مصلوب ہے
نہ یسوع کے پیروں کے نشان ملتے تھے اور نہ ہی عاقب چانڈیوکے پیروں کے نشان ملتے ہیں
مریم بھی یسوع کے دردوں میں روتی تھی اور شازیہ بھی بھائی کے دردمیں رو رہی ہے
یسوع کے لیے بھی یروشلم کو تنگ کر دیا گیا تھا اور عاقب کے لیے بھی سندھ کی زمیں تنگ کر گئی ہے۔
مریم بھی گیلے نینوں اور بھیگی آنکھوں سے آسماں کو تکتی تھی
شازیہ بھی گیلے نینوں اور بھیگی آنکھوں سے آسماں کو تکتی ہے
مریم کی آنکھیں بھی منتظرِ یار رہیں
اورشازیہ کی آنکھیں بھی منتظر یار ہیں
نہ آسماں سے یسوع اترا
نہ زمیں عاقب کو اُگلتی ہے
مریم کے ہاتھوں میں بھی یسوع کا کانٹوں والا تاج تھا
اورشازیہ کے ہاتھوں میں بھی دردوں والی وہ تصویر ہے جس میں کانٹوں والا تاج تو نہیں پر درد ہی درد ہے
مریم کہاں جائے اوشازیہ کہاں جائے
وہ اپنی دھرتی پہ نہ رہیں تو کہاں جائیں؟

یہ سوال ایسا ہے جس کے جواب کو تلاشتے مریم یسوع کے پیروں کے نقش تلاش کرتی پھرتی تھی
اوریہ ہی ایسا سوال ہے جس کو تلاش کرتی شازیہ اپنے ہاتھوں میں گم کیے یسوع جیسے عاقب کے پیروں کے نقش تلاش کر رہی ہے۔پر کوئی کہیں سے بھی نمودار نہیں ہوتا نہ آسماں اب مسیح کو ظاہر کرتا ہے اور نہ ہی زمیں عاقب کو ظاہر کرتی ہے اور مریم جیسی شازیائیں نہ روئیں تو کیا کریں۔

مریم کئی زمانوں سے یسوع کو تلاش رہی ہے اورشازیہ کئی ماہ سے اپنے بھائی کو تلاش رہی ہے نہ اہلِ یروشلم مریم کی بات سنتے اور سمجھتے تھے اور نہ اہلیان سندھ شازیہ کی بات سنتے اور سمجھتے ہیں مریم بھی اکیلی تھی اور شازیہ بھی اکیلی ہے۔مریم بھی دردوں کی ماری تھی جب اپنے عیسیٰ کو یاد کرتی تھی اور رو تی تھی تو ہاتھ کانپ جا تے تھے اور شازیہ بھی اپنے بھائی کو یاد کرتی ہے،روتی ہے تو اس کے ہاتھ بھی کانپ جا تے ہیں۔

مریم بھی مثل درد رہی
شازیہ بھی مثل درد ہے
مریم بھی گیلی اور بھیگی آنکھوں سے اپنے یسوع کا پتا پوچھا کرتی تھی
شازیہ بھی گیلے اور بھیگی آنکھوں سے اپنے بھائیوں کا پتا پوچھتی ہے
مریم بھی زمانے کی بے حسی کا شکار رہی
شازیہ بھی زمانے کی بے حسی کا شکار رہی ہے
مریم کے ہاتھوں میں یسوع کی آخری چادر رہ گئی تھی
اور شازیہ کے ہاتھوں میں اپنے بھائی کے وہ کپڑے رہ گئے ہیں جو انہوں نے پہنے اور پھر دھونے کو اتارے اور پھر کبھی نہیں پہنے
مجھے نہیں معلوم کہ ماؤں اور بہنوں کا درد ایک سا کیوں ہوتا ہے
پر یہ سچ ہے ماؤں اور بہنوں کا درد ایک سا ہوتا ہے
مریم بھی یسوع کو لیکر مسافر بنی اور لوگوں کی نظروں کا شکار رہی
شازیہ بھی اپنے بھائیوں عاقب کا درد لیے مسافر بنی ہے اور زمانے کے لوگوں کی نظروں کا شکار رہی ہے
مریم اپنا درد کہے تو کس سے؟
اور شازیہ اپنا درد کہے تو کس سے؟
مجھے نہیں معلوم کہ مریم شازیہ تھی یاشازیہ مریم ہے؟
پر پاس سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بس ایک ہی ہیں اور بقول شیکسپئیر کے نام میں کیا رکھا ہے؟
عیسیٰ بھی ایک جیسا
عاقب بھی ایک جیسا
مریم بھی ایک جیسی
شازیہ بھی ایک جیسی
یروشلم بھی ایک جیسا
سندھ بھی ایک جیسا
یروشلم کا وہ گورنر بھی ایک جیسا جس نے یسوع کو مصلوب کروایا
اور اس ریا ست کے وہ ہاتھ بھی ایک جیسے جن ہاتھوں نے شازیہ کو مصلوب کروایا ہے
تو مریم کہاں جا تی؟
اور ابشازیہ کہاں جائے؟

شازیہ کا مسافر بن جانا اور روڈوں کی خاک چھاننا کوئی آج کی بات نہیں
یہ تو مریم سے بھی پہلے کا درد ہے اور اب شازیہ سے بھی آگے جائیگا
ایک تو مریم نہیں ایک دو شازیائیں نہیں معلوم نہیں کتنی مریمیں اور کتنی شازیائیں اس درد کو لیکر سسئی بنی ہوئی ہیں اور ان کے نازک پیر دردوں والے سفر کو جھیل رہے ہیں اور دوران سفر جب ان کے نازک پیروں میں کوئی نوکیلا پتھر بہت اندر تک گھس جاتا ہے تو ان کی دلوں سے ایسی صدائیں نکلتی ہیں کہ
”کملی کر کے چھڈ گئے او
پئی کھک گلیاں تاں رولاں“
تو مریم ایک نہیں شازیہ ایک نہیں یہ تو قصہ لاحاصل ہے
پر مریم کے درد میں اورشازیہ کے درد میں یکسوئی ہونے کے باجود ان کی دردوں کی لکیریں ایک جیسی نہیں
دونوں کی آنکھوں سے لہو ٹپکا پر لہو ایک جیسا نہیں
دونوں کے رتجگے ہیں پر دوونوں کی نیند ایک جیسی نہیں
دونوں اپنوں کی منتظر ہیں
پر دونوں ک انتظار ایک جیسا نہیں
دونوں کے نین گیلے گیلے ہیں پر دونوں کی دید ایک نہیں
کیوں کہ یسوع جیسا بھی تھا اور مریم کا درد بھلے کتنا بھی بڑا تھا پر مریم نہ دیکھا کہ ایک ہجوم یسوع کو قتل کر رہا ہے ہانک رہا ہے سر پر کانٹوں بھرا تاج رکھ رہا ہے اور پھر مصلوب کر رہا ہے
یہ سب کچھ مریم کی کانپتی آنکھوں کے سامنے ہوا
پرشازیہ کا درد تو مریم کے درد سے کئی گناہ سوا ہے
یسوع دکھتا تھا اور یسوع کا درد دکھتا تھا
عاقب اور دیگر اسیران کہاں ہیں؟
درد کہا ں ہے
کانٹوں بھرا تاج کہاں ہے
ہجوم کہا ں ہے
اور صلیب کہاں ہے؟
کچھ نہ ہونے کے باجود بھی شازیہ مصلوب ہے
اس لیے آئیں ایک ہیش ٹیگ کو تخلیق کریں جس ہیش ٹیگ میں مریم سے لیکر یسوع تک
اورشازیہ سے لیکر عاقب چانڈیو کا درد سما جائے کہ
#وہ اپنی زمیں پہ نہ رہیں تو کہاں جائیں؟


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں