بلوچستان کے صف اول کے محافظ – ٹی بی پی اداریہ

155

بلوچستان کے صف اول کے محافظ
ٹی بی پی اداریہ

17 نومبر 2019 کو چین نے کووڈ- 19 کے پہلے کیس کی تشخیص کی۔ تین مہینوں کے اندر یہ وائرس ایران تک پھیل چکا تھا۔ جس ملک کے دوہمسایہ ممالک میں ایک ناقابلِ علاج بیماری بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہو تو، یہ امر اٹل ہوجاتا ہے کہ یہ وبا یہاں بھی پہنچ جائے گا، اس لیئے آپکو پہلے سے ہی تمام تیاریاں شروع کردینی چاہئیں اور بدترین صورتحال کیلئے تیار رہنا چاہیئے۔

بلوچستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 10 مارچ 2020 کو سامنے آیا، اس سے پہلے حکومت کے پاس کم از کم چار مہینوں کا وقت تھا کہ وہ اس وائرس سے مقابلے کی تیاری کرتی اور کم از کم ایک مہینہ تب تھا، جب یہ وائرس تفتان میں بلوچستان کے دہلیز پر دستک دے رہی تھی۔ جبکہ اسے نظرانداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں آج بلوچستان کے صف اول کے محافظ یعنی ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹاف کوئٹہ کے سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے اور یہ یاد دلارہی ہے کہ وہ مہینہ جسے تیاریاں کرنے کے بجائے ضائع کیا گیا، کتنا اہم تھا۔

اس ہفتے کے آغاز سے ہی جب وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 200 تک پہنچ گئی، جن میں سے 15 ڈاکٹر تھے، تو ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس کی تنظیمیں وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنے میں بیٹھ گئیں۔ انکا مطالبہ تھا کہ انہیں اپنی حفاظت کیلئے پی پی ای (پرسنل پروٹیکٹو ایکیوپمنٹ) فراہم کی جائیں۔ لیکن حیران کن طور پر انہیں بنیادی ضروریات و آلات فراہم کرنے کے بجائے، انکے خلاف بدترین ریاستی طاقت کا استعمال کیا گیا۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ان پر شدید تشدد کیا گیا اور انکی تنظیم کے 67 ڈاکٹروں کو بے بنیاد الزامات میں گرفتار کیا گیا۔

ایک ماہ قبل، دی بلوچستان پوسٹ نے اپنے ایک اداریئے میں اس مسئلے پر روشنی ڈالی تھی کہ کرونا وائرس سے لڑنے کیلئے بلوچستان کے ہسپتالوں میں سہولیات کی کس قدر کمی ہے۔ بہرحال پی پی ای اور دوسرے آلات کی کمی اب ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ برطانیہ میں ڈاکٹروں نے حکومت کو یہ دھمکی دی ہوئی ہے کہ اگر انہیں پی پی ای فراہم نہیں کیئے گئے تو وہ اپنی نوکریاں چھوڑ دیں گے۔ یہ ایک واضح نشانی ہے کہ اس جنگ میں ڈاکٹر صف اول میں رہ کر کن خطروں سے لڑرہے ہیں اور کتنے دباؤ کا شکار ہیں۔

لیکن جہاں دنیا بھر میں صف اول کے ان محافظوں کے خدمات کو سراہا جارہا ہے، خراج تحسین پیش کی جارہی ہے اور لوگ روزانہ اپنے گھروں کے صحنوں یا بالکونیوں میں نکل کراپنے ڈاکٹروں کا حوصلہ بلند رکھنے کیلئے تالیاں بجاتے ہیں، وہیں حکومت بلوچستان اس صورتحال سے انکاری کیفیت میں ہے۔ ڈاکٹروں کے مسئلے حل کرنے کے بجائے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ کہہ دیا کہ “درحقیقت ان ڈاکٹروں کے سیاسی عزائم تھے۔”

ڈاکٹروں کو پی پی ای اور ضروری آلات فراہم نا کرنے کے ہزاروں وجوہ و عذر پیش کیئے جاسکتے ہیں، لیکن ان کے خلاف تشدد کا استعمال کرکے انہیں فسادی قرار دینا، انکے جائز مطالبوں کو منفی سیاسی عزائم قرار دیکر ڈاکٹروں کو مار پیٹ کر جیلوں میں بند کرنے کا کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ اگر اس عالمی وباء کے خلاف جنگ جیتنا ہے تو یہ طریقے اور رویئے فی الفور بدلنے پڑیں گے۔