یوم شہدائے صحافت بلوچستان کی مناسبت سے احتجاجی مظاہرہ

59

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام یوم شہداء صحافت بلوچستان کے حوالے سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور پریس کلب  کوئٹہ کے گیٹ پر سیاہ جھنڈا لہرایا گیا، احتجاجی مظاہرے سے صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار، ایوب ترین، پریس کلب کے صدر رضا الرحمان، جنرل سیکرٹری بی یو جے رشید بلوچ نے خطاب کیا۔

شہزادہ زولفقار نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بلوچستان میں شہید صحافی ارشاد مستوئی کے قاتلوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا تھا جس سے ہم مطمئن نہیں ہیں حکومت بلوچستان ایک آزاد اور خود مختار جوڈیشل کمیشن بنائے تاکہ شفاف طریقے سے انکوائری ممکن ہوسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں آزاد صحافت دم توڑ چکی ہے، حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے جہاں صحافت آزاد نہیں ہوگی وہاں جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی، جب جمہوریت کمزور پڑ جاتی ہے تو معاشرے میں جنگل کا قانون بن جاتا ہے، حکمران طبقہ صحافت کا گلہ گھونٹنے کے بجائے اسے آزاد ماحول میں کام کرنے دیں تاکہ صحافت اور سیاست ملک میں پنپ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ایف یو جے کی ستمبر میں ایف ای سی کا اجلاس کوئٹہ میں ہونے جارہی ہے جس میں 28 اگست یوم شہداء صحافت کے طور پر پورے ملک میں منانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ایوب ترین نے کہا کہ گذشتہ 15 سالوں میں 44 صحافی شہید کیئے جاچکے ہیں لیکن کسی ایک صحافی کا مقدمہ تک درج نہیں کیا گیا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ صحافیوں کے قاتلوں کے خلاف نہ صرف مقدمات درج کیئے جائیں بلکہ انہیں گرفتار کرکے سزا دلوائی جائے تاکہ ہمیں معلوم ہوسکے اب تک ہمیں مارا کیوں جارہا تھا؟

رضا الرحمان نے کہا کہ صحافت ہر طرف سے دباؤ کا شکار ہے۔ آزادی صحافت اب خواب بن کر رہ گیا ہے ہمیں ملک بھر میں 28 اگست کو یوم شہداء صحافت کے طور پر منانا چاہیے۔

مقررین نے کہا کہ اس وقت پی ایف یو جے کی قیادت شہزادہ ذولفقار کی صورت میں بلوچستان کے پاس ہے ہمیں بلوچستان سے ہی آزادی صحافت کی تحریک کا آغاز کرنا چاہیے، صحافت کو مختلف طریقوں سے پابند سلاسل بنایا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ شہداء صحافت کی یاد میں کوئٹہ پریس کلب کے گیٹ کے سامنے شمع روشن کی گئیں۔