بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان کا حالیہ فیصلہ تعلیم دشمنی پر مبنی ہے – بی ایس او آزاد

34

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے طالب علموں کے لئے مختص اسکالر شپ کا خاتمہ غیر منصفانہ اور تعلیم دشمنی پر مبنی ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ ایسے غیر منصفانہ اور سازشی فیصلے بلوچستان کے طالب علموں کا مستقبل تاریک کرنے کے مترادف ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ بلوچستان گذشتہ کئی عرصوں سے نو گو ایریا میں تبدیل کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو سخت ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ خاص کر طالب علم طبقہ شدید ذہنی کوفت اور پریشانی میں مبتلا ہے۔ ایک طرف اندرون بلوچستان طالب علموں کو مختلف مسائل تخلیق کرکے ان کے لئے پریشانی کا سامان پیدا کیا جارہا ہے اور دوسری طرف بلوچستان سے باہر کے طالب علموں کے لئے تعلیمی دروازوں پہ قفل لگانے کے لئے کبھی نشستوں کی مخصوص تعداد میں کمی کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے اور کبھی مختص اسکالر شپ کے خاتمہ کا اعلان کیا جاتا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل مسئلہ، بی ایم سی ہاسٹل مسئلہ، فیسوں میں اضافہ، بغیر بجلی اور انٹرنیٹ کے آن لائن کلاسز کا مسئلہ، اسٹڈی سرکلز پہ پابندی، سیاسی سرگرمیوں پہ پابندی، پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بلوچستان کے طالب علموں کو پیٹنا اور ان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج اور دیگر کئی مسائل کی تخلیق دراصل بلوچ طالب علموں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے کی گہری سازش کا حصہ ہے جس کے تانے بانے مخصوص اداروں کی کارستانی ہے جو شعور یافتہ بلوچ طالب علموں کے شعور سے خوفزدہ ہونے کی علامت ہے۔

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ بی ایس او آزاد طلبہ حقوق کی ترجمان ہے جس نے ہر مشکل اور کھٹن حالات میں طالب علموں کی حقیقی ترجمانی کو اپنا قومی فرض سمجھ کر پورا کیا ہے اور اس غیر منصفانہ اور تعلیم دشمن فیصلے کے خلاف تنظیم بھر پور جدوجہد کریں گی اور ہر قدم پہ طالب علموں کے شانہ بشانہ رہیں گی۔