بلوچستان کے طالب علموں کے ساتھ نا انصافی قبول نہیں ۔بی ایس اے سی

113

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ناروا سلوک کی مذمت کرتے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بلوچستان اور فاٹا کے اسکالر شپ نشستوں میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بلوچستان اور فاٹا کے طالب علموں کے لئے مختص 97 اسکالر شپ نشستوں کو کم کرکے 15کردیا گیا جو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بلوچستان کے طالب علموں کے ساتھ ناروا سلوک کی واضع مثال ہے جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ایچ ای سی گذشستہ کئی عرصوں سے بلوچستان کے طالب علموں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس سے طالب علموں میں اپنے مستقبل حوالے خاصی تشویش پائی جاتی ہے ۔

ترجمان نے مزید کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے اختیارات صوبوں کو منتقل کردیئے گئے جس کے تحت تمام صوبوں میں صوبائی ایچ ای سی کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن بلوچستان میں اب تک ایچ ای سی کا قیام عمل میں نہ لانا تمام مسائل کی جڑ ہے جس سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن اپنے من مانے فیصلوں سے بلوچستان اور فاٹا کے طالب علموں کے ساتھ ناروا سلوک جاری رکھے ہوئے ہیں میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں اسکالر شپ نشستوں میں کمی کو بلوچستان کے طالب علموں کے ساتھ نا انصافی سمجھتے ہیں اور یہ عمل کسی صورت قبول نہیں ہے.

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کے روئیے کا نوٹس لیکر بلوچستان کے طالب علموں کو انصاف فراہم کیا جائے اور صوبائی ایچ ای سی کا قیام عمل میں لایا جائے ۔اگرہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بلوچستان کے طالب علموں کے ساتھ ناروا سلوک جاری رہا تو ہم اسکے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے۔