اس جمہوریت پر یقین رکھیں گے جہاں بلوچ اور پشتون کی عزت محفوظ ہو – سردار اختر مینگل

260

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ جب تک اس ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں آتی اس وقت تک جدوجہد جاری رہے گی، ہمارے اوپر کٹھ پتلی حکمران لائے گئے ہیں، راتوں رات سیاسی پارٹی بنائی گئیں۔

اتوار کو پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ کاش مجھے پشتو آتی اور پشتو میں دمادم مست قلندر کچھ اور ہی ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پشتوں کے ساتھ ہمارا بہت پرانا رشتہ ہے، چالیس سالوں سے اس دھرتی پر جن پشتونوں کا خون بہایا گیا ہے ان قصور کیا تھا؟

انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان کے لوگ ستر سالوں سے کرب میں مبتلا ہیں، بلوچستان میں گاؤں کے گاؤں اجاڑ دیئے گئے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کو غائب کر دیا گیا ہے، آج بھی ہماری مائیں اور بہنیں سڑکوں پر اپنے بچوں کی بھیک مانگ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ سڑک، روز گار، سکول اور کالج کا مطالبہ نہیں کر تے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ ملک نہیں توڑا، ملک 1970ء میں ٹوٹا ہے تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں، آج ہم ملک کو توڑنے والی قوت کے خلاف کھڑے ہیں۔ دہشتگردی کا بازار گرم ہے اس کے ذمہ دار یہاں کے لوگ نہیں ہیں، دہشتگرد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دہشتگردوں کو پناہ دی، جنہوں نے فنڈنگ کی، دہشتگرد وہ ہیں جنہوں نے بلوچوں کی سر زمین پر بلوچوں کا خون بہایا۔

انہوں نے کہاکہ جب تک اس ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں آتی اس وقت تک جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملک دو لخت ہوا، سیاسی جماعتوں نے ملک نہیں توڑا، کسی سیاسی جماعت نے بنگالیوں کا قتل نہیں کیا۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے اوپر کٹھ پتلی حکمران لائے گئے ہیں، ہم نے تمام تر زندگی سیاسی پارٹی بنانے میں لگائی ہے لیکن یہاں اسٹیبلشمنٹ راتوں رات پارٹی بناتی ہے، ملک بھر میں مختلف ناموں سے پارٹی بنائی گئی ہیں، ہم اس جمہوریت پر یقین رکھیں گے جس میں میرے بلوچ اور پشتون کی عزت محفوظ ہو۔