وزیراعلیٰ کا بیان لاپتہ افراد کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے – بی این پی

99
File Photo

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے بلوچ لاپتہ افراد سے متعلق بیان پر افسوس  کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی نظروں میں بلوچستان کے لاپتہ افراد کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ایسے باتوں سے ان کی سنجیدگی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے، ان کا بیان بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف عمل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بی این پی کو بلوچستان بھر میں بھرپور پذیرائی حاصل ہے اتنی بڑی پارٹی کا ان کو نظر نہ آنے سے ہمیں بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اقتدار کی حوس نے ان کی بینائی کو اتنا متاثر کر دیا ہے کہ انہیں بی این پی نظر نہیں آ رہی، صوبائی اسمبلی‘ نیشنل اسمبلی اور سینیٹ میں بی این پی میں سیاسی کردار مثبت ادا کر رہی ہے۔

مزید کہا گیا کہ یقیناً پارٹی مقبولیت اور حیثیت سے اتنے خائف ہیں کہ وہ اب غیر سیاسی ‘ غیر سنجیدہ باتوں پر اتر آئے ہیں ان کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی پارٹی اربوں روپے خرچ کر کے بھی وہ مقبولیت حاصل نہیں کر پا رہی، بی این پی قومی جمہوری نظریاتی بڑی سیاسی قوتوں ہے جو اصولوں پر سیاست کر رہی ہے یقیناً ہم اس بات سے آگاہی رکھتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ موصوف سیاسی مسافر ہیں جو ہر دور میں اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کر کے مختلف لوگوں کے گن گانے سے نہیں کتراتے اصول اور اصولی سیاست سے ان کا ان دور تک لینا دینا نہیں نظریاتی طور پر اتنی نہ پختہ ہیں کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کا مسئلہ ہی نہیں سمجھتے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت ‘ اقتدار ‘ مراعات کو رد کر کے لاپتہ افراد کی بازیابی ‘ گوادر کے عوام کو تحفظ دینے کیلئے قانون سازی ‘ افغان مہاجرین کی باعزت طریقے سے واپسی ‘ بلوچستان کے ساحل وسائل پر حق حاکمیت ‘ بلوچستان میں ڈیمز کے قیام اور وفاق میں بلوچستان کے کوٹہ پر عملدرآمد ‘ کراچی کوئٹہ شاہراہ کو دو رویہ کرنے سے متعلق معاملات پارٹی کے سامنے حیثیت و اہمیت رکھتے تھے۔ آج بلوچستان کے ارباب و اختیار کی جانب سے ایسے غیر سنجیدہ بیان دے کر بلوچ و بلوچستانی عوام کے سامنے ان کے عزائم بے نقاب ہو چکے ہیں عوام کے احساسات و جذبات سے کوئی سروکار نہیں پارٹی کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی اہمیت رکھتی ہے۔

مزید کہا گیا کہ آج یہ امر ثابت ہو گیا ہے کہ مفاد پرست ‘ موقع پرست حکمرانوں کے پاس بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کا کوئی وژن نہیں، نہ ہی بلوچستان کے مسئلے کے حل میں سنجیدہ ہیں۔