سورج کا شہر (حصہ دوئم) | قسط 34 – ڈاکٹر شاہ محمد مری

57

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

سورج کا شہر (سفر نامہ) – ڈاکٹر شاہ محمد مری
حصہ دوم | پندرہ برس بعد | ہنگول سے ہنگلاج

یہاں ہم ایک بحث میں مبتلا ہوگئے۔ بحث یہ تھی کہ کیا بلوچ ٹھیک ہیں یا پھر انگریز؟ اس لیے کہ اُن کے ہاں لومڑی چالاک اور مکار مشہور ہے۔ ہمارے ہاں لومڑ کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ یک دم زیرو ہے۔ ہمیں صرف ایک فوک شاعری میں لومڑ کے مکار و سازشی والی خصلت کی بات ملی۔ وہ یوں کہ ایوب خان اور فاطمہ جناح کے الیکشن میں ایوب نے اپنے حق میں دھاندلی کرائی تھی، اور شاعر نے کہا تھا:
”ایوب نے جناح کو پرے دھکیلا اور روباہ جیسی چالاکی سے وطن پہ قبضہ کرلیا“۔

بلوچ کے ہاں تومکاری کے ہر رنگ اور ہر شیڈ کی ملکیت گیدڑ کی ہے۔ نیز لغوری بزدلی کا اضافی مگر مستقل چارج بھی گیدڑ ہی کو ودیعت ہے۔

اور ایک اور دلچسپ فرق بھی بلوچ اور انگریز میں ہے۔ بلوچ کبھی بھی اپنے بچوں پر اِن جانوروں کے نام نہیں رکھتا۔ ہمارا کوئی قبائلی مسٹر فوکس اور وولف نام کا آپ کو نہیں ملے گا۔

فوکس اور وولف اور جیکال کی انسان سے یاری بالکل نہیں ہے۔ وہ اُس کے ”سائے“ سے بھی دور بھاگتے ہیں۔ ٹاکرا ہو تو غصے او رخوف کا کاک ٹیل پی کر بھاگ پڑتے ہیں۔

چیتا، شیر، بھیڑیا اور ہرن البتہ ذرا بلند معیار ہوتے ہیں، بلندیوں میں زندگی گزارتے ہیں۔ یہ واقعتا بڑی جنٹلمین زندگی گزارتے ہیں۔ روایتوں اور رسم و رواج کے پکے۔ کمال یہ ہے کہ درندے ہوتے ہوئے بھی یہ کبھی بھی بلا جواز، اورمحض دھاک بٹھانے کی خاطر قتل و غارت نہیں کرتے۔ یہ تو محض اپنی بھوک مٹانے کے لیے ایک جانور کو شکار کرتے ہیں، قتلِ عام قطعاً نہیں کرتے۔ اور اپنے شکار پہ اپنی وقتی بھوک ہی مٹا کر چلتے بنتے ہیں۔ اور بقیہ شکار کو نہ کوئٹہ میں ذخیرہ کرتے ہیں نہ کراچی، لندن اور دبئی میں ہڈیوں اور گوشت کے محل بناتے ہیں، بلکہ لگڑ بھگڑوں، گیدڑوں اور دوسرے مردار خور موقع پرست مڈل کلاسیوں کے کھانے کو چھوڑ جاتے ہیں۔ یہاں اگر صنفی مساوات نہیں ہے تو صنفی اپار تھائیڈ بھی موجود نہیں ہے۔

شکر ہے کہ بلوچستان کا ہنگول ابھی پالتو نہیں بنا۔ یہاں کی گلہریاں، کوے، گیدڑ اورلومڑی ابھی تک خارجی کو دیکھ کر لالچ میں اپنی آنکھیں نہیں چمکاتیں۔ ابھی تک دم ہلا ہلا کر کیک اور پیسٹری کی آس کی عادت اُنہیں نہیں پڑی ہے۔ یہاں کے انسان کو بھی۔

ہنگول کیا ہے؟ گھنٹیاں بجاتے ریوڑ، شفیلی بجاتے چرواہے اور بار بردار اونٹوں کی قطار ………… اور فطرت………… یک دم چُپ، یکساں خاموشی۔ اتاہ ترین اور، بے کراں خاموشی۔

ہم ایک رواں دریا کے پیچ و خم کے ساتھ ساتھ بہت اچھی سڑک پہ جارہے تھے۔ مگر کم رفتاری سے۔ اس لیے نہیں کہ بلوچستان کی دیگر سڑکوں کی طرح یہ سڑک خراب تھی۔ بلکہ اس لیے کہ آس پاس کے پرکشش مناظر ہمیں تیز چلنے نہیں دے رہے تھے۔ مناظرمیں موجود یہ خاموشی ایک پھیلنے والی بیماری کی طرح آپ کو لگ جاتی ہے۔ ہم نے بھی باتیں بند کردی تھیں، کہ کبھی کبھی باتیں، مناظر دیکھنے میں خلل ڈالتی ہیں۔ ہم خاموش، ہماری ٹیپ خاموش، قرب و جوار کی فطرت خاموش۔ بس ”بہتا ہوا چشمہ بولے“۔ مگر یہ توچشمہ نہ تھا کہ شور مچاتا۔ یہ تو مقدس دریائے ہنگول تھا۔ بے پرواہی سے، اور لا ابالی میں پہاڑوں کے بیچ صدیوں سے مٹکتا، بل کھاتا، رقصاں دریا۔ ذرا سی چینج کے لیے کہیں بڑ بڑاتا ہے، کہیں آبشار ہوجاتا ہے، کہیں نیلا جھیل بن جاتا ہے، کہیں شکارگاہ مہیا کرتا ہے، کہیں ریوڑوں کے ریوڑوں کی پیاس بجھاتا ہے۔ اور کہیں اپنے کناروں پہ کسی کھیلتے بچے کے کھلونے چھین کر اپنے ساتھ دور بہا لے جاتا ہے، اوراُس سے اپنے اندر موجود آبی جانداروں کے بچوں کے ٹورنامنٹ منعقد کرواتا ہے۔ بہتی چاندی کا یہ دریا اگر اس علاقے میں نہ ہوتا تو بلوچستان کتنا درشت لگتا …… ہنگول، بلوچ کا نرم چہرہ ہے۔

یہاں مجھے ایک تجسس ہوا۔ وہ یہ کہ اِس دریا کی پوجا ہوتی ہے یا نہیں؟۔ دریائے گنگا ہو یا سندھو دریا، اُن کے کناروں پہ بسنے والے انہیں متبرک اور باکرامت گردانتے ہیں مگر بلوچ پتہ نہیں اپنے اس بڑے دریا کی عبادت کرتے ہیں یا نہیں۔ دریا انسان کی تاریخ اور سولائزیشن کے ساتھ قریبی طور پر جڑے رہے ہیں۔ فلسفہ اور روحانیت کے ساتھ پیوست ان کی ہمیشہ سے الوہیت کی تجسیم کے بطور پرستش ہوتی رہی ہے۔ دریا کنارے واقع مقامات کو مقدس مانا جاتا ہے۔ پرانے زمانے سے ”دریا پرستش“اس بات کا احساس دلانے کے لیے جاری ہے تاکہ پانی کی اہمیت کا احساس رہے، پانی جو زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔

مگر ہنگول دریا کے بارے میں ایسا کیوں مشہور نہیں؟۔ بالخصوص جب اِس علاقے کا ایک ایک موڑ، ایک ایک پہاڑ بلوچ مائتھالوجی کا سرچشمہ ہو۔ نہ کوئی عشتار، نہ کمب میلہ، نہ دریائے بیجی کی کرامتوں کی پیروی۔ یہ محض ندی نالہ نہیں، یہ تو350 میل لمبا، اور بلوچستان کا سب سے طویل دریا ہے۔ جی ہاں نہنگ اور بیجی طویل ترین دریانہیں ہیں، بلکہ بلوچستان کا سب سے طویل دریا دریائے ہنگول ہے۔ اور یہ موسمی نہیں بلکہ سال بھر بہتا دریا ہے۔ ساون کی بارشوں میں یہ دیگر سارے سیلابی دریاؤں کی طرح دس دس گز بلند سیلابی ریلے انڈیلتا ہے۔ اس کے باوجود یہ طویل اور عظمت بھرا دریا مائتھالوجی سے خالی ہو، حیرانی ہوتی ہے۔

کیا ستی کی بزرگی اور عظمت نے پرشکوہ ہنگول دریا کی کرامت خود چوس لی؟۔

ہم، جیسے بلوچستان گھوم نہ رہے ہوں، بلکہ جیسے دوستوئفسکی کا کوئی ناول پڑھ رہے ہوں۔ جیسے ورڈز ورتھ کی کوئی نظم دیکھ رہے ہو، جیسے شاہ لطیف کی سنت دہرا رہے ہوں، جیسے توکلی مست کی منظر بیانی گنگنا رہے ہوں۔ اے ناول نگار!، تم اپنا ناول بے شک کرسی میز پہ بیٹھ کر لکھو مگرمیری فرمائش ہے کہ ایک بار ہنگول گھوم لو، پھر لکھنے بیٹھ جاؤ۔

اور اگر آپ ناول نگار نہیں ہیں، شاعر نہیں ہیں۔ نیچر لسٹ نہیں ہیں؟۔ توذرا ہنگول ہو آؤ، جام درک بن جاؤ گے، مرید بلیدی بن کر گنگنانے مسکرانے لگو گے، جینی جیسے خطوط لکھنے لگو گے۔

ہاں مگر سکوت کا مزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ لاؤ لشکر ساتھ نہ ہو۔ بس ”ہم مزاج“ تین چار ساتھی ہوں۔ ایسے ساتھی جو فطرت اور اُس کے بچوں سے باتیں بھی کریں۔ مگر جنہیں چپ ہوجانا بھی آتا ہو۔

بلوچستان سے یاری کرنی ہو تو اُس کی چُپ میں بھی اُتنا ہی حصہ ڈالنا ہوتا ہے جتنا کہ اُس کے شور میں۔ چپ اور سنگینی تو بلوچستان کی اصل زبان ہے، آوازیں تو محض اُس کی سنگت ہیں۔ آواز بلوچستان کی ترجمان کب رہی ہے۔

ویسے بھی بھدے ترجمے کو دس بار پڑھنے سے بہتر ہے کہ آدمی اصل متن صرف ایک بار پڑھے۔ خاموشی کا پڑھنا البتہ مشکل ضرور ہے۔ بلوچستان بہت وقت آپ کو چُپ کرادیتا ہے۔ خود بھی چُپ، آپ بھی چُپ۔ اتاہ، پرسکون، حتمی چُپ۔ اتھاہ شانتی۔ ( اب میں وہ ذو معنی لفظ نہیں دوہراؤں گا جو ہمارا نواب اکبر خان بگٹی اپنے مصاحب نما دوستوں سے کہا کرتا تھا۔ وہ جب سب کا فرداً فرداً حال حوال پوچھتا تو جب بھی کوئی بطور تکیہِ کلام ”شانتی“ کہتا تو نواب فوراً پوچھتا ”کہاں ہے شانتی؟“ …… سچی بات یہ ہے کہ ہم قرنوں سے شانتی شانتی کا ارمان لیے پشت در پشت جیے جاتے ہیں، شانتی ہے کہ بلوچستان لوٹتی ہی نہیں!!)

المختصر، اے ہنگول کے زائر! جلسہِ عام کے ساتھ ہنگول کا سفر قطعاً نہ کرنا۔

دریائے ہنگول پرایک خوب صورت طویل پل ہماری آنکھوں کے لیے ایک دل فریب دعوت تھی۔ دراصل اوپر بہت دُور کہیں پر شکوہ پہاڑوں کے بیچ پانچ دریا مل جاتے ہیں، تب ہنگول بنتا ہے۔ اور اِس دریا کا ”کوالی ٹیٹو“ روپ اُس وقت ہوتا ہے، جب یہ تین سو پچاس میل چل کر بحیرہِ بلوچ میں اتر جاتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔