مند: انسداد منشیات کے عالمی دن پر احتجاجی ریلی اور سیمینار

638

بلوچستان کے علاقے مند میں سول سوسائٹی کی جانب سے 26 جون انسداد منشیات کا عالمی دن کے مناسبت سے منشیات کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی اور سمینار کا انعقاد کیا گیا۔

پروگرام کے مہمان خاص حاجی حنیف رند اور اعزازی مہمان ملا نوید تھے۔ ریلی اور سیمینار میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی، شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مند کو منشیات سے نجات دلاؤ، نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچاؤ اور مند میں منشیات کے اڈوں کو فوری طورپر بند کرو کے نعرے درج تھے۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات ایک زہر ہے جسے ایک سازش کے تحت بلوچستان کے نوجوانوں کے رگوں میں تیزی سے منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں نشے کا عادی بنایا جارہا ہے۔ اب تک ہمارے سینکڑوں نوجوان منشیات جیسے زہر کے استعمال کے سبب اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں اور اب بھی سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان منشیات جیسے لعنت میں مبتلا ہیں اور منشیات فروش ہمارے نوجوان نسل کو تباہی کی جانب راغب کرنے میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مند میں منشیات کے روک تھام کیلئے ہم سب نے جدوجہد کرنا ہے تاکہ آنے والی ہماری نوجوان نسل اس لعنت سے محفوظ رہ سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منشیات ایک ناسور ہے جس نے سماج کو تباہ کیا ہے۔ منشیات کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات اٹھاکر نوجوان نسل کو اس ناسور کی جانب گامزن ہونے سے روکا جائے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ہمارے مستقل کے معماروں کو ایک سازش کے تحت نشے کا عادی بنا دیا گیا ہے۔ پولیس انتظامیہ اینٹی نارکوٹکس کے اداروں کو معلوم ہے کہ منشیات کہاں سے آتا ہے اور کہاں منشیات کے اڈے قائم ہیں ان کے خلاف کاروائی کرنے سے کتراتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خدارا ہمارے نوجوان نسل کی زندگیوں کو بچایا جائے اور منشیات جیسے ناسور کے روک تھام کیلئے عملی اقدامات کیئے جائیں۔

اس موقع پر کیپٹن ادھم شاہ، عبداللہ میر، ثناء اللہ لاشاری، شعیب رند، محسن ناصر، راشد مجید، انور شاہ اور عبید بلوچ موجود تھے۔