سورج کا شہر (حصہ دوئم) | قسط 29 – ڈاکٹر شاہ محمد مری

65

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

سورج کا شہر (سفر نامہ) – ڈاکٹر شاہ محمد مری
حصہ دوم | پندرہ برس بعد | بلوچستان کی سڑکوں پر……

بلوچستان کے ہر پہاڑ کا ہر پتھر سمجھو لکھا مسودہ، ایک تاریخ، ایک افسانہ، ایک ناول۔ مگر اس شاہراہ پرچلتے چلتے آپ بلوچ تاریخ اور جغرافیہ میں سے بالخصوص QALAT کو TALAQ نہیں دے سکتے، کہ قلات میں ہماری قوم کی عظمت کی فلک بوس سربلندی سے لے کر تذلیل کی دوسری انتہا تک کے فیصلے دفن ہیں۔ یہ وادی بادشاہوں، سربراہوں اور سفیروں کے تحفوں اور اُن کی میزبانی کے مزے بھی لیتی رہی، اور حملہ آوروں کے گھوڑوں کو، مزاہمت کے توبرے بھی کھلاتی رہی۔ یہاں وطن کی آزادی کی بحالی کے متبرک فیصلے بھی ہوتے رہے اور داخلی فیوڈل حاکمیت کی سیاہ کاریاں طویل کرنے کی سازشیں بھی پکتی رہیں۔

یہاں ”مِیری“ نام کے اُس قلعے کے آثار موجود ہیں جو بلوچوں کی ریاست و سلطنت کا چار سو برس تک مرکز رہا تھا۔ اور جسے زلزلے، اور بارشوں نے تباہ کردیا ہے۔ یہیں قلات میں سادہ اور مردم نا شناس ”خان“ احمد یار خان کی وہ مسجد بھی موجود ہے جس کا مینارہ حکومت کی توپوں سے زخمی ہوگیا تھا اور جسے خان نے جوں کاتوں رکھنے کی فرمائش کی تھی۔ اسی توپ ماری کے نتیجے میں بلوچستان کو گلے سے پکڑ کر ایک کڑی میں ڈال دیا گیا تھا۔ اس کی نصف ہزار برس کی آزاد حیثیت ختم کرکے اُسے ایک بالکل ہی نوزائیدہ ملک کی ون یونٹی میں بھرتی کردیا گیا تھا۔

یہیں اِسی قلات میں سکھر جیل میں پھانسی چڑھائے گئے اُن بلوچوں کے روضے ہیں جو اِس ”ضم ناکی“ کے خلاف لڑے تھے۔ اور یہیں پر بلوچستان کے، خانوں بادشاہوں کے مزار ہیں جو اس دارالخلافہ کی تاریخی اہمیت بڑھاتے ہیں۔

اسی قلات میں، بالخصوص اُس بادشاہ کا مبارک روضہ بھی ہے جو انگریز کے خلاف دست بدست جنگ کرتے ہوئے شہید ہوچکا تھا۔ اس کا متبرک نام تھا: خان محراب خان (لعل شہید)۔ غالباً اِس پورے خطے میں بلوچوں کے اس حکمران کے علاوہ کوئی اور حکمران انگریز سے دست بہ دست جنگ کرتے ہوئے نہ مارا گیا ہو ………… بلوچستان انوکھی تاریخ بناتا رہا ہے!!۔

ہم جب سُوراب سے گزرے توہم نے اِس عجب نام پر غور ”فرمایا“، بحث کی۔ یہ پتہ نہیں ”سُہر آف“ (سرخ پانی) ہے، یا ”سور آف“(نمکین پانی)۔ اور اگر یہ ”سور آف“ ہے تو پھر اس کے ”س“ پر پیش کس طرح پڑا ہوگا اور یہ عوام الناس میں کیسے قبولیت پاچکا ہوگا، اس لیے کہ اس کا مطلب تو کچھ نہیں نکلتا۔

ہم نے خضدار کراس کیا، مگر چائے کا کپ پی کر۔ ایک بدترین خانہ جنگی کے مرکز میں زیادہ دیر ٹھہرا بھی تو نہیں جاسکتا۔بے گناہوں کا خون جہاں بھی بہا ہو، وہاں کی پاک ہیبت آپ کو خود میں ڈوبنے نہیں دیتی، آپ اچھال کھا کر وہاں سے نکل جاتے ہیں۔ ریاست کے مسلح کردہ جتھوں نے بلوچستان کو ”تُوتکستان“ بنا ڈالا ہے۔

ہم وہاں سے نکلے۔ بلوچستان کی کسی بھی شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے آ پ تعجب میں پڑیں گے کہ ہمارا یہ وطن کتنا بڑا ہے۔ ہر سفر تقدس بھرا سفر کہ بلوچستان اپنا وقار جگہ جگہ جتاتا جاتا ہے۔ تئی پندہاں سیذ جناثاں: (مرشد تجھ پہ سفر کریں شالا) اور اس میں رنگ و نور کی کیا کیا انواع موجود ہیں۔ بلوچستان! تیر! تقدس، تیرے جغرافیہ میں بھی ہے۔

ہم مرکزی سڑک چھوڑ کر بیلہ شہر چلے گئے۔ اِسے ”بیلہ“ لکھا جاتا ہے۔ سوچا یہ کیسا نام ہے۔ کیا یہ ”بیلا“ نہیں ہوسکتی تھی؟۔مگر”بیلا“ کیوں ہو۔ بلوچ قدیم شہرکا نام نئی زبان اردو میں کیوں ہو؟………… ہمیں یہاں بیلہ میں اپنی ایک قومی بدنصیبی کا منبع دیکھنا تھا، اپنی بربادی کا ایک سبب دیکھنا تھا، سنڈیمن کی قبر دیکھنی تھی۔ ہم اپنی عبرت کے ایک سب سے بڑے سبب کو دیکھنا چاہتے تھے، لہٰذا ہم شہر کی پان سے سرخ دیواروں سڑکوں پر سے گزرتے ہوئے سنڈیمن کی قبر تک پہنچے۔ یہ، سمجھو دو فٹ بال گراؤنڈوں جتنا خالی رقبہ ہے۔ اور اس کے دوسرے سرے پر ایک پر شکوہ مگر بہت ہی سادہ مقبرے میں سنڈیمن دفن ہے۔ قبر کے اوپر سنگ مر مر کی تہہ چڑھی ہوئی ہے۔ پھر کھلے محرابوں پہ مشتمل زرد رنگ کا مستطیل کمرہ بنا ہوا ہے۔ اُس کے بعد ایک چار دیواری ہے جس پہ عام بکریوں والے باڑھ جیسا دروازہ لگا ہے، کنڈی کے ساتھ۔ تالا والا کچھ بھی نہیں ہے۔
قبر پر کالے رنگ کے سنگ مر مر پر اُس سے متعلق انگریزی میں تعارفی تحریر ہے۔ مگر اس قدر مبہم و مدہم کہ اچھی طرح پڑھی نہیں جاسکتی۔ ہم زرد رنگ کے گنبد نما پرشکوہ مقبرے میں سیاہی مائل سنگِ مر مر کی تحریر کو دیر تک پڑھتے رہنے کی جستجو کو ترک کرکے اُس کے عہد کو یاد کرتے رہے۔

ہم اُس کا تعارف یہاں نہیں کر پائیں گے۔ کہیں اور ہم نے اس کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔ بس یہاں تو وہی کچھ کہنا کافی ہوگا جو کہ ہمارے وفد کے لیڈر جیئند خان جمالدینی نے اُس کی قبر پر اچانک انگلی لہراتے فی البدیہہ طور پر کہا تھا، انگریزی میں بھی، اور اردو میں بھی (پتہ نہیں اُس بلوچ دشمن کی قبر پر اُس نے بلوچی میں تقریر کیوں نہ کی؟): ”یہ ہے اُس شخص کی قبر جس نے بلوچوں کو تباہ و برباد کرنے کی پالیسی بنائی تھی“۔
ہم سات سمندر پار کے اِس دشمن کی قبر کو متانت، رنجیدگی و سنجیدگی و سنگینی سے دیکھ کر دماغ میں آئے سیکڑوں فلموں کو جھٹک کر چل دیے۔ مجھے بوڑھا کریموجت یاد آیا۔ اُس نے اِس سِن مِن (سنڈیمن) کو سرداروں سواروں کی معیت میں مری علاقے سے گزرتے دیکھا تھا۔

یہ شکر ہے کہ بیلہ والے لوگ جیکب آبادکے لوگ نہیں ہیں۔ ورنہ وہ بھی سنڈیمن کی قبر پرستی کرتے جس طرح کہ خان گڑھ (جیکب آباد) والے، غاصب جنرل جیکب کی قبر کو ولی کی قبر گردان کر اس پہ جمعراتوں کو چراغ جلاتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔