اے این پی رہنماء اسد خان کی جبری گمشدگی قابل مذمت ہیں – ماما قدیر

50

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 4084 دن مکمل ہوگئے۔ اے این پی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر خان زمان کاکڑ، اصغر علی ترین، صوبائی نائب صدر عبداللہ عابد، مرکزی کمیٹی کے ممبر محدم خان کاکڑ، عبدالصادق کاکڑ نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

لاپتہ انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ کی والدہ، لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی دین بلوچ، لاپتہ شبیر بلوچ کی بہن سیما بلوچ نے کیمپ آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اے این پی کے رہنماء اسد خان اچکزئی کے جبری گمشدگی کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طاقت پر انحصار کرنے والی ریاستی پالیسی اس لیے ناکام رہا ہے کہ بلوچ پشتون اور سندھی نوآبادیاتی سیاسی ثقافتی یلغار سے مغلوب ہونے کی بجائے اپنی متوازی سیاست اور ثقافت کے ساتھ زندہ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی پارلیمانی نظام فوجی پالیسی اور میڈیا کے کاروباری ٹھیکیدار سب ہی بلوچ، پشتون اور سندھی کی پرامن جدوجہد سے اس قدر خوفزدہ ہوچکے ہیں کہ مذکورہ قوموں کو ہر طرح سے کچلنے اور زیر کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بلوچ قوم پر طویل ظلم اور تشدد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے، امن کے نام پر بلوچ قوم کو خوف کے اندھیروں میں عدم تحفظ کا احساس دلاکر انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا جارہا ہے۔

ماما قدیر نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو فوجی اڈے بنایا جارہا ہیں، ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں، بزرگوں سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے بلوچ، پشتون اور سندھیوں کو اغواء کرکے غیر انسانی تشدد کے بعد شہید کرکے پھینک دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر کے واقعات کے بعد بھی سلیکٹڈ وزیراعلیٰ مسکرا کر لاپتہ افراد کیلئے جدوجہد کرنے والوں کو جذباتی اور ناراض کہہ کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں۔