تیرہ نومبر : خون کا ٹپکتا آخری قطرہ منزل آزادی – عبدالواجد بلوچ

255

تیرہ نومبر : خون کا ٹپکتا آخری قطرہ منزل آزادی

تحریر : عبدالواجد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

آزادی کی جدوجہد کسی علامتی پل سراط سے کم نہیں، یہ سختیوں اور مشکلات کا راستہ ہے قدم قدم پر تکالیف کا سامنا ہوتاہے قربانی کے بغیر کسی کو بھی آزادی نہیں ملتی آزادی ایک تبدیلی کانام ہے اور یہ تبدیلی خون اور قربانی کے بغیر نہیں آتی۔ غلامی کا خاتمہ ایک تبدیلی ہے ایک ترقی ہے ایک جدید سوچ ہے آج بلوچ اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کررہی، اسی آزادی کی تلاش میں آج تلک بلوچ فرزندانِ وطن نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا، اسی مناسبت سے ہم ہر سال تیرہ نومبر کو اپنے مادر وطن کے عظیم سپوتوں کو یاد کرتے ہیں .

13نومبر شہداء کے ساتھ تجدید عہد کا دن ہے شہداء نے ایک مقصد اور ایک فکر کو لیکر جدوجہد کی اور قربانیاں دیں ان کی قربانیاں آنے والے نسلوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ شہداء نے ایک روشن بلوچ مستقبل کے لئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگاکر اپنی جانیں نچھاور کیں ان کی زندگی کی ضرورت اور تقاضے تھے ان کے بھی خاندان اور بچے تھے بحیثیت انسان وہ اس سے مبرا نہیں تھے لیکن زندگی کے تقاضے ان کی راہ میں حائل نہ ہوئے ان کے راستے میں رکاوٹیں آئیں لیکن وہ ان رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جدوجہد کی ، ریاست کی جانب سے مشکلات سماج کے اندر ریاستی سوچ کے ساتھ ان کا متصادم ہونا ان کے خلاف بھی کئی محاذ کھولے گئے لیکن وہ آزادی کے عظیم مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھیں، نا کبھی ان کے قدم ڈگمگائے اور نہ وہ کبھی اس مقدس راستہِ آزادی کے لئے ہچکچائے چلتے گئے، گرتے گئے پھر اٹھے پھر چل دئیے اپنے آپ کو اَمر کرنے کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ اس وطن کی آبیاری کے لئے گرائے۔

شہداء نے اپنی قربانیوں سے ہماری قوم کو نئی شعور عطاء کی شھدائے بلوچستان نے اک تسلسل کے ساتھ اپنی پیشروں کی سنت اور روایت کو زندہ رکھا، شہداء نے نوآبادیاتی سوچ کو دو طرفہ کھوکھلا کرچکے ہیں نوآبادیاتی سوچ آج بلوچ سماج میں اپنی ساکھ کھوچکی ہے عوام میں ایک بیداری اور ایک رد عمل ہے پارلیمانی سوچ تیزی سے سکڑ رہی ہے اور آزادی کی سوچ کی جڑیں مضبوط ہورہی ہے جو نوآبادیاتی طاقتوں کی فطرت ہے جو امپریلسٹ کا حربہ ہے جہاں وہ ان کے نام نہاد وجود ہچکولے کھانے لگتی ہے وہ طاقت کا بے تحاشا استعمال کرتی ہے ،آزادی حاصل کرنا ہمارا سب سے بڑافریضہ ہے یہ شہداء کا ارمان ہے ان کے ارمانوں کی تکمیل ہماری زمہ داری ہے ان سے تجدید عہد بھی ان کے فکر سے تجدید عہد مشن اور کاز سے عہد پیمان ہے ان کے ادھوری مشن کو مکمل کرنا اور ایک آزاد بلوچ وطن کی تشکیل کے لئے جدوجہد ان کی سنت و روایت ہے، بلوچ نیشنلزم جو مٹی سے وابسطہ ہے بلوچ دوست سوچ پر ہر طریقہ سے یلغار کیا جارہا ہے ہمیں ہر حربہ سےکمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا چائیے ہماری مایوسی ہماری عزاب اور تکالیف میں شدت پیدا کریگی جو غلامی کو تقویت کاباعث ہے ہماری حوصلہ ہماری جدوجہد کو توانائی اورطاقت دے گی. شھداء کے ہر گرتی قطرہِ خوں سے ہمارے حوصلے مضبوط ہونگے اور یہ جدوجہد اپنی منزل پا لے گی.

کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیوں
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں