بلوچ طلباء کا اسلام آباد لانگ مارچ – ریاض بلوچ

48

بلوچ طلباء کا اسلام آباد لانگ مارچ

تحریر : ریاض بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

پنجاب کے شہر ملتان کے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے ٢٨ بلوچ طلباء اپنے جائز بنیادی تعلیمی حقوق کے حصول کیلئے اب بوقت تحریر پانچویں دن سے ملتان تا اسلام آباد براستہ لاہور ٧٢٠ کلومیٹر طویل پیدل لانگ مارچ کے سفر میں جانب منزل رواں دواں ہیں اور آج کے اطلاعات کے مطابق تقریباً ١٥٠ کلومیٹر کا پیدل رستہ طے کرکے چیچہ وطنی پہنچ چکے ہیں –
رستے میں ایک ساتھ سڑک حادثے میں دو طلباء زخمی بھی ہوئے تھے- مسلسل پیدل چلنے کیوجہ سے انکے پاؤں میں چھالے پڑ گئے ہیں، جسمانی حوالے سے تھکے ہوئے ضرور ہوں گے مگر انکے چہرے پہ امید اور حوصلہ دیکھا جا سکتا ہے –

یہ طلباء پچھلے چالیس دنوں سے بلوچستان کے طلباء کیلئے مختص کردہ سیٹوں اور اسکالرشپ کی بحالی کیلئے ملتان اپنے یونیورسٹی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیئے بیٹھے رہے ہیں، لیکن آج تک کسی صوبائی یا وفاقی نمائندے نے ان سے ملنا یا انکے مطالبات ماننا تو دور کی بات ہے سننا تک گوارا نہیں کیا –

٢٠١٠ اور ٢٠١١ کی بات ہے جب بلوچستان میں ریاستی رٹ تقریباً ناکام ہو چکی تھی اور ریاست “ناراض بلوچیوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے ” والا راگ الاپ رہا تھا، تب غالباً ٢٠١١ میں جا کے “آغازِ حقوق بلوچستان” کے نام سے ایک ڈرامہ رچایا گیا، اسی ڈرامے کی ایک سیریل میں یہ سکرپٹ بھی شامل تھا کہ “جی اب ہم دشمن کے بچوں کو پڑھائیں گے، انکے تعلیمی خرچے اٹھائیں گے” تو پنجاب کے کچھ تعلیمی اداروں میں بلوچستان کے طلباء کیلئے چند ڈیپارٹمنٹس میں کچھ ایک آدھ ریزور سیٹس کا اعلان کیا گیا اور انہیں اسکالرشپس دینے کا بھی اعلان کیا گیا-

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب دشمن کے کچھ بچے پڑھنے لگے، تو یہ ان اداروں اور ریاست پہ بوجھ بننے لگے، کیوںکہ یہاں کچھ طلباء تو خیراتی پیکج میں پڑھ رہے تھے لیکن وہاں بلوچستان میں قومی حقوق کیلئے جاری جدوجہد تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا – اور یہ بلوچ طلباء بھی قومی دھارے کے اس سانچے میں شاید ٹھیک سے نہیں ڈھل رہے تھے جو ریاست نے اپنے مضموم اور مبارک ہاتھوں سے بنایا تھا – وہ اس غلط فہمی میں تھے کہ انکو چار سیٹس کے نام پہ خیرات میں جو حقوق بلوچستان مل گیا تو اب یہ کیوں بلوچستان بلوچستان کرنا نہیں چھوڑتے؟ اپنے دھرتی بلوچستان سے عشق کا ناطہ کیوں نہیں توڑ رہے ہیں؟ بلوچستان میں ریاستی جبر کے خلاف خاموشی کیوں نہیں اختیار کرتے ہیں؟

تب انہوں نے فیصلہ کیا کہ جب بلوچ اپنے قومی حقوق کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہو رہے ہیں تو ہم ان دشمن کے بچوں کو پڑھا کر اپنا مزید نقصان کیوں کریں؟ پہلے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں اور اب ملتان میں ریزرو سیٹس ختم کر دیئے گئے، جب طلباء نے متعلقہ یونیورسٹیوں سے رجوع کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کی جانب مختص کردہ سیٹس پہ اسکالرشپس کے فنڈ بند کر دیئے گئے ہیں، جبکہ بلوچستان اور پنجاب کی صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت سے اس حوالے میں کوئی مثبت بیان سامنے نہیں آیا –

پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بلوچ طلباء کے ساتھ جو ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے اس سے ہم بخوبی واقف ہیں ، میں خود پنجاب یونیورسٹی میں اپنے گریجویشن کے چار سال گذار چکا ہوں – ٢٠١٠ سے آگے کی بات کریں تو پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں مختلف ادوار میں بلوچ طلباء کو ہمیشہ تعصب اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے- ٢٠١٠ میں ساہیوال کے ایک ٹیکنیکل کالج میں ایک دہشت گرد طلباء تنظیم نے بلوچ طلباء پر حملہ کیا اور انہیں شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا، زخمیوں میں میرا اپنا ایک کزن بھی شامل تھا، ٹھیک ایک سال بعد ملتان میں بھی اسی تنظیم کے ہی کارکنوں نے ایک دفعہ پھر بلوچ طلباء پہ رات کی تاریکی میں حملہ کیا تھا اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا –

٢٠١٧ میں اسلام آباد کے قائد اعظم یونیورسٹی میں بلوچ اور پشتون طلباء پہ دو دفعہ جان لیوا حملے کئے گئے. ان تمام حملوں اور واقعات کی پوری تفاصیل آپ کسی بھی میڈیا ہاؤس سے نکال سکتے ہیں – ان تمام حملوں کا واضح مقصد اور پیغام بلوچ طلباء کو ان تعلیمی اداروں سے بیدخل کرنا تھا اور انہیں تعلیم سے ہمیشہ کیلئے دور رکھنا تھا –

پھر کہتے ہیں کہ جی یہ بلوچی لوگ دہشت گرد ہیں، یہ شدت پسند ہیں – اپنے نصابی کتابوں میں بچوں کو بلوچ کی تعریف میں پڑھاتے ہیں کہ یہ ایک وحش اور لڑاکو قوم ہے –

کیا یہ بلوچ طلباء ان تعلیمی اداروں میں اسلحے لے کے آئے ہیں؟ یا آج اسلحہ اٹھا کر لانگ مارچ کر رہے ہیں؟ یا کسی بڑے خطرناک سیاسی مطالبے کو لیکر نکلے ہیں؟ یہ ریاستی قائم کردہ قوانین اور آئین کے عین مطابق اپنے بنیادی تعلیمی حقوق کے حصول کیلئے نکلے ہیں- یہ اپنے مستقبل کو بچانے نکلے ہیں- وفاق پاکستان کے سینیٹ یا قومی اسمبلی میں سیٹس مانگنے نہیں نکلے ہیں، یہ کسی میگا پروجیکٹ میں حصہ مانگنے نہیں نکلے ہیں – حقوقِ بلوچستان کے نام پر خیرات میں دیے گئے تعلیمی اداروں میں محض چار ریزرو سیٹس کی بحالی کیلئے نکلے ہیں – جس ریاست کو بلوچ طلباء کیلئے اپنے تعلیمی اداروں میں مختص کردہ چار سیٹس دینا گوارا نہیں تو ریاست یہ بھی اچھی طرح سے ذہن نشین کر لے کہ بلوچ اپنے بنیادی قومی حق کے حصول سے کبھی دستبردار نہیں ہو سکتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔