کراچی اسٹاک ایکسچینج حملے کے بعد ایس ایس یو کمانڈوز تعینات

129

کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حالیہ حملے کے تناظر میں شہر کے 8 حساس مقامات پر سندھ پولیس کے اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کے کمانڈوز تعینات کردیئے گئے ہیں۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیمیں ہر طرح کے حالات سے نبرد آزما ہونے کے خصوصی آلات سے لیس اور فوری طور پر شہر کے کسی بھی مقام پر پہنچ کر مؤثر کارروائی کی پوزیشن میں ہوں گی۔

سندھ پولیس میں جدید طرز کی خاص تربیت کے بانی اور اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کے سربراہ ڈی آئی جی مقصود میمن نے بتایا کہ ماضی میں ایس ایس یو کی اسپیشل ویپن اینڈ ٹیکٹیس ٹیم کراچی میں حسن اسکوائر پر واقع ایس ایس یو ہیڈ کوارٹر میں تعینات تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی اسٹاک ایکسینج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی ایل اے

ایس ڈبلیو اے ٹی کمانڈوز کسی بھی طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہتے تھے مگر کراچی میں  حالیہ اسٹاک ایکسچینج حملے کے بعد شہر میں حفاظتی انتظامات کو فول پروف بنانے کے لیے ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے خصوصی ہتھیاروں اور حکمت عملی کی ٹیموں یعنی ایس ڈبلیو اے ٹی کمانڈوز کی تعیناتی کے پوائنٹ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

مقصود میمن کے مطابق کراچی پولیس چیف کی نشاندہی پر ان کمانڈوز کو اب پورے کراچی میں پھیلایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے نے اسٹاک ایکسچینج حملہ آوروں کی آخری ویڈیو پیغام جاری کردی

انہوں نے بتایا کہ ان کمانڈوز کی تعیناتی کے آٹھ مقامات کو سیکیورٹی کے دیگر اداروں کے کنٹرول رومز سے منسلک کردیا گیا ہے۔

اس کا مقصد شہر میں حملوں کی صورت میں فوری جوابی کارروائی کے لیے کمانڈوز کے پہنچنے کا دورانیہ کم سے کم کرنا ہے۔

مقصود میمن نے بتایا کہ ایس ایس یو کمانڈوز بین الاقوامی طرز کی خصوصی تربیت کے بعد جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ ایس ایس یو پاکستان میں پولیس کا پہلا آئی ایس او سرٹیفائیڈ ادارہ ہے جو عالمی تقاضوں پر استوار کیا گیا اور جدید اسلحہ سے لیس ایس ایس یو کمانڈوز کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔