سورج کا شہر (حصہ دوئم) | قسط 32 – ڈاکٹر شاہ محمد مری

56

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

سورج کا شہر (سفر نامہ) – ڈاکٹر شاہ محمد مری
حصہ دوم | پندرہ برس بعد | ہنگول نیشنل پارک

ہم چلتے ہی رہے، آگے بڑھتے گئے، اور پھر ایک وسیع علاقہ آیا: ہنگول نیشنل پارک۔ بہت ہی اہم، مگر نظر انداز کردہ علاقہ ایک ایسا پراسرار خطہ جس کے بے شمار نام ہیں: ہنگلاج مندر۔ ہنگلاج ماتا، رانی مندر، نانی مندر، ہنگلاج دیوی، ہنگولا دیوی۔ یہ سارے نام ہم سنتے رہتے ہیں۔ مگر کیا یہ سرکار کے دیے ہوئے غیر مقامی نام ہیں یا ہمارے اپنے مقامی بلوچ نام ہیں؟

کیا خوب صورت علاقہ ہے یہ۔ 1650 مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ علاقہ رنگارنگی، تنوع اور لمحہ بہ لمحہ بدلتے منظر کا دوسرا نام ہے۔ اس کا ایک علاقہ جھک کر سطح سمندر جتنا نیچا ہوجاتا ہے تو دوسرا بلند ہوکر آواران کے سربلند پہاڑ بناتا ہے۔ یہاں اگر ایک طرف میلوں تک پھیلی ہم وار وادیاں ہیں، تو یہیں ریت کے وسیع صحرا بھی ہیں۔ آتش اچھالنے والے پہاڑ بھی ہیں اور آگ بجھانے والا بحیرہ ِ بلوچ بھی۔ اس کا ہر منظر آنکھوں کو فرحت عطا کرنے والا منظر ہے۔

بلوچستان کو ایک گو نا گوں لینڈ سکیپ سے نوازا گیا ہے۔ زمینی سائنس کے عجائبات کا نام بلوچستان ہے۔ ہمیں اندازہ ہونا شروع ہوا کہ یہ محض ہنگلاج مندر نہیں ہے جو تقدس و استعجاب و استغراق کا باعث ہے بلکہ یہ اُس کے اردگرد کے پورے علاقے کی جادوئیت اور بھاری پن ہے جو مندر کو ساری اساطیریت عطا کرتی ہیں۔ ہم یہاں دنیا کے وسیع ترین اور بلند ترین جیو تھرمل مظہر یعنی گارے کے آتش فشانوں (mud valcanoes) کے ہیڈ کوارٹر میں تھے۔

یہ مَڈ و الکینو کیا ہیں؟۔ اصل میں بے شمار اسباب سے زیرِ زمین، پریشر کافی بڑھ جاتا ہے۔ وہاں پانی کا درجہ حرارت زیادہ ہوجاتا ہے اور وہ مختلف زمینی مرکبات کو اپنے اندر شامل کرتا ہوا گارے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یہ ابلتا گارا پھر نکاس کے لیے اوپر زمین کی سطح کی طرف لپکتا ہے۔ یوں سمندر کے آس پاس ریت میں سے گرم گارا، آتشیں گیسیں اور منرلز پر مشتمل مواد بہت تیزی اور تندی کے ساتھ پھوٹ کر باہر بہنے لگتا ہے۔ اس طرح کے لاوے میں نظر آنے والے بلبلے گیس کے خراج کی نشانی ہے جو کہ اکثریت میں میتھین ہوتی ہے۔ ہم ڈاکٹری میں جاندار جسم سے بہنے والے پیپ والے مادے کو exudate کہتے ہیں: جسم کا exudate ۔ اب ہم ”جیو ایگزوڈیٹ“ دیکھ رہے تھے۔

آتش فشاں جو ابلتا ہوا گرم گاڑھا گارا پھینکتی ہے، اُس سے جیالوجی کے پراسیس معجزے بناتے جاتے ہیں۔ آتش فشاں جو ریختر سکیل کے سات اور آٹھ سے زیادہ درجے کے ہوتے ہیں۔ ابھرتی گیسوں، خاص کر میتھین گیس سے ابھرتا آتش فشاں، سینکڑوں فٹ بلند شعلے ہی شعلے اگلتا ہے۔ (کیا طلسماتی کہانیاں وضع ہوتی ہوں گی!)۔ ہم انہی شعلوں، گرم گاڑھے گارے اور پھر ان سے بنے بلند جزیروں کی باقیات سے صدیوں پرانی پیدا شدہ نظاروں کے بیچ سے سفر کررہے تھے۔ یہاں مکمل سکوت، ازلی ابدی حتمی خاموشی تھی۔ بس ہوا سنسناتی ہے، جھرنے بولتے ہیں، پرندے گاتے ہیں، پہاڑی جانور باتیں کرتے ہیں۔ شہروں، بنکوں، چمنیوں، سازشوں سے دور، ہم امریکہ کے ”کاؤبوائے“ فلموں جیسے وسیع خطے میں سے گزررہے تھے۔ یہاں کوئی انسانی آئین نہیں کوئی آئین ساز نہیں۔ بس ”سب سے زیادہ فِٹ ہی زندہ رہ سکے گا“ کا ازلی ابدی کھردرا عالمی قانون چلتا ہے۔ اس قانون کو صرف انسانی محنت اور بشری دماغ ہی سنوارتا نکھارتا اور ترمیم کرتا ہے۔ مگر انسان یہاں سے دور سول سیکریٹریٹ میں بیٹھا ہے ………… جہاں اچھا بھلا اشرف المخلوقات جاکر دو ہفتے کے اندر اندرواپس بوزنہ کی عادتیں اختیار کرتا ہے۔ سول سیکریٹریٹ میں جانور کمپیوٹروں، موبائلوں، آٹو موبیل اور بینکوں کے ذریعے خود کو بقا کے لیے فٹ سے فٹ تر بناتا ہے اور یہاں ہنگول میں جانور بے ساختہ، کم پیچیدہ، کم تکلیف دِہ اور کم ایذا رساں نیچرل طریقوں سے اپنی بقا کا سامان کرتا ہے۔ سمندر، آتش فشاں اور بلوچستان: فطرت زلزلوں کی صورت میں اٹھکیلیاں کرتی ہے یہاں۔ جب چاہے نئے جزیرے بنا ڈالتی ہے اور پھر ایک ڈیڑھ ماہ میں سمندر سے اُسے پھر نگلوا لیتی ہے۔ فطرت، جب چاہے ٹھوس وجوہات کی موجودگی میں خطے کو سونامی میں ڈھال دیتی ہے۔ جانداروں کے بے شمار اقسام کروڑوں کی تعداد میں خواہ غرق گِل ہوں، غرق ِخاک ہوں یا پھر غرقِ جبل ہوں، بے پرواہ کو کیا پرواہ۔ اِس ”میگا“ اتھل پتھل میں معدومیت اور بعثت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ہم اپنے قاری کو اس علاقے میں موجود جبل الغراب اور بابا چندر گُپ نام کی جگہوں کے چکر میں ڈالے بغیر یہ بتادیں کہ فطرت کی یہ بازی گری ہنگلاج ٹمپل کے گردونواح میں میلوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

بل کھاتا، ناز دکھاتا، اٹھکیلیاں کرتا کوسٹل ہائی وے خود اپنے حسن کے علاوہ اپنے آس پاس سے بھی مسافر کو دہنِ حیرت بند کرنے نہیں دے رہا تھا۔ حسن و جمال ایسا، جو نادر و ناپید ہے۔ ایسا حسن جو آپ کو دنیا بھر میں صرف اور صرف یہیں ملے گا۔ ممتاز و یکتا خوب صورت اشکال کی چٹانیں اور چھوٹی پہاڑیاں آپ کے ذہن و دل کوحیران کیے جاتی ہیں۔ ڈیزائینیں ………… کچھ ایسی بھی بد شکل جیسے چھوٹے بچوں کے کم ترقی یافتہ ذہنوں اور ”نا اُستاد“ ننھے ہاتھوں نے بنائے ہوں۔ کچھ ایسی خوش شکل جو تدڑی اور تربت کی محنت کشوں عورتوں کے مشاق ہاتھوں کی گِل کاری کی شاہ کار ہوں، اور کچھ ایسی جنہیں دیو ہیکل اہرامِ مصر کے اساطیری معماروں نے ڈیزائن کیا ہو۔ سیما سردار زئی، عبدالباسط شیخی، اکرم دوست، جمیل جَان اور حسن یادگار زادہ کی ارواح کن کن جسموں کو ملبوس کرتی رہی ہیں!!

بدبخت یونیسکو پتہ نہیں کہاں مر گیا؟۔ ہمارا ٹورازم ڈیپارٹمنٹ پتہ نہیں کہاں ہے؟۔ آرکیالوجی اور کلچرکے محکمے کہاں ہیں؟۔ اور وہ وائلڈ لائف والی این جی اوز کہاں ہیں؟۔

یہ تین ضلعوں پر مشتمل علاقہ ہے: لسبیلہ، آواران اور گوادر۔ اور ضلع بھی بلوچستان کا، جو کہ خود ایک صوبے کے برابر ہوتا ہے۔ دریائے ہنگو کی طوالت اور حیات بخشی نے اس وسیع و غیر آباد علاقے کو نباتات اور جانداروں کی ایک عظیم ورائٹی عطا کر رکھی ہے۔ رینگنے والے زہریلے اور بے زہر جانوروں، دودھ پلانے والے جانوروں سے لے کر چیتوں بھیڑیوں تک اور ہزاروں پرندوں کی اقسام سے لے کر میمل جانوروں کی رجمنٹوں تک اس علاقہ کو آباد کیے ہوئے ہیں۔ بہت ہی قابلِ اعتبار سروے بتاتے ہیں کہ ہنگول کم از کم میمل کے 35 انواع، 65 سانپ جیسے رینگنے والی انواع اور خشکی و تری دونوں میں رہنے والے جانداروں، اور 185 انواع کے پرندوں کو روٹی روزی اور آرامگاہ مہیا کرتا ہے۔ اب تک پودوں کے250 کے انواع ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

یہاں Olive Ridley، چیتے، لگڑ بھگڑ، پرشین جنگلی بکرے، صحرائی بلی، spinyچوہا، بلوچستانCape hare gerbil،  بھیڑیا، پینگولن، سرخ لومڑی، چنکارا غزال، بنگال مانیٹر گرگٹ، گرے مانیٹر گرگٹ، گیکو، Sunksنامی گوشت خور، کوبرا سانپ، Saw-Scaled کوبرا وائپر،horned وائپر سانپ، سمندری سانپ، جھینگا، شرمپ، پام فریٹ، ڈولفن، بُلووھیل، کچھوے………… آپ کوئی بھی نام لیں، وہ جانور اس وسیع و عریض اورمتنوع جغرافیائی علاقے کے کسی پَلُو میں بندھا ملے گا۔
پرندوں میں hoopoe, woodpecker, eagle owlماہی گیر عقاب، Bonnelli’s عقاب، امپیریل عقاب، Tawny عقاب، گولڈن عقاب، سرخ سر والا باز، Patridge، سینڈ گاؤز، تلور، sport billed Pelicans نامی ماہی خورپرندہ، یوریشینgriffonگِدھ، مصری گِدھ، Cinereous گدھ، Lagger falcon,،Kestrel، سی سی، تیتر، چکور آپ کو عام ملیں گے ………… اس کے علاوہ ہنگول نیشنل پارک مہاجرت کرنے والے پرندوں کا زمستانی مسکن تو ہے ہی۔ پرندوں کی انواع کا 40 فیصد پانی سے وابستہ زندگانی جیتے ہیں۔ ہنگول دریا کے کنارے، estuary اور mudflats بین البراعظمی خانہ بدوش پرندوں کے لیے اہم ترین سرائے بناتے ہیں، سبی کے قدرتی صحبت سرائے۔

ارے اصل بات تو میں اب کرنے لگا ہوں۔ یہاں اِس پارک میں پہاڑی بکرا Ibex پایا جاتا ہے۔
اوڑیال اورغزال یہاں چوکڑیاں بھرتے ہیں۔ Ibex  تو سارے پہاڑی ڈھلوانوں میں ملتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ان کی کل تعداد 3000 ہے۔ جی ہاں تین ہزار۔ بلوچ قبائل کا بھیڑوں کا ریوڑ او سطاً 60 مویشیوں پرمشتمل ہوتا ہے۔ تو اُس حساب سے اے بلوچو! تمہارے دیس میں 3000 بنتے ہیں، پچاس ریوڑ، اور وہ بھی Ibext کے۔ مزے ہیں!!

انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) نے ہمارے اِس پارک کے سولہ اقسام کے جانوروں کو اپنی اُس لسٹ میں ڈال دیا ہے جن کا وجود ختم ہونے کا خطرہ ہے۔

اور اب دکھ کی سب سے بڑی بات ………… ہنگول نیشنل پارک کا ایک بڑا رقبہ سپارکو نامی تنظیم کو دیا گیا ہے۔ جس کا جنگلی حیات، مائتھالوجی اور سیر گاہوں سے کوئی تعلق واسطہ نہیں سپارکو ایک ایگزیکٹو اور بیوروکریٹک خلائی ایجنسی ہے جو کہ ایروناٹک اور ایروسپیس تحقیقات کے لیے بنا ہے۔ اس قدر غیر ذمہ داری!۔ اس قدر جنگلی حیات دشمنی!۔

ہنگلا ج مندربلوچستان میں کوسٹل ہائی وے پر اورماڑہ جاتے ہوئے دریائے ہنگول کے پار واقع ہے۔ یہ کراچی سے تقر یباً ڈھائی سوکلومیٹر زکے فاصلے پر ہے۔

اسی ہنگول نیشنل پارک میں ہنگلا ج مندر بھی موجود ہے۔ یہ بلوچستان میں کوسٹل ہائی وے پر اورماڑہ سے پہلے اگھور نامی جگہ پر آتا ہے۔ کراچی سے اس کا فاصلہ تقریباً ڈھائی سوکلومیٹرز ہے۔ ہم بہت عرصے سے اس مندر کے بارے میں پڑھتے رہے تھے، سنتے رہے تھے۔ بس دیکھنے کی حسرت تھی۔ اور آج یہ موقع مل ہی گیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔