بلوچ زندگیاں معنی رکھتی ہیں – ٹی بی پی اداریہ

27

بلوچ زندگیاں معنی رکھتی ہیں

ٹی بی پی اداریہ

بوسٹن، بلیدہ، نیویارک، خاران، سیئٹل، کوئٹہ، مینیسوٹا، تربت، ڈینور، خضدار یہ فہرست طویل ہوتی جاتی ہے۔ یہ شہر اور انکے ناموں کے بیچ دنیاؤں کا فاصلہ ہے، جن میں ایک دوسرے سے مختلف رنگ، نسل اور قوم کے لوگ آباد ہیں لیکن پھر بھی ان میں ایک قدر مشترک ہے کہ یہ سب ایک منظم تشدد کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

جب تاریخ امریکی شہر مینی پولِس میں 25 مئی تھا، تو بلوچستان کے ضلع تربت کے نواحی قصبے ڈھنک میں وقت آگے سَرک کر اگلا دن ہوچکا تھا۔ رات کے 2 بجے ایک ماں ملک ناز کو بلوچستان میں ایک ڈاکے کے دوران قتل کیا جاچکا تھا اور دوسری طرف ایک باپ جارج فلائیڈ کو صبح 7 بجے امریکی پولیس نے قتل کردیا۔ برمش بلوچ اور جینا فلائیڈ ایک وقت میں یتیم کردیئے گئے۔

دونوں ممالک میں احتجاجوں کو سلسلہ شروع ہوگیا، ایک طرف ایک سیاہ فام امریکی اور دوسری طرف ایک زخمی یتیم بلوچ بچی کیلئے انصاف مانگا گیا۔ لیکن بغور جائزہ لیا جائے تو ان دونوں احتجاجوں کی جڑیں پیش آنے والے واقعے سے زیادہ گہری ہیں۔ امریکہ میں سیاہ فام افراد 60 کے دہائی کے “سول رائٹس موومنٹ” کے بعد بھی مکمل برابری حاصل نہیں کرپائے، اور انہیں سماج اور نظام میں ہر طرف نسلی تعصب اور زیادتیوں کا سامنا ہے۔ جارج فلائیڈ کے قتل سے غصے کا وہ آتش فشاں پھٹ پڑا جو طویل عرصے سے اس متعصبانہ نظام کی وجہ سے لاوے کی صورت میں اندر ہی اندر پک رہا تھا۔

اسی طرح بلوچ گذشتہ سات دہائیوں سے ریاست کے منظم اور سلسلہ وار تشدد کا سامنا کررہے ہیں، یہ تشدد و تعصب گوروں کی جانب سے نہیں برتی جارہی، بلکہ پاکستانیوں کی جانب سے مسلط ہے۔ وہ پاکستانی جو امریکہ کے سیاہ فاموں کی تحریک ” بلیک لائیوز میٹر” سے ہمدردی جتا کر اپنے پروفائل تصویریں سیاہ کرتی ہیں، لیکن انہیں بلوچستان میں جاری قتل و غارت سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان پر اثر نہیں پڑتا اگر انکے ریاست کا مسلح کردہ ڈیتھ اسکواڈ ایک معصوم عورت کا قتل کردے۔

ڈیتھ اسکواڈ بلوچستان بھر میں پھیلے ہوئے ان مسلح جتھوں کو کہا جاتا ہے، جنہیں مبینہ طور پر پاکستان فوج اور خفیہ اداروں نے مسلح کرکے یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ ہر آزادی پسند بلوچ کو نشانہ بنائیں۔ بدلے میں انہیں یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ ڈاکے ڈالیں، منشیات سمگلنگ کریں یا اسلحہ کا کاروبار کریں، قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں ہاتھ نہیں لگاتے۔

پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا نے ملک ناز اور بلوچستان میں ہفتے بھر جاری رہنے والے احتجاجی سلسلے پر ایک خبر تک نہیں چلائی۔ بلوچستان کے تمام بلوچ اکثریتی اضلاع میں گیارہ سال کے عرصے بعد اتنے بڑے پیمانے کے احتجاجی ریلی اور مظاہرے دیکھنے کو ملے۔ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ” اب بہت ہوگیا” اور یہ مطالبہ کررہے تھے کہ ریاست اپنے بنائے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ ختم کردے، اور انہیں دی گئی لوٹ ماری و قتل و غارت کی آزدی واپس لیکر گرفتار کرے۔

اس سانحے کو اپنے خبروں میں جگہ دینے کے بجائے پاکستان کے ایک ممتاز نیوز چینل نے ملک ناز کی زخمی بچی برمش بلوچ کی تصویر اٹھا کر اسے ” زہرہ شاہ” ظاہر کیا، ایک اور بچی جسے پاکستان کے شہر راولپنڈی میں تشدد کرکے مارا گیا تھا۔

بلوچوں کے بابت اس حد تک کی بے حسی اور بے توجہی یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا واقعی انکے لیئے بلوچوں کی زندگی کوئی معنی رکھتی ہے؟