بلوچستان اور سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش ہورہی ہے – نیشنل پارٹی

89

نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس مرکزی صدر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی صدارت میں کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس سے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سمیت دیگر رہنماوں نے خطاب کرتے ہوئے مرحوم میر حاصل خان بزنجو کو قومی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے، پارلیمنٹ کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور قوموں کو برابری کی بنیاد پر سیاسی و معاشی خودمختاری کی جدوجہد میں بھر پور کردار ادا کرنے پر خراج عقیدت پیش کیا۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحل پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قبضہ کیا جارہا ہے، بلوچستان اور سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش کی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ساتھ کھڑے ہیں، سیاسی قیادت کے خلاف جھوٹے مقدمات واپس لیے جائیں اور آغاز حقوق بلوچستان پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔

اجلاس سے مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی، سینٹر میر کبیر محمد شہی، صوبائی صدر عبدالخالق بلوچ، تاج مری، مجید بلوچ، خیربخش بلوچ، بی ایس او کے مرکزی آرگنائزر زبیراحمد بلوچ، واجہ ابوالحسن، فداحسین دشتی، یاسمین لہڑی، میر رجب علی رند، حمید انجینئر، اسلم بلوچ، نیاز بلوچ، کریم کھیتران، اشرف حسین بلوچ، عبدالرسول بلوچ، راحت ملک، میراں بخش، پھلین اور کوئٹہ کے صدر عطا محمد بنگلزئی نے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان و سندھ کو تقسیم کرنے کی سازشیں شروع کر دی گئی ہیں، بلوچستان کے ساحل پر قبضہ کیا جارہا ہے اور نیب کے ذریعے لوگوں سے زبردستی زمینیں حاصل کی جاری ہیں۔ جنوبی بلوچستان کی باتیں اسی سلسلے کی کھڑیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کے فیصلوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور جمہوری تحریک میں بھر پور کردار ادا کریں گے۔ سیاسی قیادت کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات سے سیاسی و جمہوری تحریک کو کمزور نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گوادر اور ساحل بلوچستان پر ڈیموگرافک تبدیلی کو روکنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کی قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی ضرورت ہے لیکن اصل مسئلے سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے صوبائی اسمبلی میں جنرل کی صرف بارہ نشستوں کو بڑھانے کی تجویز سامنے لائی گی ہے جو نہ صرف ناکافی ہے بلکہ ایک مخصوص طبقے کو نوازنے کی سازش ہو رہی ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک مخصوص مائنڈ سیٹ موجود ہے جو قومی وحدتوں کو انتظامی یونٹوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہے جو ہر گز قابل قبول نہیں، بلوچستان اور سندھ کے خلاف ہونے والے ہر سازش کی بھرپور مذمت کریں گے۔