شہید ناکو زندہ ہے – واحد بخش بلوچ

443

شہید ناکو زندہ ہے

تحریر۔ واحد بخش بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

شہید ناکو خیر بخش ضلع آواران تحصیل جھاؤ لنجارمیں 1985کو پیدا ہوئے، انھوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول جھاؤ لنجار سے شروع کیا، وہ بچپن میں بہت شرارتی اور ذہین لڑکا تھا، اپنے کلاس میں اول نمبر آتا تھا۔ وہ پڑھائی کے دوران بی ایس او پجار میں رہا، میٹرک پاس کرنے کےبعد بی ایس اوپجار کو چھوڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا میں بی ایس او پجا ر سے مطمین نہیں رہا ہوں، غلامی کے احساس نےکہیں آرام کرنے نہیں دیا۔ 2009 کو بی این ایم میں اس وقت شمولیت اختیار کی جب شہید چیرمین واجہ غلام محمد بلوچ کی یاد میں جھاؤ واجہ باغ میں ایک جلسہ منقعد ہو رہا تھا، جلسے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ناکو خیر بخش بلوچ سمیت کئی لوگوں نے بی این ایم میں شمولیت اختیار کی۔

ناکو ایک نرم دل اور سادہ طبیعت کے انسان تھے، غریبوں کے لیے بہت مہربان تھا بی این ایم جوائن کرتے ہوتے شہید غلام محمد یونٹ جھاؤ لنجار کے یونٹ سکریٹری منتخب ہوئے، تنظیمی کاموں کو اچھے طریقے سے سرانجام دیتے رہے، جھاؤ زون کے صدر منتخب ہوئے بی این ایم کو فعال بنانے اور منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرکے آزادی کا پیغام گھر گھر تک پہنچاتے رہے۔ آواران دمگ کے صدر منتخب ہوئے، انقلابی کارکن کی حیثیت سے وہ جانتے تھے کہ بلوچ قوم آزادی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا ہے، اپنے عوام میں غلامی کے خلاف آزادی کا جذبہ پیدا کرکے دشمن کے خلاف نفرت پھیلاتا رہا، جھاؤ واجہ باغ کے ہوٹلوں میں بیٹھ کر سنگر کی کتابیں بانٹتا، ایک مکمل انقلابی شخص تھا۔

بی این ایم نے جھاؤ میں مرکزی سیشن منعقد کرنے کا اعلان کیا، شہید ناکو خیر بخش بہت خوش ہوا جھاؤ کے کارکنوں کے لیے اعزاز سمجھ کر اپنا کامیابی سمجھا، بی این ایم جیسے پارٹی کا سیشن جھاؤ میں منعقد ہو۔ شہید ناکو خیر بخش سمیت تمام ساتھیوں نے دن رات محنت کرکےسیشن کی تیاری شروع کی، جھاؤ کے عوام نے بھر پور ساتھ دیا، عوام چندہ سمیت تعاون کرنے میں مدد کرتے رہے۔ 21 اکتوبر 2010 کو سیشن جھاؤ کوہڑو میں منعقد ہوا، شہید ناکو خیر بخش نے سیکورٹی سنبھالتے ہوئے جھاؤ واجہ باغ سے سیشن میں آنے والے دوستوں کے ساتھ ایک ایک ہمراہ ساتھ کرکے جھاؤ کوہڑو پہنچاتے رہے۔ جھاؤ بازار سے جھاؤ کوہڑو 50 کلو میٹر کے فاصلے پر شمال کی جانب واقع ہے، جھاؤ کوہڑو میں شہید استاد علی جان سیشن میں آنے والے دوستوں کے استقبال کے لیئے موجود تھا۔

جب سیشن شروع ہوا شہید ناکو اپنے ساتھیوں سمیت پہنچ گیا، سیشن کےتین دنوں تک پنڈال میں موجود کبھی اس کام پر جاتا تو کبھی اس کام پر پاگلوں کی طرح گھومتا تھا، اسی سیشن میں دشمن کے حواریوں کی نظریں شہید ناکو خیر بخش پر رہیں تھیں، وہ جانتے تھے ناکو خیر بخش کے ہوتے ہوئے ہماری جھوٹی باتوں پر بھروسہ نہیں کیا جاتا، وہ ایک انقلابی شخص تھے، ہر وقت کاموں میں مصروف رہتا تھا، وہ آواران دمگ کے آرگنائزر منتخب ہوۓ، شہیدناکو خیر بخش نے بی این ایم کو آواران سمیت گردونواح میں منظم کرنے اور آزادی کے کاروان کو آگے لے جانے میں کردار ادا کیا۔ انقلابی اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر آزادی کاپیغام گھرگھرتک پہنچاتے رہے، دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیتے تھے دشمن فوج اور ڈیتھ اسکوڈ نیشنل پارٹی کے حواریوں نے کئی دفعہ چھاپہ مارا لیکن شہیدبچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

شہید کو کسی کام کے سلسلے میں حب چوکی جانا پڑا، جمیل بزنجو اور قیصر میروانی نے اپنے حواریوں کو پیسے کا لالچ دے کر ان کے قریبی لوگوں کو استعمال کیا، کچھ انجانے نمبروں سے شہید کو فون کرکے ملنے کا اصرار کرتے رہے، شہید ناکوکو شک ہوگیا۔ شہید نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوۓ حب چوکی سے نکل کر جھاؤ روانہ ہوا، جھاؤ جانے کے تمام راستوں کا ناکہ بند یپہلے کئی دنوں سے کر چکے تھے۔ شہید ناکو لسبیلہ پہنچ کراپنے ایک دوست کو فون پر بتایا کہ میں لسبیلہ پہنچ گیا ہوں، لسبیلہ سے جھاؤ کی طرف آرہے تھے کہ فوج اور اس کے ڈیتھ اسکواڈ نے گاڑی سے اغوا کرکے لاپتہ کر دیا۔

یہ 27 ستمبر 2012کا دن تھا، پورے ایک مہینے ٹارچر سیلوں میں بند کرکےتشدد کیا گیا، ان کی لاش سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کو سخت تشدد کرکے ٹارچر کیا گیا ہے لیکن ناکو خیر بخش کو شہید کرکے ان کی مسخ شدہ لاش27 اکتوبر 2012 کو لسبیلہ کے ویرانوں میں پھینک کر شہید کے نظریئے کو ختم نہ کر سکے اور شہید ناکو خیر بخش کی شہادت کے بعد جھاؤ میں عوام کے دلوں میں آزادی کا جذبہ پیدا ہوکر دشمن کو حواس باختہ کردیا۔ جس کی وجہ سے دشمن نے عوام پر تشدد شروع کردیا لیکن آزادی کے کاروان کو نہ روک سکا، جو اپنی منزل کی جانب جوش اور جذبے کے ساتھ رواں دواں ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔