اختلاف نہیں غلط فہمی – توارش بلوچ

232

‎اختلاف نہیں غلط فہمی

‎توارش بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

‎انسانی فطرت میں ہے کہ وہ سمجھتا ہے، جو میں سوچتا، سمجھتا، مشاہدہ اور تجربہ کرتا ہوں وہی صحیح اور راہ راست ہے جبکہ میرے منطق، دلیل، باتیں اور مثالیں سب سے بہتر شاندار اور صحیح ہیں جبکہ مخالف سمت میں جو کہنے کی کوشش کرتا ہے اس کو ہم اس زاویہ نظر سے نہیں دیکھتے اور پڑھتے ہیں کہ یہاں سے کچھ سمجھنے کی کوشش کروں بلکہ جب کوئی بات میرے مخالف آتا ہے تو میں اُسے اس زہنی کیفیت سے پڑھتا ہوں کہ کہیں کوئی لفظ کوئی منطق، دلیل، جملہ، لفظ، فقرہ، گفتگو ملے جس سے میں واپس اس کو نشانہ بنا پاؤں۔ تو اس صورت میں حالات مزید ابتری کی جانب جاتے ہیں دشمنی کا سماں پیدا ہو جاتا ہے مخالف ذہنیت پیدا ہوتے ہیں بلکہ ایک اس کے بعد جتنے بھی ذہنیت وہاں سمو لینے لگتے ہیں وہاں مخالف زد اور ہٹ دھرمی جنم لیتا ہے جبکہ شعور اتفاق و یکجہتی تحمل و صبر اور برداشت تنقید سامنا کرنے والی ذہنیت جنم ہی نہیں لیتی دنیا میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس کا حل نہ ہو حالیہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان کافی سخت حالات پیدا ہوئے تھے جبکہ کچھ ماہرین کا خیال تھا کہ امریکا کی جانب سے شاید کوئی کارروائی بھی ممکن ہو لیکن جب ان کے صدور کے درمیان ملاقات ہوئے مل بیٹھ کر باتیں ہوئی تو مسئلے حل ہو گئے۔

‎چین اور انڈیا جیسے عالمی ملکوں کے درمیان اختلافات حل ہوئے ہیں کیونکہ جب کسی کو کوئی بڑی مقصد عزیز ہوتی ہے، تو وہ وہ چھوٹے چھوٹے باتیں اور اختلافات ختم کرتے ہیں اگر ہم ان ملکوں کی بات کریں تو یہاں جو سب سے بڑی چیز ان کو عزیز رہی ہے، وہ ہے ان کے قومی اور ملکی مفادات ان کے ملکی ریاستی قومی اور حکومتی مفادات نے ان کو مجبور کیا کہ وہ مسئلے کی مفاہمت کی جانب جائے نہ صرف اس کو مزید وسعت دینے کی کوشش کریں جب کسی بھی ملک ریاست تحریک آرگنائیزیشن کے مسائل لیڈرشپ سے نکل کر عام کارکن اور میڈیا کے زینت بن جاتے ہیں تو یہاں مسائل کا حل کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہوتا ہے بلکہ ایسے مسائل کو کسی بھی طرح کھلے جگہوں میں نہیں لایا جاتا ہے کیونکہ جب مسائل، جھگڑا، اختلاف میڈیا کی زینت بنے گی تو یہاں ہر کوئی جس میں دشمن آپ کے سیاسی مخالف آپ کے ذاتی مخالف جبکہ کچھ نابالغ سیاسی ورکر بھی حصہ لیتے ہیں، پھر اس طرح مسئلہ حل کے بجائے سنگینی کی شکل اختیار کرے گی کیونکہ ایک نابالغ سیاسی ورکر یا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کے پاس علم و دانائی اور شعور کی سطح کافی کم ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ مسئلے کو نہ سمجھتے ہوئے اس کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے کیونکہ اس کی علمی اور فہم کی سطح بہت نیچے ہوتی ہے۔ وہ مسئلے کو نہ سمجھتے ہوئے جو دل میں آتا ہے بول دیتا ہے، اس طرح پھر ردعمل کا عمل شروع ہوتا ہے، اس طرح چھوٹے چھوٹے مسائل اختلاف، جھگڑا، غلط فہمی، ایک مختلف اور سنگین شکل اختیار کرتے ہیں کیونکہ دراصل یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ انسان جس مذہب سے تعلق رکھتا ہے، اُس کی ذہنی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ بس ہمارے مذہب کے لوگ اچھے مہذب اور خدا کے حقیقی پیروکار ہوتے ہیں جبکہ دیگر کافر اور غلط راہ پر ہیں۔

اسی طرح اداروں کے کارکنان کی بھی ذہنیت یہی ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق تربیت سے ہوتا ہے تو جب کوئی اختلاف مسئلہ غلط فہمی جنم لے تو اس کے حل کیلئے بہتر جگہوں کا انتخاب اور موثر حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے اور جن قوموں کی حالت ہمارے جیسی ہو یعنی جو قومیں غلام ہوں کسی کے قبضے میں ہوں، تو ان کیلئے مسئلوں اور اختلاف کا حل ناگزیر بن جاتا ہے، کیونکہ جب کوئی قوم کسی کے قبضہ میں ہوتا ہے تو اس وقت اُس معاشرے میں مختلف خیال اور رحجانات جنم لیتے ہیں جس کی وجہ سے سماجی تضادات بھی زیادہ پیدا ہوتے ہیں جنگ خود ایک بیماری ہے۔ ایک تباہی ہے، حالت جنگ میں چھوٹے چھوٹے جلد آگ کی طرح بھڑک اٹھتے ہیں جس کے دیرپاء نقصانات ہو سکتے ہیں۔

‎جب کوئی قوم حالت جنگ میں ہوتا ہے تو وہاں انتشاری کیفیت جنم لینے میں کچھ بھی وقت نہیں لگتا کیونکہ غلامی جبر استحصال بربریت تشدد ٹارچر اذیت آپ جو بھی کہ لیں ان کے ذہن میں مختلف سوچوں کو جنم دیتے ہیں اس لیے چھوٹی سی انتشاری کیفیت کبھی بھی سنگینی اختیار کر سکتا ہے تو ان حالات میں جب لوگ حالت جنگ میں انقلابی سفر سے گذر رہے ہیں اس وقت کوئی بھی ایسا مسئلہ انتشاری سوچ اور ضدی اور انا پرستی کی کیفیت کسی بھی تحریک کیلئے خطرناک اور بھیانک ثابت ہو سکتا ہے، جب ایسے تحریکات میں مسئلے اور اختلاف جنم لیتے ہیں تو لیڈرشپ سامنے آکر خود زمہ داری لیکر ایسے مسائل اور انتشاری کیفیت کو ختم کرنے کی ذمہ داری لیتا ہے اور اپنے قوم کو بار بار یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ مسئلہ اور اختلاف موجود نہیں ہیں، کسی بھی عوامی جلسے جلوس اور پروگرام میں اختلاف کو ظاہر کرنے کے بجائے اپنے یکجہتی اتفاقی اور مربوط و مضبوط رشتوں کی باتیں کرتا ہے کیونکہ ایک سیاسی ورکر کیلئے شاید اختلاف کو سمجھنے کی صلاحیت ہو لیکن ایک عام شخص کیلئے کوئی بھی جُدا نہیں ہوتا بلکہ سب کو ایک مانا جاتا ہے تو پھر ایسے انتشاری کیفیت ایک دوسرے کے خلاف باتیں اور عوامی جگہوں پر جیسے کے سوشل میڈیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں سیاسی کارکن کے ساتھ ساتھ قوم سے وابسطہ عام لوگوں کی کثیر تعداد بھی موجود ہوتی ہے، اختلاف کو ظاہر کرنا ایک غیر سیاسی عمل کے ساتھ ساتھ تحریک کیلئے نقصاندہ ہو سکتا ہے۔

‎ اختلاف حل کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کسی کی موجودگی کا اقرار کرتے ہیں، اُسے یہ احساس دلانے کی کوشش کریں کہ مجھے آپ کی موجودگی کا احساس ہے، یہ عام بات ہے کہ کسی بھی دیوان میں جب آپ کسی شخص کو اگنور کریں گے تو اس کے ذہن میں آپ کے بارے میں مختلف خیالات جنم لیتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کسی بھی ایسے مسائل کو میڈیا کا زینت نہیں بنانا چاہیے مسائل چاہے جتنے بھی سنگین ہوں، جتنا بھی بڑا ہو، کیونکہ جب ہمارے ذہن میں یہ ہوتا ہے مسئلے کا حل نکالنا چاہیئے، تو کسی بھی طرح اختلاف کو عام جگہوں تک نہیں پہنچانا چاہیئے، یہ اختلاف کے حل کیلئے ایک بہتر تدبیر ہے، جبکہ مسئلے پیدا کیوں ہوتے ہیں؟ چونکہ بلوچ قومی تحریک کی بات کروں تو میرے خیال سے یہاں اختلاف جنم لینے کی وجہ صرف اور صرف وہ سوچ ہے یعنی کے ایک قبائلی شخص کا سوچ، بالکل بھی ایک آزاد خیال شخص کے مطابق نہیں ہوگا یہ ایک فطری حقیقت ہے اگر آپ طاقت تشدد، بلیک میلنگ اور زور سے یہ بات منوانے کی کوشش کریں گے، جو میں سوچتا ہوں اور جو میرا کام کرنے کا طریقہ ہے بس وہی صحیح اور بہتر ہے تو اس طرح ردعمل آتے ہیں کیونکہ قبائلی سوچ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے جس سے قوم کے تاریخ کا وابستگی ہے۔ ایک ایسا سماج جو نیم قبائلی ہو اور نیم غیر قبائلی جبکہ ریاستی قبضہ نوآبادیاتی سوچ جبر اور تشدد یہ اپنے جگہ بہت سے تضادات جنم دیتے ہیں، ان سب تضادات کا اپنے اپنے اثرات ہوتے ہیں۔ تو یہاں سوچوں میں فرق ایک فطری عمل ہوتا ہے، کوئی شعوری طور پر یہ عمل نہیں کرتا، ہمیں اس حقیقت کو جاننے، سمجھنے اور ماننے کی ضرورت ہے۔

‎اگر ہم بلوچ قومی تحریک میں اختلافات کی نوعیت کا اندازہ لگائیں اور ان پر ایک طائرانہ جائزہ لیں، مشاہدہ اور تجربہ کریں تو یہاں بھی اختلاف کی نوعیت یہی سوچ اور غلط فہمی ہے، غلط فہمی یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم راہ راست پر ہیں اور جب تک وہ ہمارے طرز عمل اور سیاست نہیں اپناتے ہمارے لیئے وہ قابل قبول نہیں، اگر ہم بلوچ تحریک کے شروعات کو دیکھیں تو ہمیں ان جیسے عوامل نہیں ملتے اختلاف نہ ہونے کی وجہ یہ تھا کہ ہم سردار اور قبائلیت کو دل اور اپنے ذہنی سوچ سے مانتے تھے، ہم اپنے سرداروں کو، چاہے وہ جو عمل کرتے ہمارے لیے قابل قبول تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب بلوچ نوجوانوں میں سیاسی شعور پیدا ہونے لگا تو وہ اداروں کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنے لگے، اختلاف کا سبب بھی یہی تھا کہ کچھ دوست اداروں کی جانب چلے گئے اور آہستہ آہستہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر تنظیم کے دوست جو اداروں کی جان گامزن نظر آیا جس سے تنظیموں کے اندر اختلاف جنم لینے لگے جبکہ جو ادارے اس چیز یعنی کے قبائلی اور غیر قبائلی سوچ سے آزاد تھے، وہاں ہمیں کسی بھی طرح کا اختلاف نہیں دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن جو اداروں کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں، اُن کو بھی یہ سمجھنا چاہیئے کہ جو آپ سوچتے ہیں لازما نہیں ہے کہ دوسرا بھی آپ کی طرح ہی سوچے کیونکہ تربیت اور ماحول کے اثرات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں۔

جو سردار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ان کی تربیت ایک الگ طریقے سے ہوئی ہے تو اُن کیلئے ایک دم کچھ ہی سالوں میں اپنے خیالات کو تبدیل کرنا شاید ممکن نہ ہو لیکن اس طرح جب آپ مخالف سمت لینگے تو یہاں اختلاف ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھیں گے، اختلافات ختم کرنے کا سب سے بہتر اور پہلا اوپشن ایک دوسرے کے خیالات کو قبول کرنے میں ممکن ہے، ایک دوسرے کی موجودگی اور جدوجہد اور قربانیوں کا احساس ہی ان مسائل اور اختلاف کا حل ہو سکتے ہیں، ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ جب تک ہم ایک خودمختار اور آزاد ریاست نہیں بنیں گے، ان رویوں اور سوچوں میں تبدیلی لانا اتنی جلدی ممکن نہیں جبکہ ریاست نے ہمارے لیے سیاسی اسپیس ختم کردیا ہے اور اس حقیقت کو بھانپتے ہوئے، ہمیں دیر نہیں کرنا چاہیئے کہ جس کے ہاتھ میں گراؤنڈ ہے وہی طاقت ور ہے ریاست بلوچ نوجوانوں کو مختلف مراعات اور لالچ دیکر ہم سے دور کرنے کی کوشش میں ہے اور اگر سنجیدگی اور خوش فہمی سے نکل کر ہم دیکھیں تو ریاستی ادارے اور قابض کے ہمنوا اپنے منافقت جھوٹ و فریب اور دھوکہ دہی میں ایک حد تک کامیاب ہو چُکا ہے۔

‎جو قوم شہید حق نواز کی شہادت کے بعد پورا بلوچستان سر پر اٹھا لے، ریلیاں اور پروگرامز کا انعقاد کرے، ہر جگہ آزادی اور انقلاب زندہ پاکستان اور سامراج مردہ باد کا نعرہ لگائے لیکن یہی قوم فدائین ریحان جان رزاق جان ازل اور رئیس جان جیسے عظیم شہادتوں پر خاموشی اختیار کریں رد عمل دور کی بات اس کی خاموش حمایت پر بھی ہچکچاہٹ دیکھائیں تو یہ سوچنے کا وقت و مقام ہے، آج دشمن نے ہمارے سارے ذرائع بند کر دیئے ہیں۔

‎ اب نوجوان بلوچ تحریک سے سوشل میڈیا سے جُڑے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہاں منفی پروپگنڈا دیکھ کر وہ خود ایک مزید ذہنی تضاد اور تناؤ کا شکار ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مایوسی پیدا ہو جاتی ہے تو ہمارے پارٹیوں کو خاص پارٹی لیڈرشپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ ہمیں مسائل کو بڑھوتری دینے کے بجائے ان کی حل کی جانب جانے کی کوشش کرنی چاہیے ورنہ ہم مزید نقصان اٹھائیں گے، کسی بھی مسئلے کا حل نکل سکتا ہے لیکن سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے اور اس بات کا ادراک ہم جتنی جلدی کریں کہ قبائلی اور غیر قبائلی سوچ بلوچ قومی تحریک میں ایک زندہ حقیقت ہے ہمارے لیئے فائدہ مند ہوگا تاکہ اگر ہم سب ایک مورچے میں لڑ نہیں سکتے تو کم سے کم ایک دوسرے کی حمایت عزت و قدر اور ایک دوسرے کے ساتھ چھوٹے چھوٹے تعاون و مدد کی صورت میں اپنے یہاں نزدیکیاں قائم کر سکتے ہیں، جبکہ ایک دوسرے پر تنقید کرنے کے بجائے اگر ہر پارٹی و تنظیمی کارکنان اپنے غلطیوں کا ازالہ کریں اپنے یہاں موجود کمزوریوں کو نکالنے کی کوشش کریں میرے خیال سے ہم ایک بہتر نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں لیکن ایک دوسرے کے خلاف ہرزہ سرائی ہمارے لئے مجموعی طور پر ایک نقصاندہ عمل ہے۔

میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے یہاں اتنے بڑے مسائل موجود ہیں جن کا حل ممکن نہیں ہے بلکہ وہ غلط فہمیاں ہیں جو ایک دوسرے کے بارے میں رکھتے ہیں ہمیں اپنے غلط فہمیاں ختم کرنے ہونگے اگر اہم غلط فہمیاں ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ہمارے اختلافات بھی جلد یا بدیر اپنے منتقی انجام تک پہنچ جائیں گے۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔