چمن: فورسز اور مظاہرین میں دوبارہ تصادم، 8 افراد زخمی

61

بلوچستان کے شہر چمن میں پاکستان اور افغانستان کو ملانے والے سرحدی گیٹ پر پاکستانی فورسز اور مشتعل مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں مزید مزید آٹھ افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں تین لیویز اہلکار بھی شامل ہیں۔

گذشتہ روز سے جاری تصادم میں اب تک 30 افراد زخمی اور خاتون سمیت تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ افغان حکام کی جانب سے زخمیوں کی تعداد 50 بتائی جارہی ہے۔

لیویز حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ آج مظاہرین نے لیویز کی گاڑی کو نذر آتش کردی۔ دوسری جانب فرنٹیئر کور اہلکاروں کی جانب سے دھرنا مظاہرین کے ٹینٹوں کو آگ لگانے کی اطلاعات ہے۔

چمن شہر میں گذشتہ روز سے حالات میں کشیدگی برقرار ہے۔ صوبائی وزراء کمیٹی چمن پہنچ چکی ہے جبکہ باب دوستی کا کنٹرول پاکستان آرمی کو دے دی گئی۔

ذرائع کے مطابق چمن شہر میں انٹرنیٹ سروسز کو معطل کردیا گیا۔  محکمہ داخلہ و قبائلی امور حکومت بلوچستان نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو خط لکھاتھا کہ سرحدی علاقے میں بعض لوگ ریاست کے خلاف مواد انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر رہے ہیں لہٰذا انٹرنیٹ سروس بشمول تھری جی، فور جی کو معطل کردیا جائے۔

دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملکی فوج کے سربراہ نے مسلح دستوں کو حکم دے دیا ہے کہ اگر پاکستانی فورسز کی طرف سے کوئی مزید حملہ کیا جائے تو اس کا جواب آہنی ہاتھ سے دیا جائے۔

جمعے کے دن افغان فوج نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے کی گئی شیلنگ کے نتیجے میں نو شہری ہلاک جبکہ پچاس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت دفاع کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق پاکستانی فوج کی طرف سے داغے گئے راکٹ جنوبی صوبے قندھار کے سپن بولدک ضلع کے رہائشی علاقوں میں گرے۔

افغان وزارت دفاع کے اس بیان میں مزید کہا گیا، ”ایئر فورس اور خصوصی دستوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اگر پاکستانی فوج کی طرف سے راکٹ حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو افغان آرمی اپنا ردعمل ضرور ظاہر کرے گی۔‘‘

بلوچستان میں عوامی نیشنل پارٹی نے چمن واقعے کی مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کیا ہے۔  این این پی کے بیان میں کارکنان کو تلقین کی گئی ہے کہ متاثرہ خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے 3عید ملن پارٹی اور دیگر تمام پروگرام منسوخ کرکے صوبہ بھر کے کارکن متاثرہ خاندان سے اظہار یکجہتی کیلئے عید سادگی سے منائیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بخشش، ایثار اور قربانی کے مبارک دن دونوں جانب احتیاط اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا تاکہ یہ افسوسناک واقعہ پیش نہیں آتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی غیر جانبدارنہ تحقیقات کرکے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائے۔