بی ایس او اور جمود کے اسباب – عدید

61

بی ایس او اور جمود کے اسباب

تحریر : عدید

دی بلوچستان پوسٹ

یہ بات توکوئی غلط بات نہیں کہ اب تک بلوچ سماج کی حقیقی زندگی یعنی تعلیم یافتہ باشعور طبقہ روایتی انداز سے اپنے خواہشات کی تکمیل بڑے زور و شور سےکررہاہے، ایک طرف ہمارے قومی مسائل، جن میں ہم الجھے ہوئے ہیں، دوسری طرف ہماری دانش کدہ نقطہ نظر یعنی ہم قوم کی ترقی اور خوشحالی کی باتیں بھی حاوی قوت سے کرتےہیں، چلیئے اب ہم اپنی استعداد کے مطابق طلباء سیاست کو خط مستقیم کی جانب راغب راہ دیکھتے ہیں کہ وہ کس حد تک بی ایس او کی سیاسی پلیٹ فارم سے قومی شعوری وابستگی رکھتے ہیں۔ وہ Organizationڈسپلن اور پلیٹ فارم سے عہد وفا نظریاتی گیت، حلف برداری صرف اور صرف جھوٹ کی گنجائش پر اطلاق کرتےگئےہیں یہ بات ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ثناء بلوچ افکار حرارت سے بی این پی کے لیے ایک پائیدار مطلب رکھتی ہے لیکن روایت کے مطابق بی این پی کا سربراہ آج بھی اخترمینگل ہی ہے۔

مالک حاصل کے مطابق کتنا ہی سیاست میں گرفت رکھتاہو لیکن چہرہ حاصل خان ہمیشہ نیشنل پارٹی کا نشان ہی رہےگا
کیوں ۔۔
بی این پی اور این پی کے کونسل سیشنوں کے بعد بھی پارٹی سربراہوں کاچہرہ سپر مین بدلتےنہیں کیوں؟ اخترمینگل کے علاوہ کوئی اور لیڈنگ کواہمیت نہیں دی جاتی؟

اس نظریے کی روسےتکلیف دہ اور پریشان کن واقعات یہ ہیں کہ اختر مینگل بنیادی طور پر ایک سیاسی سردار ہے اور دوسرا فراموشی کانظریہ یہ ہے کہ مالک ایک پیٹی بوژواہ کے برابر بیٹھ نہیں سکتا۔ اب وہ ثناءبلوچ کا تیززبان جس سے ترقی کا شعلہ آسمان کو کراس کرتاہے یہاں پر کیوں جمود کا شکار ہے جس کی آواز سے پورا پارلیمنٹ گونج اٹھتا ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ بی این پی کا ایک مفلوج شدہ نمائندہ ہے جس کی دسترس میں کچھ نہیں ماسوائے حکومتی مسئلوں کو پارلیمنٹ میں ہائی لائٹ کرنے کے؟

زبان کی نوک اب تک قید میں نہیں ۔۔ کہنے کا مقصدیہ ہےکہ ہم واپس اپنےمتن کی جانب بڑھتےہیں، یہ جو روایتی بیماری رائج ہے یہ صرف بی این پی و این پی میں نہیں رہا بلکہ اب تو اس مرض سے پجار اور بی ایس او میں بھی اختلال ذہنیت شدت سے پائی جاتی ہے یہی انداز طلباء طبقےکی سیاسی جذبات اوراحساسات کو سخت بری طرح متاثر کرتی ہے۔ طلباء کو ان کے مقصد کے مطابق شعور و فہم کے بنیادی سمت پر سیاست کی اجازت دی جائے تاکہ آنے والے دنوں لیڈر شپ اور اخلاقی سیاسی بحران پر قابو پایاجاسکے، بی ایس او کی لازوال تاریخی قربانیاں چیئرمین شپ سمیت کسی بھی ذاتی مفاد کے لیے متحمل نہیں تھی بلکہ شعوری آگاہی ان کاخاص ہتھیار تھا لیکن آج کچھ نابلد سیاسی نا بالغ بی ایس او کے نام پر اپنی ذاتی مفادات کے پراڈکٹ چلا رہےہیں جوکہ نظریاتی حوالےسے اپنا توازن برقرار رکھ نہیں سکتے۔ چیئرمین نذیر ایک وائنڈپ شدہ چیئرمین کی حثیت سے بطور نرگسیت خراج تحسین حاصل کرنے کی کوشش میں بی این پی کی بجائے بی ایس او سےدریافت ہوئے۔ اب ہم سیدھی سی باتوں میں اسے (سیاست کی المناک موت) کہہ سکتےہیں۔ اب یہ کس منہ سے اپنے پارٹی کارکنوں کو لینن کی طرح سمجھا سکے گی کہ مطالعہ مطالعہ مطالعہ اور انہیں باشعور سوشل ڈیموکریٹ بنادو۔۔کیونکہ پارٹی کا مقصد ہی عوامی شعور ہوتاہے۔

بی ایس او یا پجار سمیت گروانڈ پر موجود کسی بھی گروپ کا شعور پھیلانے والا جریدہ یا اخبار کہاں ہے؟ ان چیزوں کا ہمیں تب پتا چلے گا جب ہم ہاسٹل کمروں کی سیاست سے باہر آجائنگے، اب ایجاد کا انوکھا پن آنے والی چیئرمین کے لیے راہِیں ہموار کررہاہے دیکھنا یہ ہےکہ اس روایت میں واہ واہ اورجی جی کامفادپرستی کی موسیقی پر نچانےوالاگھنگھرو کس کے پاوں میں ڈالناہوگا۔ چیئرمین شپ کی سلیکشن افزائش، نفرت کی بنیاد پربغیرفکری انداز سے ہورہاہے۔ تربیتی پروگراموں کے بغیرسیاسی تشکیلات اسٹوڈنٹس طبقےکی سمجھ سے بالاترجبری نقطہ نظرہے۔ اب فکری تصادم سےزیادہ ذاتی ضد کے تصادمی رجحانات پیدا ہورہےہیں۔ طلباء اس قدر جذباتی بنیاد پر سیاست میں اپناحصہ داری ڈال رہےہیں کہ بعض اوقات ان سے یہ سوال کیا جائے کہ بی ایس او کا منشور کیا ہے؟ اس میں اسباب توانائی کاوژن کیا ہوسکتاہے۔ حمید بلوچ اور فدا شہید کی فکری افکار کے مناسبت سے پروگرام بنانے والوں کو شاہدان شہداکی نظریاتی بنیادبھی پتاہوگا لیکن پھر بھی طلباءنظریاتی سلیقہ سیاست سےدور مفادات کی جنگ این پی اور بی این پی کے سنگ لڑ رہےہیں۔

بی ایس او پجار اور بی ایس او کےپاس سیاست کےلیے ایساکوئی بھی مستحکم ویژن موجود نہیں جس سےطلباء اسٹڈی سرکل کاآغاز کرتے ہوئے قومی استفادہ کے بارے میں سوچ سکیں۔ ظاہر سی بات ہے یہاں لیڈر شپ کا بحران کیسےجنم نہ لیِں جو اختر مینگل سے قریب ہے وہی چیئرمین ثابت ہوگا، جو مالک سے قربت رکھتاہے وہی تاج دار بن سکتاہے، اب لازم سی بات ہے کہ ہرطلباء کا الگ سیاسی دکان کھلا ہوا ہے، پہلے وہ طلباء کی تربیتی پروگرام سے فداجیسے عظیم استاد پیدا ہوتےتھے، اب شعورکے ناہونےسےسیاسی سوداگر اورکم لائق وجودمیں آرہےہیں۔ دم پر پیررکھنےسےحقیقت کا اجاگر ہوناشروع ہوجاتاہے۔

اسٹوڈنٹس اگرسچی اوراچھی سیاست کی جانب راغب ہونا چاہتےہیں توپھربھی انہیں ایک مشقت برداشت کرناپڑیگا کہ روایتی سیاسی حضرات سے دور رہیں، بی این پی کاسربراہ تادم مرگ اخترہی رہیگا اور اسی طرح نیشنل پارٹی کی بھی حالت ہے، جب تک یہ چہرے بدلتے نہیں ۔تب تک بلوچستان میں سیاست کا رویہ کار بھی نہیں بدلے گا، وہی سوچ، وہی پرچار، آج موجودہ طلباء میں بھی نسل در نسل منتقل ہورہی ہے۔ بڑے کھیل مداری والے ویسے بھی سرمایہ داری وزارت کاری کے چکرکاٹ رہےہیں اب یہی لالچ کا سیاسی بصیرت طلباء کے جینزمیں بھی شامل ہونےلگا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔