معاشرتی علوم سے مطالعہ پاکستان تک – قندیل بلوچ

92

معاشرتی علوم سے مطالعہ پاکستان تک

تحریر: قندیل بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

َ پرائمری سکول کے زمانے میں چوتھی جماعت میں ہمیں دو مضمون اضافی ملے، مضامین میں سے ایک معاشرتی علوم اور ایک اسلامیات تھا ۔معاشرتی علوم کے مضمون میں معاشرے کے بارے میں مثبت اور منفی تبدیلی کے متعلق موضوعات تھے۔

اسلامیات میں اسلام کے بارے میں مطالعہ کرنے کا موضوع تھا، معاشرتی علوم پڑھا تو اس میں بہت سے اسباق تھے جو معاشرے کے مثبت اور منفی اثرات کے بارے ہمیں پڑھنے کو ملتے تھے اس میں آب ہوا ،موسم ، بارش ،زمیں میں حیوانات درخت اور جنگلات کے بارے میں اسباق تھے ۔

مضمون میں کچھ ایسے اسباق پڑھنےکو ملتے تھے اور ہمیں یہ سکھاتے تھے کہ جنگلات اور درخت انسانی زندگی اور اسکے صحت کےلئے بے حد اہم ہیں، جہاں جنگلات اور درخت ہونگے وہاں کا موسم اچھا رہتا ہے اور انسانی زندگی کیلئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

درختوں کی وجہ سے بارش بھی کثرت سے ہونگے ،جنگلی حیوانات بھی جنگل میں اچھی نشونما پاکر ناپید ہونے سے بچ جاتے ہیں ۔جس علاقے میں جنگل ہونگے جنگل کی جھاڑیاں اور پیڑ انسانی بیماریوں کو کنٹرول کریں گے، جس سے انسان محفوظ ہو جاتے ہیں۔

بنجر اور ریتلی زمیںنوں پر اگر درخت لگا دیا جائے، وہ ریت کے ذرے کو مٹی میں تبدیل کرکے زمین کو زرخیز کرتی ہیں، بارش کے پانی اور سیلاب کے وقت جس زمیں پر درخت موجود ہوں تو اس زمین کی مٹی بارش کے پانی کے ساتھ بہنے سے بچ جاتی ھے زمیں سیم تھور اور ناقابل کاشت ہونے سے محفوظ رہتا ہے اسی لئے حکومت پاکستان درخت لگانے اور ناقابل کاشت زمینوں کو کاشت کے قابل بنانے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتا ہے ۔

۔ ایسی بہت سی اسباق مجھے معاشرتی علوم میں پڑھنے اور سیکھنے کو ملیں، وہ معاشرتی علوم مڈل پاس ہونے کے بعد مطالعہ پاکستان میں تبدیل ہوا ۔مطالعہ پاکستان میں پاکستان کے تمام غلام اقوم اور آزاد پنجابی کی ثقافت رہن سہن کے طریقے اور معاشروں کے بارے میں بہت سے موضوع اور اسباق تھے ۔ہر سبق پڑھ کر زہن نشین کرلیتا مجبوری تھا یہ علم نہیں بلکہ ایک جھوٹی کہانی پر مبنی ایک کتاب تھا۔

دوسرا مضمون اسلامیات تھا اسلامیات کے مضمون میں اسلام کے بارے میں مطالعہ کرکے استاد ہمیں ترجمہ اپنی زبان میں سمجھا دیتا تھا سیرت انبیاء کے تمام حالات اور واقعات کے بیان تھے۔

کچھ اس طرح کے بھی سبق اور جملے پڑھنے کو ملتےتھے کہ درخت اور حیوانات اللہ کی مخلوقات ہیں، انہیں اللہ تعالٰی نے انسانوں کی حفاظت اور زندگی کے دوسرے ضرورتوں کے لئے بنایا ہے ۔جس طرح قتل گناہ ہے اسی طرح درخت کاٹنا جنگلات کو بِلا وجہ جلا دینا قتل سے کم نہیں اور چوری ،قتل ،رشوت۔کسی کی سرزمیں پر قبضہ کرنا انسانی نسل کشی ،فرقہ واریت کو فروغ دینا ، کسی بے گناہ کو قتل کرنا، مردہ انسان یاکہ کسی شہید کی لاش کی بے حرمتی کرنا،گناہ گار تک رسائی نہ پہنچے سے بے گناہ کو سزا دینا منع ہے۔

میٹرک تک یہی مضمون کو پڑھتے رہے، جو سبق ہم پڑھتے تھے ہم عمل کرنا بھی شروع کرتے، جو کتابوں میں ھے وہی ہونا چاہئیے ۔ہمیں کوئی کچھ پوچھتا تھا ہم کتابوں کی باتیں بتاتے تھے۔

یہ سب بچپن میں پڑھ کر جوان ہوئے ہوش سنبھالا تو دیکھا، پاکستان میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے، جو کتابوں میں ھے ۔پاکستانی نصابوں میں یہ ضرور لکھے ہوئے پڑھنے کو ملتا ہے ۔رشوت ،بے گناہ کو شہید کرکے لاش کی بے حرمتی کرنا ،مظلوموں پر ظلم کرنا ،بے گناہ پر تشدد کرکے سالوں سال اسے نظر بند رکھنا، مظلوم قوموں کی مال دولت کو لوٹ کھسوٹ کرنا گناہ ھے ۔ ایک بھائی کے قصور میں دوسرے بھائی کو سزا دینا، اسلامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

لیکن دوسری طرف انہی نصابوں میں انسانیت اور اسلام کے دعوے دار ہمیں جو پڑھانے کے لئے دیتے تھے، دوسری طرف خود ایسی سرگرمیوں میں وردی میں ملبوس ہوکر ملوث دکھائی دیتے ہیں۔

اب سے کچھ دن پہلے کی بات ہے، بلوچستان کے علاقے دشت میں پاکستان فوج نے ایک ہزار ایکڑ کھجور کے باغات کو جلادیا، اس باغ میں لاکھوں جانور آگ میں جل گئے ۔ ہزاروں کہ تعداد درخت جل کر راکھ ہوگئے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہوگئی، تو میرےاوساں خطا ہوگئے کہ اس ملک میں ہم جب کتابوں میں پڑھ کر یہ سنتے ہیں کہ درخت انسانی زندگی کی محافظ ہیں جانوروں کے گھر ہیں درخت کو کاٹنا جلانا قتل سے بھی بڑھ کرہے،معاشرتی علوم میں کہتے تھے کہ درخت زمین اور انسان کے محافظ ہیں، درختوں اور جنگلات کے بارے میں ہمارے اسکولوں کے نصابوں میں کچھ اور پڑھنے کو پیش کرتے ہیں۔

دوسری طرف اسلامیات میں پڑھنےکو یہ ملتا تھا کہ درخت کاٹنا جلانا ایک سنگیں جرم اور ایک سنگین گناہ ہے۔

تعلیم سے فارغ ہوکر جب میں باہر ملک گیا تھا، روڈوں کے کنارے درخت لگے ہوئے تھے درختوں کی حفاظت کے لئے رکھوالے رکھے ہوئے تھے وہ درختوں کو پانی دیتے تھے ۔ریتیلی زمینوں میں درخت لگاکر کاشت کے قابل بنائے گئے تھے ۔

پنجاب میں روڈوں کے کنارے درخت لگا کر پانی دیتے ہیں ہزاروں مالی نگہبانی کے لئے رکھ گئے ہیں۔لیکن بلوچستان میں اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے نصابوں کی باتیں ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔

کچھ عرصے سے پاکستان ہی کے سکولوں میں مضمون کے معالعہ شدہ علم اور بلوچستان میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں سے جنگلات کو جلا دینا۔ آج یہ معلوم ہوا، ساری کتابیں محض افسانوں تک محدود ہیں، یہ سمجھآ گیا کہ یہ ہمیں ایسے درس دیتے ہیں جو انہی کے لئے فائدہ مند ہو ۔

سیکھنے کے لئے اور ہمیں کرنے کے لیے کچھ اور کہتے ہیں لیکن خود کچھ اور کرتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔