جوہری تجربات کیلئے بلوچستان کو کیوں چنا گیا؟ – ٹی بی پی اداریہ

144

جوہری تجربات کیلئے بلوچستان کو کیوں چنا گیا؟

ٹی بی پی اداریہ

28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں، راسکوہ کے پہاڑوں میں اپنے جوہری ہتھیاروں کے تجربات کیئے۔ پاکستان نے چاغی – 1 کوڈ کے نام سے لگاتار پانچ جوہری تجربات کیئے۔ ہر سال اس دن کو پاکستان ” یوم تکبیر” کے طور پر مناتی آرہی ہے، جبکہ بلوچستان کے لوگ، جنہیں ان جوہری تجربات کے نقصانات کا خمیازہ بھگتنا پڑا، ہر سال اس دن کو ” یوم آسروخ” ( یوم سیاہ) کے طور پر مناکر یاد کرتے ہیں۔

پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے، لیکن ایک سوال کا جواب کبھی نہیں دیا گیا کہ آخر ان جوہری تجربات کیلئے بلوچستان کا ہی چناؤ کیوں کیا گیا؟

دنیا کے باقی جوہری تجرباتی مقامات اور چاغی کا موازنہ کیا جائے تو بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ امریکا نے اپنے سب سے طاقتور جوہری ہتھیار کا تجربہ 1954 میں ” جزائرے مارشل” ( مارشل آئی لینڈز) میں کیا۔ ان جزائر کو بعد ازاں بد ترین تابکاری کے اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ وہ علاقے تھے، جنہیں امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد فتح کیا تھا اور ان جزائر پر آباد لوگ امریکی شہری کا درجہ نہیں رکھتے تھے، اس لیئے جوہری ہتھیاروں کے تجربات کیلئے امریکہ نے اسے ایک بہتر مقام جانا۔

تاہم امریکی جوہری تجربات کے اثرات کا نشانہ بننے والے لوگوں نے امریکہ پر مقدمہ دائر کردیا اور ہرجانے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ کیا گیا کہ اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ وہ ایٹمی تابکاری سے متاثر ہورہے ہیں۔ جون 2009 تک امریکہ انہیں ہرجانے میں 1.4 بلین ڈالر دے چکا ہے۔

اسی طرح، برطانیہ نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے تجربات اپنے لوگوں سے بہت دور آسٹریلیا کے سرزمین پر کیا۔ اس وقت تک آسٹریلیاء کسی طرح برطانوی حکومت کے ماتحت تھی، آسٹریلیا نے سنہ 1984 میں مکمل خودمختاری حاصل کی۔ برطانوی جوہری تجربات نے وہی اثرات مرتب کیئے، جو جوہری ہتھیاروں کا وطیرہ ہے۔ اس نے مقامی آسٹریلوی آبادی ( ابارجینل) کی زمینیں تباہ کردیں۔ بعد ازاں اس زمین کو ایٹمی فضلات سے صاف کرنے میں 108 ملین ڈالر لگے اور مقامی آبادی کو ہرجانے میں 13.5 ملین ڈالر دی گئی۔ تقریباً آدھی صدی گذرنے کے بعد 2014 میں انکی زمینیں دوبارہ بحال ہوئیں اور محفوظ قرار دی گئیں۔

روس نے اپنی زیادہ تر جوہری تجربات قازق قوم کے سرزمین، شمالی قازقستان میں کیئے۔ اس مقام پر تقریباً 456 جوہری تجربات کیئے گئے ہیں۔ ایٹمی تابکاری نے لاکھوں قازق باشندوں کو بری طرح متاثر کیا۔ یہ “ٹیسٹنگ سائٹ” دنیا کے تابکار ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔

چین کے جوہری تجربات کا مقام ” لوپ نر” ہے، جو مسلم اکثریتی خودمختار صوبے سنکیانگ میں واقع ہے۔ اس کالونیل ذہنیت کی پیروی کرتے ہوئے، جسے تمام جوہری طاقت کے مالک ملکوں نے اپنایا ہے، چین بھی اپنے جوہری ہتھیاروں کے تجربات ایسے خطے میں کررہا ہے، جہاں کے لوگ معاشی بدحالی اور استحصال کا شکار ہیں۔ سینکیانگ وہ خطہ ہے جہاں کی اکثریت آبادی اوغر مسلمان ہیں، اور وہاں کافی عرصے سے آزادی کی تحریک بھی چل رہی ہے۔ ان حقائق کو جان کر اس سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ چین نے تجربات کیلئے یہ خطہ کیوں چنا۔

اسی طرح فرانس نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے تجربے کیلئے اپنے گذشتہ کالونیوں الجزائر اور صحارہ خطے کا چناؤ کیا۔ ان تجربات کے تابکاری نے مقامی آبادیوں کو سخت متاثر کیا، مقامی آبادی یقیناً فرانسیسی نہیں تھے، اس لیئے کوئی فرق نہیں پڑا۔ تابکاری کے شکار لوگ آج تک ہرجانے کیلئے مقدمہ لڑرہے ہیں۔ ایک الجزائری گروپ کے مطابق 1960 سے 66 کے دوران فرانس کے جوہری تجربات سے متاثرہ 27000 افراد اب تک زندہ ہیں۔

یہ تمام جوہری تجرباتی مقامات ایک ہی کہانی دہراتی ہیں کہ وہ جوہری قوت کے مالک ممالک، جن کے پاس کالونیاں تھیں، انہوں نے اپنے تجربات کیلئے کالونیوں کا چناؤ کیا اور اپنے محکوموں کو اثرات جھیلنے کیلئے چھوڑ دیا، وہ ممالک جن کے پاس کالونیاں نہیں تھیں، انہوں نے خطے کے استحصال زدہ لوگوں کے سرزمین کا چناؤ کیا، جن کی آواز دنیا تک نہیں پہنچ سکتی۔

بلوچستان کا پاکستان کے ساتھ 1948 میں “جبری الحاق” ہوا تھا، بلوچ اسے جبری الحاق سے زیادہ باضابطہ حملہ اور قبضہ بھی قرار دیتے ہیں اور پاکستان پر الزام لگاتے ہیں کہ بلوچستان محض انکی کالونی ہے۔ بلوچستان کو جوہری تجربات کیلئے چننا اور وہاں کے لوگوں کو چھوڑدینا کہ وہ تابکاری سے متاثر ہوتے رہیں، بلوچوں کے خدشات اور دعووں کو جواز بخشتا ہے۔