حزب اختلاف کا طاقت کا مظاہرہ اور لاپتہ افراد – ٹی بی پی اداریہ

94

حزب اختلاف کا طاقت کا مظاہرہ اور لاپتہ افراد
ٹی بی پی اداریہ

اتوار کے روز پاکستان کے حزب اختلاف کے اہم جماعتوں نے کوئٹہ میں وفاقی حکومت کیخلاف اپنے طاقت کا مظاہرہ کیا۔ یہ حکومت مخالف گیارہ جماعتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا تیسرا جلسہ تھا۔ گذشتہ دو جلسوں کی طرح کوئٹہ جلسے میں بھی ان جماعتوں کے کارکنوں و حمایتیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

بہر حال طاقت کے اس مظاہرے کا بلوچستان میں اہمیت مختلف ہے، جہاں سیاست زمین سے مکمل غائب ہوچکی ہے۔ کوئٹہ میں ہونے والے جلسے کی اہم بات بلوچ لاپتہ افراد کا مسئلہ تھا، جس کی گونج تمام سیاسی رہنماوں کے تقریروں میں سنائی دے رہی تھی۔

بی این پی مینگل کے رہنما اختر مینگل جو اس سے پہلے بھی جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر کافی متحرک نظر آتے رہے ہیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے منتظر ہیں۔ پاکستانی فوج اور اسٹبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ہمارے بچوں کو قتل کیا جارہا ہے، ہمارے گھر خالی ہیں، کیا اسی لیئے اس ملک کو بنایا گیا تھا؟”

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی لاپتہ افراد کے مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو تب تک جدید جمہوریت نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں کیا جاتا۔

لیکن جلسے میں سب سے دلچسپ امر پنجاب کے سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کی کڑی تنقید تھی۔ انہوں نے کہا ” مجھے بلوچوں کے مسئلے سے آگاہی ہے، لاپتہ افراد کا مسئلہ ابتک موجود ہے، میں جب کسی ظلم کے شکار کو دیکھتا ہوں تو اسکا درد محسوس کرتا ہوں۔”

انکی صاحبزادی اور پی ایم ایل این کے نائب صدر مریم نواز نے ایک قدم آگے بڑھ کر لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو اسٹیج پر گلے لگایا اور پرجوش طریقے سے لاپتہ بلوچوں کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ تمام لاپتہ افراد کو بحفاظت بازیاب کیا جائے۔ جلسے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ” میرے والد کی گرفتاری، اور والدہ کے انتقال نے میرے آنکھوں میں آنسو نہیں لائے لیکن حسیبہ قمبرانی کی بھائیوں کی گمشدگی کی کہانی میرے آنکھوں میں آنسو لے آئی۔”

اس جلسے سے کچھ لاپتہ افراد کے اہلخانہ خوش نظر آئے کہ انکے نظر انداز مسئلے پر کچھ روشنی پڑی جبکہ کچھ، سیاسی جماعتوں کے کیئے وعدوں پر یقین کرنے سے ہچکچاتے نظر آئے۔

بلوچستان میں مبینہ طور پر پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جاری جبری گمشدگیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ جبری گمشدگیوں کا پہلے کیس 2001 میں سامنے آیا۔ اسکے بعد ہر گذرتے سال کے بعد لاپتہ افراد کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوتا گیا۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق ابتک چالیس ہزار سے زائد بلوچ لاپتہ کیئے گئے ہیں، جنکے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں حکومت قائم کرچکے ہیں۔ دونوں جماعت اپنے دور حکومتوں میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے میں مکمل ناکام نظر آئے ہیں۔ حتیٰ کہ بدنام زمانہ “مارو اور پھینکو” پالیسی کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں شروع کی گئی تھی۔ مسلم لیگ ن کے دور حکومت کے دوران بھی ہزاروں بلوچوں کو جبری گمشدگی کا شکار کیا گیا۔

کوئٹہ جلسے میں کیئے گئے دعویں اور وعدے شاید اگلے مدت کیلئے اسلام آباد میں حکومت حاصل کرنے کے ان جماعتوں کے ایجنڈے کیلئے سود مند ہو، لیکن بلوچستان میں کوئی ان دعووں اور وعدوں پر زیادہ بھروسہ نہیں کررہا۔ بلوچستان عملی طور پر فوج اور خفیہ اداروں کے زیر کنٹرول چل رہی ہے اور اسلام آباد میں جو بھی حکومت قائم کرے، وہ ان قوتوں سے مقابلہ کرنے سے خوفزدہ رہتا ہے۔

محسن داوڑ کو بلوچستان سے ڈیپورٹ کرنا اس امر کا کھلا اظہار ہے کہ بلوچستان میں ان خفیہ قوتوں کو کتنا کنٹرول حاصل ہے۔ رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ مومنٹ کے رہنما محسن داوڑ کو بھی پی ڈی ایم کے اس جلسے سے خطاب کرنا تھا، لیکن کوئٹہ پہنچنے پر انہیں ائیرپورٹ پر ہی روک لیا گیا۔ انہیں حکام نے گرفتار کرکے بلوچستان سے ڈیپورٹ کردیا اور دوبارہ بلوچستان میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔

جب بلوچستان میں ایک حاضر رکن قومی اسمبلی کیساتھ پوری میڈیا کے سامنے یہ سلوک کیا جاسکتا ہے تو پھر اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عمومی طور پر بلوچستان میں کیا ہوتا ہے جہاں ان قوتوں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔