شازیہ چانڈیو مسافر محبتوں – محمد خان داؤد

44

شازیہ چانڈیو مسافر محبتوں

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

میں شازیہ چانڈیو کے لیے یہ الفاظ کیوں کر لکھوں کہ جن الفاظ کو لکھ کر سندھ کا شعور اپنا دامن چڑھا رہا ہے۔
،،ماندي نھ تھي ماروي تنھنجو اللھ بھ آھي!،،
،،ماروی مر مت تیرا اللہ بھی تو ہے!،،
شازیہ ماندی(بے چین) کیوں نہ ہو جب اس کا بیمار بھائی دو سری مرتبہ اُٹھا لیا گیا ہو اور وہ لاڑکانہ سے ایک چیخ بن کر کراچی لوٹی ہو۔ جب وہ لاڑکانہ سے کراچی کی طرف لوٹ رہی تھی تو اس کے فیس بک پیچ پر ایسے اسٹیٹس نمودار ہو رہے تھے کہ، خدارہ کل کراچی پریس کل پر میرا ساتھ دیں میری آواز بنیں میں اکیلی ہوں۔
شازیہ جب ایسے اسٹیٹس لکھ رہی تھی تو سندھ کا شعور اپنا دامن اس آگ سے بچا رہا تھا، جس آگ میں ہر وہ جل رہا ہے جس کا کوئی نہ کوئی مسنگ ہے۔
پر مسنگ ہونے والے معصوم بچے تو نہیں ہو تے جن کے لیے ہم ایاز کے یہ اشعار لکھ کر بری الزمہ ہو جائیں کہ
،،میلے میں توں تنہا تنہا
کنھن کھے گھولیں تھو!،،
،،میلے میں تو تنہا تنہا
کسے ڈھونڈ رہے ہو!،،
نہ میلا سجا ہوا ہے اور نہ ہی کوئی اس میلے میں گم ہوا ہے

پر یہ سچ ہے کہ اس وقت سندھ میں ستر سے زائد نوجوان گم ہیں اور اسے تلاشنے والے انہیں تلاشتے تلاشتے اکیلے رہ گئے ہیں۔ جب تلاشنے والے پیچھے مڑ کر سندھ کی دانش، سندھ کے شعور کو دیکھتے ہیں تو وہ بھٹائی کو آگے کرکے اپنا پلو بچا لیتے ہیں اور اپنوں کو تلاش کرنے والے پھر اکیلے رہ جاتے ہیں۔

وہ سب اکیلے تھے۔ اکیلے ہی رہے ہیں۔ وہ چیختے ہیں، چلا تے ہیں، سفر میں رہتے ہیں۔ مسافر بنتے ہیں اور پھر لوٹ جاتے ہیں وہاں جہاں سے وہ چلتے ہیں پر سندھ کا شعور ان کے ساتھ ایک کلو میٹر کیا پر ایک قدم بھی نہیں چلتا کیوںکہ سندھ کا شعور مفاد پر ست ہے۔ سندھ کا شعور مفاد کے پیچھے اندھا ہو چکا ہے۔ وہ جانتا ہے ان مسافروں کے پاس بس آگ ہے اگر وہ شعور آگے بڑھ کر ان کا ساتھی بنتا ہے تو جل جائیگا۔ اس لیے دور سے ہی لطیف کا شعر لکھ کر اپنا دامن جلنے سے بچا لیتا ہے۔
اور محبت مسافر بن جاتی ہے
سندھ میں محبت مسافر ہی رہی ہے۔
وہ سب مسافر محبتیں ہی تو ہیں جو سردیوں گرمیوں میں اپنے پیاروں کی بازیابی کے کیمپ آباد کرتی ہیں۔
کوئی کیمپ کوئٹہ میں آباد ہوتا ہے تو کوئی لاڑکانہ میں
کوئی کراچی میں تو کوئی اسلام آباد میں
ان اداس کیمپوں میں محبتیں ٹہر سی گئی ہیں اور وقت کے قاضی القضا کو خبر ہی نہیں کہ کہاں کون سی محبت چیخ میں بدلی!
بس سندھ ہی کیا پر اس وقت تو پورا ملک ہی اداس کیمپوں سے آباد ہو رہا ہے
کہاں کوئی لُٹا ہے
تو کہاں کوئی؟
ایسا نہیں ہے کہ بس لاہور لُٹا ہے، جس لاہور کے لیے بلھا شاہ نے فرمایا تھا کہ
،،میرا لُٹیا شہر لہور!!!!،،
پر اب تو دامن کوہ بھی لُٹا ہے
تو شال بھی لُٹا ہے
پھولوں کی بستی پشاور بھی جل رہا ہے
تو کراچی کی گنجان آبادی میں بھی مائیں دربدر ہیں
سندھ کے دامن میں مائیں مسافر ہیں
تو لاڑکانہ میں محبتیں بھی مسافر بنی ہیں
تو بس لہور کا ہی لُٹنا کیا؟
اب تو مائیں اور محبتیں لُٹ رہی ہے!
پر میں یہاں سندھ کے دامن کے لُٹنے کی بات کر رہا ہوں۔ میں یہاں آپ کو یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ جب سندھ کے دامن کو تار تار کیا جا رہا ہے تو کیسے سندھ کی دانش و شعور اپنا پلو بچا رہی ہے۔
سندھ کا شعور بہت ہی گھٹیا
بہت ہی منافق
اور حد سے زیا دہ بکاؤ ثابت ہوا ہے
جب ایک معصوم بچی ان اداس کیمپوں میں جا کر اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے نعرہ لگاتی ہے کہ
،،گم شدہ لوگوں کو بازیاب کرو!،،
جو ایک گونج ہے
جو ایاز کے ان الفاظ جیسی ہے کہ
،،گونج بہ کائی کونج پریان ء جی!،،
جس کا دل گم شدہ لوگوں کے خاندانوں والے کے ساتھ اس لیے دھڑکتا ہے کہ
،،بڑا ہے درد کا رشتہ
یہ دل غریب صحیح!،،
جو بہت ماہ پہلے آپ ہی سفر تھی۔ آپ ہی منزل، جو کئی ماہ پہلے آپ ہی پنھوں تھی اور آپ ہی سسی۔

جو مغوی عاقب چانڈیو کی بہن شازیہ تھی، جس نے مسافر بن کر اپنے بھائی کو بازیاب کرایا تھا، جس نے بن منزل کے سفر کیئے تھے، جو بہت روئی تھی، جس کی آنکھوں نے اشک بہائے تھے، جس کے ہاتھوں میں اپنے بھائی کی میلے پرانی تصویر ہوا کرتی تھی۔ جس کے ایک ہاتھ میں عاقب چانڈیو کی تصویر اور دوسرے ہاتھ میں بوڑھی ماں کا کانپتا ہاتھ ہوا کرتا تھا۔ کئی ماہ پہلے شازیہ چانڈیو نے شاید سندھ کا کوئی پریس کلب چھوڑا ہو جہاں وہ اپنے درد کو لیکر نہ پہنچی ہو۔
شازیہ جب بھی ایک کوُک تھی
شازیہ اب بھی ایک کوُک ہے
شازیہ جب بھی اکیلی تھی
شازیہ اب بھی اکیلی ہے
جب بھی سندھ کی دانش مفاد کا لبادہ اُوڑھ کر چھپ گئی تھی
سندھ کی دانش اب بھی مفاد کا لبادہ اُوڑھ کر چھپی ہوئی ہے
سندھ کا شعور جب بھی مراد علی شاہ کے جوتے چاٹ رہا تھا
سندھ کا شعور اب بھی مراد علی شاہ کے جوتے کیا پر تلوے چاٹ رہا ہے
شازیہ محبت تھی جو مسافر بن چکی تھی

سندھ کی دانش اور شعور نے جب بھی اس معصوم بچی پر اس عنوان سے، مسافر محبتوں!،، کالم یا اسٹیٹس نہیں لکھا، شازیہ اداس چاند کے ساتھ چلتی رہی۔ شازیہ گم چاند کے دوراں بھی مسافر بنی۔
پھر ایک دن وہ آیا کہ عاقب لوٹ آیا

عاقب کیوں لوٹا؟ اس سوال کا جواب معصوم شازیہ کے مسافر پیر اور روتی آنکھیں دیکھ کر جواب مل جاتا ہے۔ پر وہ نہیں لوٹے جو بہت ہیں اور اسیر ہیں، شازیہ چاہتی تھی کہ وہ بھی لوٹیں اپنے گھروں، اپنی ماؤں، اپنے بچوں اور اپنی محبوباؤں کے درمیان رہیں۔

اسی پکارکی سزا پھر سے شازیہ کو ملی ہے اور ایک بار پھر عاقب چانڈیو کو گم کر دیا گیا ہے، پر اب کی بار عاقب چانڈیو بیمار ہے اور شازیہ مسافر۔ وہ جب بھی مسافر تھی جب اسے موبائل فون سے یہ اطلاع ملی کی عاقب کو پھر اُٹھا لیا گیا ہے اور سندھ کا شعور لطیف کا یہ شعر سُنا کر خاموش کرنا چاہتا ہے کہ
،،ماندي نھ تھي ماروي تنھنجو اللھ بھ آھي!،،
وہ کیوں ماندی نہ ہو
جب محبتیں مسافر بن جائیں
اور شعور مفاد کے کپڑے پہن لے؟


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔