مسکراتا خواب – نورین لانگو

80

مسکراتا خواب

تحریر: نورین لانگو

دی بلوچستان پوسٹ

اج یوں ہی بیٹھے بیٹھے میں خیالوں کے سمندر میں ڈوب گیا، اپنے آبائی شہر کے گلیوں میں کھیلتے اپنے دنیا میں مگن میرے خیالات فاصلہ طے کرتے کرتے کلی کے اس نکڑ تک پہنچ گئے جہاں سے ایک مسکراتا چہرہ گھر کے طرف لوٹ رہا تھا- تمھارے مسکراتے چہرے کا ہی خیال میرے ذہن میں نقش ہے، تمھارے کئی تصاویر میرے پاس پڑی ہیں لیکن پتا نہیں جب بھی تمھارا خیال آتا ہے بس وہی مسکراتا چہرہ، جس میں تمھاری ہلکی سی داڑھی اور چہرے پر پڑے خوبصورت شکن ہی ذہن میں گھومنے لگتی ہے-

انہی خیالات میں تم گلی کے اس نکڑ سے اسی مسکراہٹ کے ساتھ گھر کے طرف لوٹ رہے ہو، تمہارے لوٹنے کا خیال مجھے کبھی خوابوں کے دنیا سے باہر بھی آتی ہے، جب میں کچھ وقت کے لئے مبائل سے دور رہتی ہوں دل میں ایک عجیب سی آہٹ شروع ہوجاتی ہے، میں مبائل کھولوں سامنے سے کوئی خبر کوئی آواز ہو کے تم منظرے عام پر لائے گئے ہو، میں فیسبک کھول کر ان لوگوں کے اکاونٹ ٹٹولنے لگ جاتی ہوں، جو تمہارے بارے اکثر لکھتے شیئر کرتے رہتے ہیں، میں وٹس ایپ پر ملے تمام میسجز غور سے سنتا ہوں تاکہ کوئی اگے سے کہے اپ کا دوست مل گیا-

آج یوں بیٹھے بیٹھے خیالوں میں تمھیں گھر لوٹتے دیکھا تو ایک دم سے میں خیالوں سے باہر اگیا، مجھے تمھارے لوٹنے کی جستجو تو بے حد ہے لیکن تمھارے اس مسکان کا راز ہی بتا دو کیا میں ہی ہوں جو تمھیں اکثر اس مسکان کے ساتھ پاتا ہوں؟ یا وہ بھی عذاب الٰہی بن کر ہمارے چمن سے تم جیسے پھول کو توڑ کر اپنے تنگ کالی زندان میں قید کئے ہوئے ہیں؟ یقیناً وہ اس مسکان کو مسلنا چاہتا ہے، جو ہمیشہ ہر ظلم اور وحشت تمہارے اپنوں پر آزمائے گئے، پر تمہاری مسکان کم نا ہوئی تمہاری اس فتحیاب مسکان شاید انکے ناکامی اور شکست کو تازہ کردیتا تھا جو سمجھتے تھے تمہیں خاموش کراسکتے ہیں، تمہیں ہرا سکتے ہیں –

خیالات کے دنیا میں ڈوبی میں تمھیں گھر کے دروازے تک جاتا دیکھ رہا ہوں، میں یہیں کھڑی ہوں شاید تم نے مجھے دیکھا نہیں دیکھا بھی تو تمھیں شاید گھر لوٹنے کی خوشی تھی اپنی اماں سے ملنے کی خوشی ہاں تم اس اماں سے ملنے کے لئے اتنے بے چین ہو- میں اپنے خوابوں کی دنیا سے نکلنا نہیں چاہتی، میں تمھیں اس اماں کو زور سے گلے ملتے دیکھنا چارہی ہوں لیکن میرے ارد گرد شور ہے، مجھے ان خیالات سے نکال کر حقیقت کے دنیا میں لا کھڑا کردیتے ہیں پھر ایک کالی زندان اور تم –

راشد حقیقت تو یہ ہے انسان کتنا بھی مظبوط ہو کتنا ہی مطمئن ہو کہیں نا کہیں ٹوٹ ہی جاتا ہے اور میں بھی ٹوٹ جاتی ہوں آنکھوں سے نمی امڈ آتی ہے، بے بسی ہی ہے تمھیں شاید خبر نہیں پر میں ہر وقت اپنے خیالوں کی دنیا میں تمہیں گلی کے اس نکڑ سے گھر لوٹتا دیکھ پاتا ہوں اور پھر حقیقت کی دنیا میں آکر تمھاری اس بات کو یاد کرتا ہوں –

ہم نے جو فیصلہ لیا ہے، اسکے رد عمل میں آنے والا ہر عمل کا زمہ دار ہم خود ہونگے اس پر ماتم کدہ بن کر نہیں بیٹھنا ہے ہماری جدو جہد، حق اور فتح کی ہے ضروری تو یہ ہے کے ہم اپنے کام کو جاری رکھیں اور اپنے لوگوں پر اٹھے ہر اس ظلم پر انکی اواز بنیں ہماری ہار ہماری خاموشی اور لاعلمی میں ہوگی، تب میں مطمئن ہوجاتا ہوں پر تمہاری لوٹنے کی جستجو ہمیشہ دل میں رکھی ہے-


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔