پاکستانی فوج اجتماعی سزا کے طور پر نہتے لوگوں کونشانہ بنا رہی ہے- بی این ایم

111

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے ہرنائی میں پاکستانی فوج کی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہرنائی کے علاقے نشپہ میں پاکستانی فوج نے قیصر چھلگری کے گھر پرحملہ کیا۔ حملے میں قیصر چھلگری کو ان کے چھ سالہ نواسی ناز بی بی سمیت دو بچوں کو شہیدکر دیا گیا۔ اس کے علاوہ قیصر چھلگری کے دوجوان بیٹوں کو بھی فوج نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا ہے۔

ترجمان نے کہا ہرنائی میں درندگی کی انتہا کرتے ہوئے پاکستانی فوج نے ایک بلوچ گھر کو محاصرے میں لے کر نہ صرف ایک بزرگ اور اس کے نواسی معصوم نازبی بی سمیت دو بچے شہید کردیئے بلکہ دو جوان بیٹوں کو حراست میں لے لاپتہ کردیا ہے۔ یہ نہ پہلا واقعہ ہے اور نہ آخری ہوگاکیونکہ ہم ایک ایسی ریاست میں غلام ہیں جس کی تاریخ محکوم قوموں پر ظلم و تشدد سے عبارت ہے۔پاکستان نسل کشی کے ذریعے بلوچ کو مٹاکر ہماری سرزمین پر ہمیشہ کیلئے حکمرانی کرنا چاہتے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح قوموں کو فنا نہیں کیاجاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی سالوں سے پاکستانی فوج اجتماعی سزا کے جارحانہ حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ اجتماعی سزا میں ایک جانب قابض فوج براہ راست لوگوں کو نشانہ بنارہی ہے تو دوسری طرف بلوچستان بھر میں اپنے ڈیتھ سکواڈز کے ذریعے ظلم و جبر کی نئی داستانیں رقم کررہی ہے۔ ڈنک اور دازن جیسے سینکڑوں واقعات رونما ہورہے ہیں۔ ہرنائی واقعہ بھی اسی بربریت کا تسلسل ہے۔ دونوں واقعات میں فرق صرف فوجی وردی اور بغیر وردی کے ڈیتھ اسکواڈز کا ہے۔ ڈنک اور دازن میں ڈیتھ سکواڈز نے ملک ناز اور کلثوم کو شہید کیا جبکہ ہرنائی میں فوج نے براہ راست ایک بوڑھے بلوچ اور کمسن بچی کو اہلخانہ کی آنکھوں کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بلوچستان کے طول وعرض میں اجتماعی سزا کے پالیسی پر شدت کے ساتھ عمل پیراہے۔ گزشتہ ہفتے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں شہید ہونے والے تسنیم کے تین بھائیوں اور والد کو دشت سے اور شاپک سے شہید سراج کے دو بھائیوں کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا ہے۔ یہ اجتماعی سزا کی بدترین مثالیں ہیں۔ اس ضمن میں عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بدمعاش اور دہشت گرد ریاست کو لگام دیکر بلوچستان میں انسانی المیہ اور انسانی تذلیل کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کریں۔