ماہ رنگ بلوچ بنت شہید میرغفار بلوچ – سمیرا بلوچ

278

ماہ رنگ بلوچ بنت شہید میرغفار بلوچ

تحریر: سمیرا بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ماہ رنگ بلوچ کوئٹہ میڈیکل کالج کی ایک طالبہ ہے۔ جو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر اپنے بلوچ قوم کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں ماہ رنگ بلوچ کی بلوچ مسنگ پرسنز کے معاملہ پر، یا بلوچستان میڈیکل کالج کی طالبات کی ہاسٹل سے متعلق مسئلہ ہو ، یا چاہے وہ بلوچستان یونیورسٹی میں نسب خفیہ کیمروں سے متعلق جنکے ذریعے طالب علموں کے بلیک میلنگ کا بازارِ سرگرم تھا، یا حالیہ دنوں میں بلوچستان میں آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج ہو۔ ماہ رنگ بلوچ ان نا انصافیوں کےخلاف احتجاج میں صف اول میں کھڑی نظر آئی۔ آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کے دوران بلوچ خواتین طالب علموں کے ساتھ ناروا سلوک کے خلاف مزاحمت کے دوران ماہ رنگ بلوچ کی دیگر طالبات کے ساتھ گرفتاری، اسکے جذبے کو کمزور نہیں کر سکی۔ جس ہمت اور جرات کے ساتھ حق کے لیے ماہ رنگ بلوچ ثابت قدم رہیں اس بات کی دلیل ہے، کہ مستقبل قریب میں ماہ رنگ بلوچ کی اپنی قوم کے لیے جدوجہد صرف ایک جہد کار کے طور پر نہیں بلکہ ایک قومی لیڈر کے طور پر ابھر رہی ہے۔

جہاں تک مجھ ناچیز کی علم کا پیمانہ ہے۔ اسکے مطابق لیڈر ہر انسان نہیں بنا سکتا ہے۔ لیڈر کے اگر معنی کو دیکھا جاۓ ، تو لیڈر وہ انسان بن سکتا ہے جس میں رہنمائی کرنے کی صلاحیت ہو ۔ جسکی آواز اور کلام میں وہ جوش وجذبہ اور طاقت ہو ، جو لوگوں کو اپنی سوچ کی پیروی کرنے مجبور کر سکے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو سچ اور حق کی پہچان رکھتا ہو۔ ظلم اور ناانصافی کے خلاف ظالم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر جدوجہد کر سکے۔

لیڈر وہی بن سکتا ہے جس میں موت کا خوف نہ ہو ۔ لیڈر صرف بہادر لوگ بن سکتے ہیں، بہادری وہ جس میں اپنے قوم کے حق کے لیے ظلم کے سامنے آواز بلند کر سکے ، اپنے قوم کے مفادات کے لیے مفاہمت نہیں جدوجہد کرکے ان کو انکا حق دلائے۔

ماہ رنگ بلوچ میں ہمت، بہادری، اور ان کی آواز میں وہ طاقت اور جذبہ ہے جو بلوچ قوم کو یکجا کرسکتی ہے۔

یہ جراہت اور بہادری ماہ رنگ بلوچ کو وراثت میں ملی ہے۔ ماہ رنگ بنت شہید میر غفار لانگو بلوچ کو بلوچ قوم کا ہر فرد جانتا ہے۔ انکے جیسے بہادر اور محب الوطن شخصیت کی بیٹی انھی کی طرح قوم پرستی کی راہ پر گامزن ہے ۔

شہید میر غفار لانگو کو 2000 میں پاکستانی فوج کے خفیہ ایجنسیوں نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ایک ماہ تک حبس بے جا میں رکھ کر انھیں طرح طرح کی ذہنی اور جسمانی اذیتںں دے کر رہا کر دیا گیاتھا۔ لیکن پاکستانی فوج کے کارندوں کی اذیتوں نے میر غفار شہید کے محب الوطنی کے جذبے کو مجروح نہیں کرسکے۔

2006 میں پھر سے پاکستانی فوج کے خفیہ اداروں نے میر غفار لانگو کو جبری طور پر اغواء کیا اس دوران میر غفار کے اہل خانہ نےانکی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج کیا ، تب سے ماہ رنگ بلوچ اس ظلم ریاست پاکستان کے ناانصافیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ ماہ رنگ مسنگ پرسنز کے لواحقین کے غم کو اپنا غم اس لیے سمجھتی ہے، کیونکہ وہ خود اس درد اور اذیت سے گزر چکی ہے۔ کہتے ہیں کہ لوہا آگ میں تپ کر سونا بنتا ہے۔ اسی لیے ماہ رنگ آج سونا بن چکی ہے کیونکہ وہ خود آگ میں تپ چکی ہے۔ یہ بہادری، یہ جرات ، یہ موت کے ڈر سے بےخوفی انکے خون میں شامل ہے۔

2009 مئی میں میر غفار لانگو کو پاکستانی اداروں نے رہا کر دیا تھا ، اور پھر دوبار سے 11 دسمبر 2009 کو کراچی سے اغواء کیا گیا اور 1جولائی 2011 کو گڈانی سے ان کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔

خود پاکستانی فوج کے اہلکاروں کے گوشہ نشینوں سے اس بات کا دبے الفاظ میں اعتراف کیا گیا تھا کہ میر غفار لانگو جیسا بہادر انسان دنیا میں بہت ہی کم ہوتے ہیں۔

ماہ رنگ اسی عظیم شہید کی بیٹی ہے ۔ جو کٹھ پتلی جام کمال اور پاکستان کے ظلم ریاست کے مظالم کو دنیا کے سامنے اجاگر کرکے انھیں بے نقاب کر رہی ہے۔

بلوچستان کی سرزمین بد نصیب ضرور ہے کہ اس پر ظالم اور ناپاک پاکستانی فوج کا قبضہ ہے۔ لیکن بلوچستان کی سرزمین بانجھ نہیں ہے اس نے ایسے بہادر سپوت جنم دئیے ہیں،جو اپنی سرزمین کی خودمختاری کی جنگ ایک ایسے فوج سے کر رہی ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے۔

میر غفار لانگو شہید کا پیغام قابض فوج کو یہی تھا کہ، آپکی غلامی کا بوجھ ہم نہ ڈھوئیں گے۔ آبرو سے مرنے کا فیصلہ ہمارا ہے۔ پاکستانی فوج ، نواب اکبر خان بگٹی، میر غفار لانگو، غلام محمد بلوچ، میر بالاچ خان مری، استاد اسلم بلوچ، شہداد اور احسان بلوچ کو تو شہید کر سکتا ہیں۔ لیکن یہ بھی یاد رکھے کہ عمر بھر تو کوئی بھی جنگ نہیں لڑ سکتا ہے۔ تم بھی آخر کار ٹوٹ جاؤ گے ، تجربہ ہمارا ہے۔

بلوچ جہد کا نیا اور روشن نام ماہ رنگ بلوچ ہے۔ ماہ رنگ کی ریاستی طاقت کے خلاف مزاحمت بلوچ قوم کی تاریخ میں ایک نیا اور خوبصورت باب متعارف کروا رہی ہے۔

مزاحمت زندگی ہے،. مزاحمت زندگ باد!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔