کراچی میں جبری گمشدگیوں کیخلاف احتجاج

73

وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ، سندھ سجاگی فورم اور بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین نے مظاہرے میں شرکت کی۔

سندھ کے مرکزی شہر کراچی میں پریس کلب کے سامنے جیئے سندھ تحریک (صفدر سرکی) کی جانب سے جبری طور پر لاپتہ کیئے گئے جیئے سندھ تحریک کے رہنماء سید مسعود شاہ، جبار سرکی، لالا عمران سندھی، بشیر شر، غلام رسول شر، شاہد ایڈوکیٹ محب آزاد لغاری سمیت سندھ بھر سے جبری لاپتہ کیئے گئے کارکنان کی آزادی کے لیے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

مظاہرے کی رہنمائی جیئے سندھ تحریک کے رہنماء مختیار سومرو، وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کے رہنماء سورٹھ لوہار، سندھ سجاگی فورم کے رہنماء سارنگ جویو او سہنی جویو، نامور سندھی ادیب تاج جویو، جیئے سندھ تحریک (کرنانی) کے رہنماء سورھیہ سندھی، بلوچ ایکوسٹ ہانی بلوچ و دیگر نے کی۔

احتجاج میں انسانی حقوق کے لاپتہ کارکن راشد حسین بلوچ، نسیم بلوچ اور دیگر کے لواحقین نے بھی شرکت کی۔

احتجاج میں جیئے سندھ تحریک کے صدر ڈاکٹر صفدر سرکی نے آڈیو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوجی ایجنسیوں کے ہاتھوں جیئے سندھ تحریک کے رہنماء سید مسعود شاہ کی جبری گمشدگی کو آج ایک سال پورا ہوا ہے۔ لیکن ناصرف سید مسعود شاہ، جبار سرکی بلکہ سندھ بھر سے سیکڑوں سندھی کارکنان جبری طور پر لاپتہ کیئے گئے ہیں، جن میں نو عمر معصوم بچے بشیر شر اور غلام رسول شر اور ۸۰ سالہ سید بچل شاہ بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر صفدر سرکی نے مزید کہا کہ سندھ حکومت سندھ کی ساحلی پٹی اور باالخصوص سندھ کے سمندری جزیرے ڈنگی اور بھنڈار کی پنجابی قبضہ آور اور چائنہ سے سودے بازی کرکے بھیج رہی ہے۔ اس سودے بازی پر سندھی قوم شدید مزاحمت کرے گی۔

احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مختیار سومرو، سورٹھ لوہار، تاج جویو، ماہ گنج بلوچ، ہانی بلوچ، ماہ زیب بلوچ اور دیگر نے کہا کہ پاکستانی ایجنسیوں نے ہمارے سینکڑوں کارکنان کو جبری طور اٹھا کر لاپتہ کردیا ہے۔ جس کے خلاف ہماری یہ مشترکہ اور متحد ’مسنگ پرسنز آزادی تحریک‘ جاری رہے گی۔

خیال رہے لاپتہ انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ کی بھتیجی ماہ زیب بلوچ دوران احتجاج بے ہوش ہوگئی۔ اس موقع پر راشد حسین کے لواحقین کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان تاحال راشد حسین کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگی کے شکار دیگر افراد کی طرح راشد حسین کے زندگی کو شدید خطرات لاحق ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے حوصلے کا باعث بن رہی ہے۔