کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاج جاری

42

کوئٹہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 4110 دن مکمل ہوگئے۔ مشکے سے عزیز احمد بلوچ، خیر بخش بلوچ، نزیر احمد بلوچ اور شال سے خواتین کے وفد نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ قاتل انسان کی دھنک رنگوں میں لہو کس کس کی شامل ہے، قومی وقار کی تعمیر میں ہڈیاں کس کس کی پاکستنان کی کو لہو میں چور چور ہوئیں اور آئندہ نسلوں کو ایک محفوظ اور باعزت مستقبل دینے کیلئے کیسے کیسے یگانہ اور یکتا خشک ٹہنی پر وارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ آج بظاہر دہشت زدہ ماحول ہے، موت کی عفریت اپنے بدنماء دانت نکوسے کھڑا ہے گوکہ بلوچ کا خون ندی بن کر بہہ رہا ہے اور اہل بلوچ روز ایک آگ کا دریا پار کرتے ہیں مگر بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی پائے استقلال کو آفرین ہوکہ لغزش کو قریب بٹکنے نہیں دیتی ہے۔

ماما قدیر کا کہنا تھا کہ آج بلوچ وطن کے ہر کوچہ گلی میں جابہ جا منصور اور دار کے حقیقی نظارے ہیں ظالم اپنی انتہاء پر پہنچ چکا ہے اور انسانیت تہہ تیغ ہورہی ہے تو کیا ہوا کہ حق کی دریافت اور سچائی پڑ مٹنے کیلئے ہمہ وقت فرزندان لواحقین زندگی کے معنی بدل چکے ہیں۔

انہوں کہ تاریخ کے کسی موڑ پر جب فرد کی کردار کچھ زیادہ ہی نکھر کر سامنے آتی ہے تو ایسے نظاروں پر خود تاریخ بھی انگشت بدندان رہ جاتی ہے کہ قطار در قطار نوجوان بے حرص اور بے خوف ایک ہاتھ پر سر اور دوسرے پر جگر لیے بازیابی کی دیوتا کے حضور اپنی لہو سے دیپ جلائے جارہے ہیں۔