بی ایم سی ہاسٹلوں کی بندش قابل مذمت ہے- بلوچ ڈاکٹرز فورم

178

بی یو ایم ایچ ایس انتظامیہ کی جانب سے بولان میڈیکل کالج کے ہاسٹلوں کی تالا بندی پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل طلباء کے ساتھ ناانصافی پر مبنی روا رکھے جانے والا سلسلہ ہر روز ایک نئے منصوبہ بندی کے ساتھ جاری و ساری ہے طلباء آئے دن مختلف مشکلات کا سامنے کر رہے ہیں ایک سازش کے تحت کبھی بھی طلباء کو آرام سے پڑھنے نہیں دیا جاتا-

انہوں نے کہا ایک اور منصوبے کے تحت کل انتظامیہ نے الائٹمنٹ کے نام پر طلبا کو اپنے ہاسٹلوں سے زبردستی باہر نکال دیا گیا اور مجسٹریٹ کے ذریعے ہاسٹلوں کو سیل کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ طلبا و طالبات جو پڑھائی کے غرض سے عید کو اپنے دور دراز علاقوں میں نہیں جا سکے ہیں در پدر پھر رہے ہیں جس کی جتنی سختی سے مزمت کی جائے کم ہے۔

ترجمان نے اپنے بیاں میں مزید کہا کہ ایسے حربوں و ہتھکنڈوں سے طلباء انتہائی سخت ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں جس نے ان کی تعلمی سرگرمیوں پر اثرات پڑ سکتا ہے حیرانگی کی بات ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب طلباء عید کو اپنے پڑھائی کے غرض سے گھر نہیں گئے ہیں انہیں روڑوں پر در پدر چھوڑ دیا گیا ہے یہ ایک انتائی افسوسناک عمل ہے جس پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر زمہ داران کی کمزوری اور کوتاہی عیاں ہو جاتی ہے ان جیسے اعمال کی جتنی مزمت کریں کم ہے۔

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں زمہ داران کو متوجہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسے ٹائم جب صوبے میں تعلمی شرح باقی صوبوں سے بہت کم ہے ان حالات میں تعلیم یافتہ طبقے کی زمہ داری بنتی ہے کہ صوبے کے تعلیم کو بہتر و منظم بنانے کیلیے جدوجہد کیا جائے لیکن بدقسمتی سے آپ تعلیم کیلئے رائیں ہموار کرنے کے بجائے طلباء کیلئے مصیبت و مشکلات کھڑی کر رہے ہیں آج بلوچستان کی تعلمی حالات کا زمہ دار بھی آپ ہی ہونگے کیونکہ طلباء طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں آپ لوگوں کی وجہ سے کافی حد تک متاثر ہوئے ہیں-

ترجمان نے مزید کہا ہم ایک مرتبہ پھر آپ کو آپ کی زمہ داریوں کا احساس دلانا چاہیں گے کہ طلباء کا ساتھ دیں ان کے مصائب و مشکلات کا خاتمہ کریں بصیرت دیگر ایک مقام پر آپ لوگ اپنے کارکردگی پر شرمندگی محسوس کریں گے ہم ایک مرتبہ پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ ہاسٹلوں کو کھول دیا جائے تاکہ طلباء اپنے تعلمی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکیں-