فتح؛ فتحیاب ہوگیا – زہرہ جہان

122

فتح؛ فتحیاب ہوگیا

تحریر: زہرہ جہان

دی بلوچستان پوسٹ

پرکشش بڑی بڑی نشیلی آنکھیں جن میں ڈوبنے سے شاید ہی کوئی دیکھنے والا بچ جاۓ، بالاد ایسی کہ سامنے آماچ, راسکوہ و چلتن بھی چھوٹے پڑ جانے پر رشک کریں. روشن پیشانی ایسے پھیلا ہوا جیسے سورج کی روشنی. بال اور داڑھی ہر نقش میں چہرے پہ ایسے جچتے جیسے انکی خوبصورتی و دلکشی بس اسی چہرے میں پنہاں ہے. سینہ اتنا چوڑا اور سخت کہ کوئی دیکھے تو بس دیکھتا ہی رہ جاۓ.

بہادر ایسے کہ بہادری کا صفت موصوف کے سامنے پھیکا پڑ جاۓ. جوشیلے ایسے جیسے آگ کا دریا. غصے اور قہر کا یہ عالم کہ پتھر بھی کانپ اٹھیں، جب گرج دار آواز میں دشمن کو ہکل دے تو صرف آواز ہی دشمن کو زمین بوس ہونے یعنی گٹھنے ٹیکنے پہ مجبور کردے. جہاں غصہ بے کمال وہاں مہر و محبت بھی بے مثال. پیارے اور پیار اتنے کرنے والے جس کا محبت لفظ ہی قرض دار ہوجاۓ. جب پیار سے بولے تو کانوں میں آواز گونجتا ہی رہۓ اور دل و دماغ کو تسکین ملتی ہی رہے.انکا انداز بیاں کی بات ہی کیاں کروں وہ تو بس دل, دماغ, روح و جان میں گھر ہی کرجاۓ. وطن کے عاشق ایسے جنکی داستان سن کر دنیاۓ عشق کے مشہور و معروف کردار و قصے ہوا میں اڑ جائیں. شخصیت ایسی جسکے تعظیم و تکریم میں الفاظ سر جکھائیں، کردار ایسی جسکو بیان کرنے سے پہلے خیالات سجدہ ریز ہوجائیں، عقیدت میں.

آپ سوچ رہے ہونگے کہ کون ہوگا یہ مہان انسان جسکے وجود کا ہر پہلو خدا کی قدرت و فطرت کا جیتا جاگتا تصویر لگتا ہے. کون ہونگے یہ مہان انسان جنکے تکریم و تعریف پڑھنے سے دل نہیں بھرتا. کون ہونگے یہ مہان انسان جنکے تعظیم و احترام میں الفاظ سر جھکائیں اور خیالات سجدہ ریز ہوجائیں۔ کون ہے یہ مہان انسان جسکی دلکشی و خوبصورتی کا گن ہر دیکھنے والا گائے. کون ہے یہ مہان انسان جنکے عشق کی داستان عشق کی دنیا کو ہی تبدیل کردے. کون ہے یہ مہان انسان جنکے بہادری و ہمت کو بہادری کا لفظ ہی سلامی دے. کون ہے یہ مہان انسان جو وفاداری و سنگتی کا خوبصورت ترین چیدہ کہلایا جاۓ.کون ہے یہ مہان انسان جن کو خوبصورت بلوچستان کے ایک خوبصورت ترین عہد سے یاد کیا جاۓ.

یہ مہان انسان ہے شہید چیئرمین فتح جان کمبرانی، شہید چیئرمین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کوئٹہ کے ایک بہت ہی ریئس خاندان سے تعلق رکھتے تھے. انکو عہد ء حاضر کا تقریباً ہر سہولت میسر تھا گھر میں. وہ ایک خوشحال و خوشنام گھرانے کے چراغ تھےلیکن ان کو اپنے نام کا لاج رکھنا تھا. انہیں اس نام کو اور اس نام سے جڑے کردار کو یادگار بنانا تھا. اس نام کو اسکے حقیقی معنوں میں ڈھالنا تھا.اس نام کے ساتھ انصاف کرنا تھا، جیسا انہوں نے نام پایا تھا ویسا ہی انہیں فطرت ملا تھا قدرت کی طرف سے. وہ فتح کے نام سے آۓ تھے صرف اور صرف فاتح بن کر جانے کے لیۓ اور دل و بولان یعنی بلوچستان فتح کرکے گئے۔ اسی لیۓ انہوں نے صرف خاندان و گھر کا چشم و چراغ بننے کی بجاۓ اپنے بزگ و بے وس قوم کے لیۓ چراغ کے مانند جلنے اور روشنی پھیلانے کا فیصلہ کیا.

انکا یہ فیصلہ صرف ان کے لیۓ قابل مسرت و قابل فخر نہیں تھا کہ وہ ایک غلام سماج میں آزاد زندگی گزارنے والوں کے کاروان میں شامل ہوا تھا بلکہ انکے اس فیصلے نے اور کئی نوجوانوں کو آجوئی کا چراغ بننے میں ایک مشعل راہ کی حیثیت سے راستہ دکھلایا…

وہ ایک چراغ تھے جو جلے تو بس جلتے ہی رہے اور ایسے جلے کے ان کے جانے کے بعد آج بھی سنگت انکے افکار و کردار کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں.

انکے شہادت کے بعد ایک ویڈیو منظر عام پہ آئی تھی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ جگہ جہاں ایک دوست زخمی لیٹے ہوۓ پورے سکون و اطمینان کے ساتھ باتیں کر رہا ہے اور دوسرا دوست انکی مرہم پٹی کررہا ہے… بقول انکے ہمسفر و قریبی ساتھی جمعہ بولانی کے اس حملے میں شہید چیئرمین کو لگنے والے زخم بہت ہی گہرے اور غیر معولی نوعیت کے تھے. وہ ایسے حالت میں تھے جس میں کوئی عام آدمی چلنے پھرنے کیا بیٹھنے کی بھی سکت نہیں رکھتا ہے. لیکن یہ تو چیئرمین تھے بہادری و ہمت کے پیامبر. پاؤں میں گولی لگنے کے باجود رات کے اندھیرے میں کٹھن و سنگلاخ پہاڑوں کے تلاروں میں پوری رات صرف لکڑی کے سہارے دوستوں کے ساتھ پیدل سفر کرتے رہے اور اگلے دن صبح 11 بجے کے قریب محفوظ مقام پہ پہنچ گئے. تو یہ ایک سوچنے اور تہہ دل و دماغ سے غور و فکر کرنے والی بات ہے کہ ایک عام آدمی میں اتنی ہمت و طاقت کیسے ہوسکتا ہے کہ شدید زخمی ہونے کے باجود 14-15 گھنٹے لگاتار سفر کرے وہ بھی زخمی پاؤں کے ساتھ پیدل.

یقیناً چیئرمین ایک غیر معمولی نوعیت کا گوریلا سپاہی واقع ہوا تھا جنکے بلند حوصلوں کے لیۓ کوئی تشبیہہ و استعارہ اب تک نہیں بنا ہے اردو ادب میں.

انکے حوصلوں کی اوڑان اور جوش و جلال کا شاید ہی کوئی ثانی ہو. وہ تو بس تیز رفتار براق کے شکل میں ایک شہباز تھا جو لپٹتا پلٹتا اور دشمن کو نیست و نابود کرکے دم لیتا.

چیئرمین جہاں بھی جاتا وہ جگہ فتح کرکے میدان لوٹ کے ہی آتا. شہادت سے کچھ ہی مہینے پہلے بی ایل اے نے شاہرگ, ہرنائی کے مقام پہ واقع فوجی چیک پوسٹ پہ قبضہ کیا تھا. جس کے بعد تصاویر اور ویڈیو بھی عوامالناس تک پہنچائی گئی تھیں، سوشل میڈیا کے توسط سے. اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پھرتی و چالاکی سے شہید چیئرمین دشمن کے مورچے میں پہنچتا ہے اور لڑنے لگتا ہے.انکی حکمت عملی و ہمت کو دیکھ کر تو دنیا ء جنگ کے نامور چالباز بھی شاید دنگ رہ جاۓ. آخر میں مورچہ پہ قبضہ کرنے اور دشمن کو مات دینے یعنی ناکوں چنے چبوانے کے بعد جو تاریخی وکٹری (جیت) والا نشان بنا کر جو تصویر کھنچوایا تھا شہید چیرمین نے وہ قابل دید ہے.

اس تصویر پہ اگر غور کریں تو پتہ چلیگا کہ چیرمین کا ہشاش بشاش چہرہ, چمکتی آنکھیں اور ہوا میں لہراتے بال اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہی ہے فتح جو صرف اور صرف فتحیاب ہونے اور سرخرو ہونے کے لیۓ پیدا ہوا تھا. جسکی زانت و سرشت میں زوال اور ہار لکھا ہی نہیں گیا تھا.

وہ فتح پورے بلوچستان یعنی چلتن و شاشان, کاہان و بولان, حب و مکران, گوادر و خاران سب میں سب کچھ فتح کرگیا. اس دھرتی کے گواڑخ و لال کو آزاد و آسرات کرانے کے لیۓ اپنا فرض ادا کرکے اور قرض اتار کے یہاں بسنے والے تمام ذی روح و بے جان کو اپنا قرضدار کرکے چلے گئے.

20 اکتوبر 2018 کو دشمن کے ساتھ دو بدو ہونے والے جھڑپ میں چیرمین اس فانی دنیا میں شہادت کا عظیم رتبہ پاکر لافانی اور امر ہوگئے. آخری جنگ کا بھی قصہ دوست کچھ یوں بتاتے ہے کہ اچانک ہونے والے حملے میں چیئرمین اور باقی دوست دشمن کے نرغے میں آگئے تھے. چیہرمین دشمن کے نرغے سے نکلنے میں کامیاب بھی ہوۓ تھے لیکن باقی دوستوں کو صحیح سلامت نکالنے اور محفوظ جگہ پہنچانے کی خاطر وہ پھر سے واپس آگئے تھے. باقی دوستوں کو صحیح سلامت نکالنے کے تگ و دو میں وہ زخمی ہوگئے تھے. بس پھر کیا تھا دوستوں کو بچاتے بچاتے وہ خود فنا ہوۓ یعنی فدا ہوۓ اور وفاداری و سخاوت کا بے پایا مثال بن گئے۔

اس دھرتی ماں بلوچستان کے لیۓ فدا ہونے والے باقی تمام فرزندوں کی طرح چیئرمین نے بھی وہ کارنامہ سر انجام دیا جو گمان و بیان دونوں سے باہر ہے. چیرمین فتح جیسے بہادر, جانباز, اور مخلص دوستوں کی وجہ سے تحریک تند و توانائی کے ساتھ آجوئی کے قریب ہوتا جارہا ہے.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔