کورونا کی دوسری لہر: انگلینڈ میں دوبارہ سخت پابندیاں نافذ

65

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کورونا کی دوسری لہر پر قابو پانے کے لیے  انگلینڈ میں سخت پابندیوں کا اعلان کردیا۔

برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ہم کورونا وائرس کی صورت حال کے خطرناک موڑ پر پہنچ چکے ہیں، اگر اقدامات نہ کیے تو یومیہ اموات سیکڑوں تک جاسکتی ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جمعرات سے شروع ہونے والی نئی پابندیوں کے دوران اسکول اور جامعات کھلی رہیں گی، اور کاروبار بھی مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھولے جاسکتے ہیں، دکانوں اور مارکیٹوں میں عملے اور خریداروں کو ماسک پہننا لازم ہوگا اور شادیوں میں 15 سے زیادہ افراد شریک نہیں ہوسکیں گے جب کہ جنازے میں بھی محدود افراد شریک ہوسکیں گے۔

 ان کا کہنا تھا کہ جمعرات سے ریستوران اور بار رات 10 بجے بند کر دیے جائیں گے،  صورت حال بہتر نہ ہوسکی تو پابندیاں 6 ماہ تک جاری رہ سکتی ہیں اور ضرورت پڑی تو پابندیوں میں مزید سختی بھی کی جاسکتی ہے تاہم یہ مارچ کی طرح کا مکمل لاک ڈاؤن نہیں ہوگا جس میں لوگوں کو گھروں میں بیٹھنے کو کہا جائے۔

انہوں نے اپیل کی کہ اس دوران جو لوگ گھروں سے کام کرسکتے ہیں وہ گھروں سے ہی کام کریں۔

 بورس جانسن کا کہنا تھا کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ لگایا جائے گا اور پہلی بار خلاف ورزی پر ہی 200 پاؤنڈ تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

اپنے خطاب میں برطانوی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ وہ اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے جس کے بعد  ایسے ہی اقدامات پورے برطانیہ میں کیے جائیں گے۔

 خیال رہے کہ برطانیہ میں منگل کو کورونا کے 4 ہزار 926 کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 37 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ملک میں کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے شمال مشرقی علاقوں میں نئی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں جب کہ برطانیہ کی 65 ملین کی آبادی میں اب بھی 11 ملین سے زائد افراد مقامی طور پر نافذ کی گئی پابندیوں کا سامنا کررہے ہیں۔

برطانیہ میں اب تک کورونا سے مجموعی طور پر 4 لاکھ 3 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جب کہ 41 ہزار 825 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔