آزادی کی جنگ جانوں کی قربانیاں، اور فدائی ریحان – ثناء بلوچ

78

آزادی کی جنگ جانوں کی قربانیاں، اور فدائی ریحان

تحریر : ثناء بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آج گيارہ اگست خون میں ڈوبا ہوئے بلوچستان کی آزادی اور آزادی کے لیئے قربان ہونے والے فداٸی ریحان کے برسی کا دن ہے۔ انقلاب روس سے لے کے انقلاب ایران تک کے تاریخ کا اگر ہم مطالعہ کریں تو انقلاب آنے سے پہلے بے پناہ جانوں کی قربانیاں دینی پڑی ہیں۔ کسی بھی قوم کو آزاد کرنے کا واحد راستہ بھی جانوں کی قربانیاں ہیں، اگر تاریخ کا جاٸزہ لیں تو دنیا میں ایک بھی ایسا قوم آزاد نہ رہا جو قربانیاں دیئے بغیر آزاد ہو۔

ہمیں بھی آزاد ہونا ہوگا، ہمیں بھی آزاد رہنے کے لیے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرنا ہوگا, ہمیں بھی امیر الملک, ریحان و بلوچستان کے لیے قربانی دینے والے بلوچوں کی طرح سفرِ آزادی تک مزاحمت کرنا ہوگا, دشمن کے خلاف لڑنا بزدل کے خلاف بولنا ہوگا پنجابی سامراج نے جبری طور پر جب سے بلوچستان پر قبضہ کیا ہوا ہے تو اول دن سے لے کر آج دن یعنی 73 سالوں سے بلوچ مزاحمت کرتے آرہے ہیں۔

چاہے وہ خان آغا عبالکریم کے رنگ میں ہو, چاہے وہ نواب نوروز, نواب مری, میر شیروف مری, سردار عطاللہ یا میرے دادا نواب اکبر کے قربانیوں کے صورت میں ہو,یا وہ میرے وطن کے جوان شہیدوں یعنی فدائی ریحان, شہید سمیع, شہید حییٰ, شہید مجید, شہید سلمان, شہید وحید, شہید بابر بلوچ, شہید دلجان, شہید حق نواز و دیگر شہداء کے بے پنا قرانیاں ہوں۔

شہداء نے اپنے جانوں کی قربانیاں دے کر ہمیں تسلی بخشی, ہمیں یہ پیغام دیا کہ ہمارا ایک الگ منزل ہے، وہ ہے آزاد بلوچستان, تو ہمیں بھی اپنے آزادی کے لیے لڑنا ہوگا, مرنا ہوگا, مارنا ہوگا ہمیں بھی ریحان بننا ہوگا, اگر ہم ریحان بنینگے, امیر بنينگے,تو آزاد رہینگے۔

پنجاب جیسے وساٸل پسند سامراج کو بلوچستان کے بلوچوں سے پیار نہیں, بلوچ سرزمين سے پیار ہے کيونکہ یہاں قدرتی طور پر بہت سے معدنيات پائے جاتے ہیں، معدنیات جو کسی بھی ملک کو ترقی یافتہ اورامیر ملک بنانے کے لیئے اہميت کا حامل ہوتا ہے۔

شہید فداٸی ریحان نے اس کم عمر میں خود کو فدا کر کے اس بات کا ثبوت واضح طور پر دیا کہ ہمیں آزادی سے زیادہ اور کوئی چیز عزیز نہیں, بس ہمیں صرف آزادی لے کر رہنا ہے, ہمارا آخری منزل آجوٸی ہیں, اس راستے میں گامزن ہونے کے لیے خود کو فدا کرنا ہوگا, اس منزل کو حاصل کرنے کے لیے قربانی دی بغیر حاصل کرنا ناممکن ہے, تو آئیں ہم بھی ریحان بنیں۔

ریحان کا وہ مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ کر بڑے گہرے خیالوں میں جا کر یہ سوچتا رہتا ہوں کہ کیا ریحان بلوچ, بلوچستان کے خونخوار حالات سے واقف نہیں تھے؟ آیا وہ شہید اور بے بَس ماوں کے وارث تھے, اگر نہیں تھے تو پھر بلوچستان پر فدا کیسا ہوا؟ اگر تھے تو مسکرا کیوں رہا ہے؟ یہاں تو ہر ماں, بہن, بھاٸی, سب پریشان ہیں لیکن حقیقت میں ریحان قومی آزادی کے لیے مسکرا رہا تھا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔