حکومتی اتحاد سے علیحدگی پر بی این پی کا حاصل؟

117

حکومتی اتحاد سے علیحدگی پر بی این پی کا حاصل؟
ٹی بی پی اداریہ

بلوچستان اور پاکستان کا ستر سالوں پر محیط “جبری تعلق” دھوکہ دہی اور وعدہ خلافی کی طویل تاریخ ہے۔ اس کا آغاز خان قلات کے بھائی شہزادہ عبدالکریم سے ہوتے ہوئے نواب نوروز خان زہری کی گرفتاری تک پہنچتی ہے، اور بالآخر نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت بھی انہی دھوکہ دہیوں کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ وعدہ خلافیوں کے تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت اور بی این پی مینگل کے درمیان 2018 میں طے پانے والے چھ نکاتی معاہدے کو وفاق نے لائق اعتناء سمجھنے سے انکار کردیا ہے۔

ابتدائی طور پر اس معاہدے کو بی این پی کیلئے دونوں طرف سے ایک فتح کے طور پر دیکھا جارہا تھا، ایک طرف وفاق میں اپنے چار ووٹوں سے تحریک انصاف کی حکومت کو سہارہ دینے کی وجہ سے وہ اسٹبلشمنٹ کیلئے قابلِ قبول ہوئے تھے اور دوسری طرف لاپتہ بلوچوں کا مسئلہ معاہدے اور پارلیمنٹ میں اٹھانے پر انہیں بلوچ قوم پرست حلقوں میں بھی پذیرائی حاصل ہورہی تھی۔ طے شدہ مجوزہ معاہدے کا سب سے اہم نکتہ بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی ہی تھی، بادی النظر وفاق کی جانب سے اس وعدے کی ایفاء نا ہونے کی وجہ سے بلوچستان نیشنل پارٹی نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا۔

بہت سے تجزیہ نگاروں کے مطابق مجوزہ معاہدے کو بہرصورت ناکام ہونا ہی تھا، تاہم اس دوران جو 417 لاپتہ بلوچ رہا کئے گئے، انکے رہائی کا سہرا بی این پی اور اختر مینگل کے سر سجا۔ لیکن اختر مینگل نے خود 17 جون کو اسمبلی میں اپنے تقریر کے دوران اس بات کا اقرار کیا کہ 2018 میں طے پانے والے انکے معاہدے کے بعد تحریک انصاف کی دور حکومت میں مزید 1500 بلوچوں کو لاپتہ کئے گئے ہیں۔ تاحال کوئی بھی بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے سلسلے کے روک تھام میں ناکامی کی ذمہ داری اٹھانے کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔

بہرحال، بلوچ عوام کی ہمدردیوں اور حزب اختلاف کی حمایت کو مدنظر رکھا جائے تو بی این پی کا حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ بہت بروقت تھا۔ پورے بلوچستان میں پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے استحصالی پالیسیوں کے خلاف غم و غصے کی ایک نئی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مبینہ طور پر فوج کے بنائے ہوئے ” ڈیتھ اسکواڈوں” کے خلاف احتجاجوں کا سلسلہ اب چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے۔ گذشتہ ہفتے بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایک اور بلوچ خاتون کلثوم بلوچ کی مقامی ڈیتھ اسکواڈوں کے ہاتھوں ہلاکت نے جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کیا۔ بلوچستان میں سیاسی شعور کی ایک نئی ابھار دیکھی جاسکتی ہے۔

اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران اختر مینگل نے بلوچستان میں دوبارہ ڈیتھ اسکواڈوں کو متحرک کرنے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ڈیتھ اسکواڈ وہ مسلح گروہ ہیں جنہیں مبینہ طور پر پاکستانی فوج بلوچ قوم پرستوں کے خلاف استعمال کرتی ہے۔

یہ ڈیتھ اسکواڈ نا صرف عام بلوچوں کا زندگی اجیرن بنانے کا باعث ہیں بلکہ ان سے اختر مینگل ذاتی طور پر بھی متاثر ہورہا ہے۔ بدنام زمانہ ڈیتھ اسکواڈ سرغنہ اور اختر مینگل کے علاقائی و قبائلی مخالف شفیق مینگل کو ایک بار پھر متحرک کردیا گیا ہے۔ اب شفیق مینگل کھلے عام اختر مینگل کا انکے آبائی ضلع خضدار میں مخالفت کررہا ہے، انکے خلاف ریلیاں و اجتماعات نکال رہا ہے، لیکن اس بار شفیق مینگل کو مسلح صورت میں نہیں بلکہ سیاسی صورت میں متعارف کیا گیا ہے اور وہ جھالاوان عوامی پینل (جاپ) کے نام سے باقاعدہ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ یاد رہے اس سے پہلے، شفیق مینگل پر توتک کے اجتماعی قبروں اور قوم پرست سیاسی کارکنوں کے ٹارگٹ کلنگ اور اغواء کا الزام لگ چکا ہے۔