امریکا کا معاہدے کے بعد طالبان کے خلاف پہلا فضائی حملہ

112
لشکرگاہ

لشکر گاہ: امریکی حکام نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان کے فضائی حملے کیے گئے جو بڑے پیمانے پر جنگجوؤں کی جانب سے اہم صوبائی دار الحکومت کے قریب موجود فوجی اڈوں پر قبضہ کرنے کے بعد سامنے آیا۔

واضح رہے کہ یہ حملے گذشتہ 2 دنوں میں کیے گئے تھے جو غیر ملکی افواج کے انخلا سے متعلق امریکا اور طالبان کے درمیان فروری میں ہونے والے معاہدے کے بعد ایک غیر معمولی مداخلت ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا اس معاہدے کے ذریعے عسکریت پسند گروہ کی جانب سے سیکیورٹی ضمانت ملنے کے بعد افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہونا ہے اور کابل انتظامیہ کے ساتھ بیٹھ کر اس دہائیوں سے جاری جنگ کا پُرامن طور پر حل تلاش کرنا ہے۔

علاوہ ازیں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کے کچھ ادوار کے باجود یہ لڑائی جاری ہے۔

مزید یہ کہ گذشتہ 2 دنوں میں سیکڑوں طالبان نے ہلمند میں موجود سیکیورٹی چیک پوائنٹس پر حملہ کیا اور صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ کے اہم مضافاتی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔

دوسری جانب امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ امریکا کے فضائی حملے ’امریکا اور طالبان معاہدے‘ کا تسلسل ہی ہیں جس کے ذریعے افغان سیکیورٹی فورسز کو دفاعی تحفظ فراہم کیا جاتا رہے گا۔

کرنل سونی لیگیٹ نے افغانستان میں غیر ملکی افواج کے کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر کے بیان کو دہراتے ہوئے طالبان سے فوری طور پر ہلمند میں حملے روکنے کا مطالبہ کیا جبکہ انہوں نے اسے ’امریکا-طالبان معاہدے سے متصادم اور افغان امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والا‘ قرار دیا۔

ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ قبضہ کیے جانے والے علاقوں کا کنٹرول پہلے ہی حاصل کرلیا گیا تھا جبکہ ’کوئی نئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے‘۔

مزید یہ کہ ہلمند پولیس کے چیف جنرل خلیل الرحمٰن نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہلاکتوں کو روکنے کے لیے مدبرانہ حکمت عملی بنائی گئی ہے جبکہ آرڈر کے بحال ہونے پرسیکیورٹی جلد بحال ہوجائے گی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کی فضائیہ کے فضائی حملوں سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں 170 عسکریت پسند مارے گئے۔