صحافت کی آزادی کیلئے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں – محمود خان اچکزئی

126

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان ہمارا ملک جس پر کسی ادارے، جمات یا قوم سے کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائیگا، لوگوں کو وزیراعظم، وزیراعلیٰ یا وزیر بنانا پاکستان کی خدمت نہیں بلکہ ملک چلانے کا واحد راستہ ہر آدمی کی عزت کرنا، تمام اقوام کی برابری اور آئین کی بحالی میں ہے، صحافیوں کے حقوق کیلئے ان کی جدوجہد میں نہ صرف ان کے ساتھ ہیں بلکہ صحافت کی آزادی کیلئے ہر حد تک ان کے ساتھ جانے کو تیار ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اعزاز میں ظہرانہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی و صوبائی ایگزیکٹیو اراکین، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار، جنرل سیکرٹری ناصر زیدی، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر محمد ایوب ترین، لاہور پریس کلب کے صدر اشرف انصاری و دیگر بھی موجود تھے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی انسان سے رنگ، نسل، قوم، زبان، مسلک اور مذہب دیگر بنیادوں پر فاصلے گناہ کبیرہ سمجھتی ہے تمام انسان برابر ہے۔ پاکستان ہمارا ملک اور ایک فیڈریشن ہے اس میں رہنے والے اقوام اپنی اپنی زبانیں بولتے ہیں سب کو آئین ایک دوسرے سے جڑے رکھا ہے جس کے تحت ہم پاکستان کے شہری ہے۔ ہم نے اپنی مٹی سے محبت اور اس کی دفاع کا عہد کیا جب انگریز یہاں حکمرانی کررہے تھے جس کا ذکر صمد خان اچکزئی نے کیا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 1879 میں انگریز نے پشتون علاقوں کو قبضہ کیا تھا اور پھر گندمک میں معاہدہ کے وقت پشین، ژوب، لورالائی، کوئٹہ کے علاوہ زیارت، سنجاوی، دکی، ہرنائی سمیت چاغی، مری و بگٹیوں اور جمالی کا علاقہ شامل کرکے اس علاقے کو برٹش افغانستان کی بجائے برٹش بلوچستان کا نام دیا حالانکہ یہ افغان علاقے تھے انہیں برٹش افغانستان کا نام دینا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ 1929ء میں خان عبدالصمد خان اچکزئی شہید، ان کے بڑے بھائی اور ان کے چچا زاد کو گرفتار کرکے کہا گیا کہ یہ انقلابی پارٹی بنانا چاہتے ہیں، خان شہید نے پشتونوں کیلئے جدوجہد کے علاوہ بلوچوں کی بھی مدد کی، جب میں پانچ ماہ کا تھا اس وقت میرے والد کو گرفتار کیا گیا، میں اور میرے بھائی والدہ کے ساتھ رہتے تھے میں چھ سال کا ہوا تو میرے والد رہا ہوکر گھر آئے جہاں پہلی مرتبہ میں نے اپنے والد کو دیکھا اس کے بعد بھی میرے والد کے ساتھ میری ملاقات اکثر جیل میں ہوا کرتی تھی میرے والد نے قید وبند کی صوبتیں برداشت کیں اس کے باوجود بھی ہم نے کبھی پاکستان مردہ باد کا نعرہ نہیں لگایا۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہو ہم انہیں بہترین ٹینک،جہاز اور لوازمات دیں گے مگر انہیں آئین کے تحت اٹھائے گئے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے سیاست میں مداخلت سے گریز کرنا ہوگا، سینیٹ انتخابات میں ایک ووٹ کے بدلے 70 کروڑ روپے دینے کی افواہیں گردش کرتی رہی ملک کسی ادارے کی ڈکٹیشن پر نہیں چل سکتا ملک کے فیصلے 22 کروڑ عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو کرنے دیا جائے، ہمیں ملک کے تمام ادارے عزیز ہے اس پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا یہ ایجنڈا سب کا ہونا چاہیے، ملک کے تمام ادارے فوج، عدلیہ، پریس سمیت سب کو اپنے حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج بھی ایسے لوگ حکومت میں شامل ہیں جو اپنی زندگی میں کبھی بغیر اقتدار نہیں رہے کبھی انگریز، کبھی ڈکٹیٹر کے ساتھ رہے اور آج بھی عمران خان کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں میں نے اپنی تجویز دی کہ ایسے لوگوں کو کوئی بھی سیاسی پارٹی اپنی جماعت میں شامل نہیں کرینگے بلکہ ان کی سیاست پر تاحیات پابندی لگانی ہوگی اور جمہوریت کیلئے جن لوگوں اور کارکنوں نے قربانیاں، قید وبند کی صوبتیں برداشت کی انہیں ہیرو قرار دیکر ان کے خاندانوں کی مالی مدد کی جائیں اور شہادتیں دینے والوں کو شہداء جمہوریت قراردیا جائے کیونکہ ان لوگوں نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ شپ، ایم پی اے شپ یا سینیٹر شپ کیلئے قربانیاں نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کیلئے ان کی جدوجہد میں نہ صرف ان کے ساتھ ہیں بلکہ صحافت کی آزادی کیلئے ہر حد تک ان کے ساتھ جانے کو تیار ہیں۔