اب استاد میران کو نیند نہیں آتی – محمد خان داؤد

143

اب استاد میران کو نیند نہیں آتی

محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

وہ جو محفلوں میں قومی گیت گایا کرتا تھا۔ وہ جو نوجوانوں کو اس بات پر مجبور کرتا تھا کہ وہ اپنی نشستیں چھوڑ کر اس کی لے اور تال پر جھومیں۔ وہ جو نوجوانوں کی ان رگوں کو چھیڑتا تھا، جو رگیں جسم سے ہوکر دل تک جاتی ہیں اس کے بعد
دل، دل نہیں رہتا
جسم،جسم نہیں رہتا
میں، میں نہیں رہتا
وہ، وہ نہیں رہتا
سب
تو ہی تو بن جاتا ہے!

وہ جو شاعری یاد نہیں کرتا تھا، پر جب وہ پنڈال میں پہنچتا تھا تو ان گیتوں کو ایسے گاتا تھا جیسے کاچھو کے مقامی فنکارمورو گاتے ہیں، بس گاتے ہی جاتے ہیں اور الفاظ ان کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے ہیں!
وہ جس کا دل دریا کی ماند تھا اور جس کی آنکھوں میں انتظار تھا
وہ اب کہاں ہے؟
وہ کہاں گیا؟ کیا اسے سننے والے جانتے ہیں اور باخبر ہیں کہ استاد میر احمد بلوچ اب کہاں ہے؟
وہ کس حال میں ہے؟ اس کے شب و روز کیسے گذر رہے ہیں؟

بلوچستان کا کلچر ڈیپارٹمنٹ تو ایک طرف، کیا وہ جانتے ہیں جو استاد میرل سے فرمائیش کیا کرتے تھے اور استاد میرل اپنے دل وجاں سے ان کو وہ گیت سنایا کرتا تھا جو گیت ریاست کے لیے سر درد بنا ہوا ہے۔
جب وہ اپنے مخصوص انداز میں سروں کو چھیڑ کر کہتا کہ
،،چمروکیں بلوچستان
نامداریں بلوچانی
درگاہ انت شہیدانی
شہموکیں سگارانی!،،
تو بلوچ نوجوان اس پر پتنگوں کی طرح گرنے لگتے
کیوں؟
اس لیے کہ وہ جب اپنی بات نہیں پر اس دھرتی کی بات کرتا جس دھرتی کو بلوچستان کہتے ہیں!
اس کی آواز تو ریکارڈ کی صورت میں یہی پہاڑوں میں اداس روح کی ماند بٹھک رہی ہے۔ اس کے گائے گیت اب بھی بلوچستان کی صدا بن کر جھوم رہے ہیں۔ اس کے گیت اب بھی نئی صبح کی ویسی ہی اُمید ہیں۔
پر اگر کوئی نہیں تو وہ استاد جس نے پہلے دھرتی سے محبت کی
پھر محبوبہ سے
اور پھر سروں سے
وہ استاد اپنے تمام تر محبتیں یہی چھوڑ کر جا چکا ہے
پر وہ کہاں ہے؟
اور اس نے بلوچستان کی وادیوں کو خیر آباد کیوں کہا؟ اس نے ماں اور محبوبہ کا گھر کیوں چھوڑا؟
اس نے سکھی جیسی دھرتی کیوں چھوڑی؟

کوئی نہیں جانتا اگر کوئی جانتا ہے تو کچھ کہتا نہیں اور اگر کوئی نہیں جانتا تو وہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتا

کیوں؟ اس لیے کہ بلوچ دھرتی کے دامن میں آگ لگی ہوئی ہے۔ آگ کی لپٹیں جل رہی ہیں ایسا نہ ہو کہ اگر کوئی جاننے کی کوشش کرے تو اس کا گھر اور اس کا دامن ہی نہ جل جائے اس لیے اب کوئی بھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتا کہ استاد میر احمد بلوچ(میر)کہاں ہے؟
پر استاد جہاں کہیں بھی ہے اس کے لبوں پر آج بھی ایاز کے یہ بول ہیں کہ
،،سکھی پیا کھے ملیں تہ چئیجاں
چاندنی تو سوا نہ تھیندی!،،
،،سکھی پیا کو ملو تو کہنا، چاندی تم بن نہ ہوگی!،،

یہ بات سچ ہے، جو دھرتی اور ماں سے محبت کرتے ہیں وہ دنیا میں کہیں بھی رہیں وہ دھرتی اور ماں کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ پر استاد میر احمد بلوچ کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ اسے دھرتی ہی چھوڑنی پڑی؟
اس کے ساتھ وہ ہوا جو بلوچستان میں ہر دوسری ماں کے ساتھ ہو رہا ہے
استاد میرل کے ساتھ وہ ہوا جو زاکر مجید کی ماں کے ساتھ ہوا ہے
استاد میرل کے ساتھ وہ ہوا جو سمی بلوچ کے ساتھ ہوا ہے
اور میں یہاں کس کس کا نام لکھوں؟ ویسے بھی شیکئپر کہتا تھا کہ
،،نام میں کیا رکھا ہے!،،

آج سے دو سال پہلے اگست کے آخری دن اور آخری رات کے درمیان استاد میر احمد بلوچ کا جواں سالہ بیٹا بلال احمد اپنے دو دوستوں کے ساتھ اُٹھا لیا گیا۔ ایک فنکار کیا کرسکتا ہے۔ میں ذاتی طور پر بھی شاہد ہوں، جب کسی فنکار کا بچہ بخار میں تڑپ رہا ہو تو دوسری طرف فنکار تڑپ رہا ہوتا ہے کیوںکہ فنکار بہت ہی زیادہ حساس ہوتے ہیں، وہ کسی کو کسی بھی مصیبت میں مبتلا نہیں دیکھ سکتے، پھر بھلے مصیبت کی شکل کسی بخار کی ہی کیوں نہ ہو، پر جب کسی نے آکر استاد میرل کو یہ خبر دی ہوگی کہ اس کا بیٹا بہت تلاش کرنے پر بھی نہیں مل رہا تو اس پر کیا بیتی ہوگی؟

استاد میر احمد بلوچ یہ بات سن کر نیم پاگل ہوگیا، جب بلال احمد کو گم کیا گیا تھا اس کے بعد آنے والا نیا دن پو ری دنیا میں گمشدہ لوگوں کا دن کرکے منایا جاتا ہے۔ استاد میرل نے ہر جگہ فریاد کی پر اس کے جواں سالہ بیٹے کا کوئی پتا نہیں اور اب تو بلال احمد کو گم ہوئے دو سال ہونے کو ہیں۔

میں نہیں جانتا کہ اس بیٹے کو اس لیے اس اذیت سے گزرنا پڑا کہ اس کا بابا بلوچستان کے درد کو بیچا کرتا تھ اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس استاد میرل کو یہ سزا اس لیے مل رہی ہے کہ وہ اپنی گیتوں میں بلوچستان کی بات کرتا ہے۔ ایسی بات جس بات کے لیے استاد بخاری نے کہا تھا کہ
،،ھوئین مٹی جی چپٹی آھیان
جئے دیش تہ پو دھرتی آھیان!،،
ویسے تو مٹی ہوں پر اگر کوئی مجھ سے محبت کرے تو پورا دیس بن جاتی ہیں!،،

آج استاد میرل کہاں ہے کوئی نہیں جانتا اور کوئی یہ بھی نہیں جانتا کہ اس بلال احمد کا کیا ہوا جو استاد میرل کا بیٹا تھا؟
اس لیے اس میرل کو نیند کیسے آئیگی جس سے محبوبہ کا دامن چھوٹا
ماں کا آنچل چھوٹا
دھرتی کی مٹی چھوٹی
اور جواں سال بیٹے کا ساتھ چھوٹا
اب اسے نیند نہیں آئیگی!

اگر اسے نیند آئیگی بھی تو اسے خواب نہیں آئیں گے۔ اگر اسے خواب بھی آئیں گے تو خوابوں میں ماں، محبوبہ، بلوچستان کی دھرتی اور وہ بلال احمد نہیں آئینگے جن کے بغیر وہ ادھورہ ادھورہ ہے، اب اگر استاد میرل کو نیند بھی آئیگی تو اس نیند میں اسے ایسے خواب آئینگے کہ
،،انسان خواب میں
کچھ بھی دیکھ سکتا ہے
وہ دیکھ سکتا ہے کہ
دھرتی پہ لانگ شوز وں کا شور بڑھ گیا ہے
وہ دیکھ سکتا ہے کہ
اسحاق لاڑی کے بنائے ہوئے مجسمے رات کے آخری پہروں میں ایک دوسرے سے کچہری کررہے ہیں
وہ دیکھ سکتا ہے کہ
شہاب نامہ پڑھ کر کوئی وکیل
اپنے مخالفوں سے پیسے لیکر کیس ہار کر
جھوٹے گواہوں کے ساتھ
شراب پی رہا ہے
وہ دیکھ سکتا ہے کہ
کسی غیر آباد جزیرے کو آباد کرنے کے لیے
وہاں پھانسی گھاٹ تیار ہو رہا ہے
وہ دیکھ سکتا ہے کہ
ملک کا قومی پرچم تبدیل کرنے کے لیے سینٹ میں بحث چل رہی ہے
وہ دیکھ سکتا ہے کہ
کسی زبوں حال عمارت کی چھت پر مشاعرہ ہو رہا ہے
وہ دیکھ سکتا ہے کہ
شہر کی بوسیدہ اور پرانی عمارتوں پر حسین خوبصورت لڑکیاں
ریاست کے خلاف وال چاکینگ کررہی ہیں
وہ دیکھ سکتا ہے کہ
دو بیواہ عورتیں پیشن لینے کے لیے بینک کھلنے کا انتظار کررہی ہیں.!،،

استاد میرل اپنے خوابوں میں سب کچھ دیکھ رہا ہے پر یہ خواب جاگ کے خواب ہیں خوابوں کے لیے نیند کا آنا ضروری ہے
پر اب استاد میران کو نیند نہیں آتی!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔