عورت مارچ اور بلوچ – عبدالواجد بلوچ

566

عورت مارچ اور بلوچ

تحریر: عبدالواجد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

“عورت کے مسائل کو اکثر و بیشتر ہر جگہ کسی نہ کسی صورت اجاگر کیا جاتا رہا ہے. عورتوں کی تحریکیں ہر ملک اور خطے میں اٹھتی ہوئی نظر آئی ہیں اور آج بھی موجود ہیں۔ لیکن خواتین میں بالخصوص بلوچ خواتین کے مسائل پہ بمشکل بات کی جاتی ہے یا انہیں دبایا اور چپھایا جاتا ہے، جن میں بلوچ خواتین کی ریاست کے ہاتھوں گمشدگی، ان کی ماورائے عدالت قتل، ان کی یونیورسٹیز یا کالجوں میں ہراسگی یا ان کو اپنے حق کی مانگ کے پاداش میں بے شرف کرنا نمایاں ہیں.

اگر دوسری جانب یہ دیکھا جائے تو بلوچ سماج اور حالیہ تحریکِ آزادی کے پرآشوب دور میں بلوچ تاریخ نے ہمیشہ “عورت” یعنی زالبول کو اعلیٰ مقام دیا، یہ کوئی احسان نہیں بلکہ جس طرح برابر کے حقوق مرد کے ہوتے ہیں اسی طرح عورت کا بھی بالکل وہی مقام ہے اور رہیگا، بلوچ زالبولوں نے ہمیشہ اپنے حقیقی حقوق جس سے ان کی بقاء منسلک ہے، اس کے لئے دشمن سے نبرد آزما رہے، بلوچ کا مسئلہ بقاء ہے، جو دشمن ہمیشہ پامال کررہا ہے۔ بلوچ عورت سیسہ پلائی دیوار کی مانند اس کے آگے کھڑی ہیں، بلوچ عورتوں کا مسئلہ عورت آزادی مارچ والے لبرلز سے تو مختلف نہیں ہوسکتا کہ جس سماج میں ہم زندگی گذار رہے ہیں، اس سماج میں چند ایسی جگہیں ہیں، جہاں عورت کے لئے مسائل موجود ہیں اور پدرسری سماج میں ایسے تاثرات پائے جاتے ہیں جو عورتوں کو اپنے پاؤں کی نوک پر رکھنا فخر سمجھتے ہیں، ان بنیادی مسائل کو لیکر “عورت مارچ” کے منتظمین اور شرکاء کے ساتھ مل کر کام کرنا اچھی بات ہے لیکن یہاں یہ کہنا ضروری ہوگا کہ بلوچستان میں گذشتہ کئی برسوں سے ریاست کی طرف سے جبر و بربریت اور بالخصوص چند سالوں میں پے در پے وقوع پذیر ہونے والی وہ حرکتیں جس سے بلوچ خواتین براہِ راست متاثر ہیں۔

کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ بلوچ عورتوں کا مسئلہ صرف ”اپنا کھانا خود گرم کرو یا اپنے موزے خود دھو لو“ نہیں ہے۔ ان کا مسئلہ تو بقاء ہے، جس سے ان کی حقیقی شناخت خطرے میں دکھائی دے رہی ہے، جس کی آخری کڑیاں بلوچ زمین پر دشمن کے قبضے کے خاتمے پر جاکر رک جاتی ہیں. وہ قوتیں جنہوں نے بلوچ سماج کو آپس میں تقسیم کر کے رکھ دیا ہے، انہیں توان سے آزادی چاہیے.

انسانی حقوق کے فعال کارکن اور بلاگرز سلمان حیدر نے کیا خوب کہا کہ “عورت مارچ میں بلوچ عورتوں کے مسائل پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔ بلوچ عورتیں کئی سطح پر ریاست کے جبر کا نشانہ ہیں۔ لاپتہ مردوں کی بیویاں بچوں کے لیے ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ ریاست کے کارندوں کے ہاتھوں رات دن چوکیوں پر اور گھروں میں ہراساں کیا جانا معمول ہے۔ گمشدگان میں عورتوں کی ایک اچھی خاصی تعداد شامل ہے۔ جسمانی جنسی اور ذہنی تشدد کے دن رات جاری رہنے والے اس سلسلے کو ریاست کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے اور اس کے خلاف میڈیا آواز اٹھانے یا عدالت اس سلسلے کو جاری رکھنے والوں کو سزا دینے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ اگر عورت مارچ ان عورتوں کو نظر انداز کر دے گی، تو شاید بلوچوں کی ریاست سے ہی نہیں اس کا نشانہ بننے والے دیگر گروہوں سے بیزاری کا جواز مضبوط ہو جائے گا بلکہ عورتوں کی اس جدوجہد پر کلاس اور قومیتوں کی نمائندگی حوالے سے سوال اٹھنے کے امکانات بڑھ جائیں گے”

بلوچ عورتوں کو صرف مرد سے آزادی نہیں چاہیئے، بلکہ مردوں کے ہمراہ آزادی چاہیئے، انہیں اس طاقت کے اعلیٰ پیکر دشمن سے آزادی چاہیئے جو آئے روز بلوچ عورتوں کی عزتیں پامال کرتا دکھائی دیتا ہے، ہاں اس قوت سے انہیں آزادی چاہیئے جنہوں نے یاسمین، ازگل کو پانی مانگنے کے عوض گولیوں سے بھون ڈالا.

میرا تمام قابلِ عزت غیرت مند بلوچ زالبولوں سے مطالبہ ہے کہ وہ عورت آزادی مارچ تک ہی محدود نہیں رہیں بلکہ یہ ایک مستقل عمل ہونا چاہیئے اس عمل میں تمام بلوچ عورتوں کو یکجا ہونا پڑے گا، بلوچ تحریک کے فعال بلوچ کارکنان بانک حوران بلوچ، بانک کریمہ بلوچ، بانک فرزانہ مجید بلوچ، بی بی گل سمیت ان تمام بازوؤں کا حصہ بننا ہوگا جو بلوچ بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں ناکہ صرف ایک مخصوص ایجنڈے کی تکمیل تک آکر انہیں نام نہاد لبرلز کے ہاتھوں استعمال ہونا پڑے.

مردوں کو اپنی عورتوں کے اور عورتوں کو اپنے مردوں کے شانہ بشانہ چلنا پڑے گا، تبھی قوم اپنے ترقی کے راستے طے کر پائیں گا اور اس عمل کے اعلیٰ مثال بلوچ قومی تحریک میں نمایاں ہیں جنہوں نے اپنے مردوں کے ساتھ یکجا ہوکر تاریخ رقم کی.

بلوچ خواتین کی عزتیں اور آبروریزی دشمن کے ازیت خانوں میں ہورہی ہے جہاں سینکڑوں بلوچ خواتین مرگ و زیست کے بین اپنا بچا وقت گذار رہے ہیں.

دور نا جائیں کل کی بات ہے آواران میں بلوچ زالبول کی شہادت ایک مثال ہے کہ بلوچ زمین پر بلوچ عورتوں کی عزمت دری دشمن کررہا ہے اور اسی بربریت کے خلاف آواز ہی اصل “عورت مارچ” ہے نا کہ محض صرف “میری جسم میری مرضی” کے نعرے تک محدود رہنا ہے۔

آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ ہمیں آزادی باپ، بھائی یا شوہر سے نہیں چاہیے بلکہ ہمیں ان فرسودہ زنجیروں سے چاہیئے جن میں “بلوچ بقاء” کو بے وجہ ایک عرصہ دراز سے قید کیا گیا، جس کی نہ کوئی مذہبی حیثیت ہے نہ ہی سماجی.بلوچستان میں موجود “آزادی مارچ” میں شامل ہونے والے ان تمام غیور خواتین سے یہی التجا ہے کہ وہ سماج میں پائے جانے والی ان مسائل جن کا براہِ راست تعلق عورتوں کے حقوق سے ہے، ان کے ساتھ ساتھ اُس ماں کو نہ بھولیں جو اپنے پیارے کے لئے دن رات راہوں پر در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے، اس بچی کو نہ بھولیں جنہوں نے گذشتہ دس سالوں سے اپنے والد کا چہرہ نہیں دیکھا، اس بہن کو نہ بھولیں جو اپنے بھائی کی بازیابی کے لئے پریشان شال کے سرد موسم میں بے یار و مددگار بیٹھی ہے اور ان تمام بلوچ عورتوں کو نہ بھولیں جو گذشتہ کئی مہینوں سے ریاستی ازیت گاہوں میں زندگی و موت کے کشمکش میں ہیں، وہاں بھی ان کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں، آزادی مارچ کے دوران ان قبروں پر جانا نہ بھولیں جن کے اندر “بلوچ زالبول دفن ہیں جو ریاست کے ہاتھوں اپنے ناکردہ گناہوں کی پاداش میں شہید ہوئے ہیں کیونکہ بلوچستان کا ہر گوشہ خون کے آنسو رو رہا ہے جس پر ریاستی جبر کے بادل ہمیشہ منڈلا رہے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔