پاکستانی انتخابات سے بائیکاٹ کیوں – لطیف بلوچ

440

پاکستانی انتخابات سے بائیکاٹ کیوں

تحریر: لطیف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ : اردو کالم

پاکستان میں پارلیمانی الیکشن جولائی 2018 میں متوقع ہے، 2013 کے الیکشن بائی کاٹ کی طرح 2018 کے الیکشن سے بھی بلوچ آزادی پسند سیاسی و مسلح تنظیموں نے بائی کاٹ کا اعلان کیا ہے، آئیں اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ بلوچ آزادی پسند قوتوں نے کیوں پاکستان کے نام نہاد انتخابات سے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے ، بائیکاٹ کی کامیابی اور ووٹنگ ٹرن آوٹ شرح میں کمی عالمی سطح پر اس بات کا واضح اظہار ہوسکتا ہے کہ بلوچ قوم نے پاکستانی انتخابات کو مسترد کردیا ہے اور وہ بلوچ آزادی پسندوں کے موقف کی تائید و حمایت کرتے ہیں۔ بلوچ قوم پاکستان کے جبری اور غیر قانونی قبضے کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ آزاد بلوچستان کی خواہاں ہیں، پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے بین الاقوامی سطع پر یہ باور کرانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہےکہ بلوچ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتا ہے اور وہ پاکستان کے آئین، قانون اور پارلیمانی نظام اور انتخابات کو تسلیم کرتے ہیں اور وہ پاکستانی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ پاکستان کے اس تاثر کو غلط ثابت کرنے کے لیئے یہ ایک اہم موقع ہے اور ایک قسم کی ریفرنڈم بھی ہے۔ ہم یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ بلوچ پاکستان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے بلکہ 27 مارچ 1948 میں پاکستان نے بزور طاقت بلوچستان پر قبضہ کرکے بلوچوں کے آزادی سمیت تمام انسانی، سیاسی، جمہوری حقوق اور قومی آزادی و خود مختیاری کو سلب کیا ہے۔ کبھی ون یونٹ قائم کرکے بلوچوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے ہیں، تو کبھی نام نہاد جمہوری نظام کو بلوچوں پر مسلط کرکے بلوچوں کی استحصال کرتے رہے ہیں، تو کھبی مارشل لاء نافذ کرکے بلوچستان کے غریب و مفلوک الحال لوگوں کو کچلا گیا ہے اور یہ ظلم و ذیادیتوں کا سلسلہ جبری قبضہ سے تاحال جاری ہے لیکن گزشتہ 18 سالوں میں بلوچوں کی نسل کشی اور قتل عام کا سلسلہ شدت سے جاری ہے۔

مشرف نے اپنے فوجی مارشل لاء کو جواز فراہم کرنے کے لئے نام نہاد انتخابات کروائے اور انتخابات کے ذریعے اپنے کاسہ لیسوں پر عوامی نمائندگی کا چادر ڈال کر اسمبلیوں میں لایا اور اُن کے درخواست اور دستخطوں کو جواز بناکر بلوچستان پر چڑھ دوڑا ہے اور بلوچستان پر فوجی جارحیت کا آغاز کیا، اگر ہم ون یونٹ کے خاتمے کے بعد موجودہ جمہوری و پارلیمانی سیاست کا جائزہ لیں کہ 70 کے دہائی سے شروع ہونے والا پارلیمانی سیاست بلوچ قوم اور بلوچ قومی تحریک کے حوالے سے کتنا فائدہ مند رہا ہے، تو اس پریڈ میں ہم دیکھتے ہیں کہ پارلیمانی سیاست نے بلوچ قومی تحریک اور خصوصاً بلوچ قوم پرستی کے لیئے زہر قاتل ثابت ہوا ہے، بلوچ قومی سیاست اور جدوجہد مراعات و مفادات کا شکار ہوا، بلوچ قوم کے انتشار کا سبب بننا بلوچ مختلف حصوں میں بٹ گئے اور بلوچ سیاسی و قبائلی یکجہتی ٹوٹ و پھوٹ کا شکار رہا اور پارلیمانی سیاست نے بلوچستان میں قبائلی جھگڑوں اور لوگوں کو آپس میں دست و گریبان کرنے کا باعث بننا، بلوچ نوجوانوں اور بی ایس او کو بھی جان بوجھ کر پارلیمنٹ کے بھول بھلیوں اور رنگینیوں میں دھکیل کر اُنکے سیاسی و علمی صلاحیتوں کو زنگ آلود کیا گیا۔

بی ایس او پارٹیوں کا پاکٹ آرگنائزیشن بن کر رہ گئی اور بلوچ نوجوانوں کو ایک سازش کے تحت جھنڈا اور چاکنگ بردار جتھوں میں تبدیل کیا گیا، اس دورانیئے میں بلوچ نوجوان نظریاتی، فکری، شعوری اور علمی سیاست سے دور ہوتے چلے گئے، بلوچ قومی سیاست میں بی ایس او کے کردار کو جان بوجھ کر متنازعہ بنایا گیا۔ بی ایس او کے سیاست، مراعات و مفادات کے گرد گھومنے لگا لیکن ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے 2002 میں بی ایس او کو پارلیمانی پارٹیوں کے چنگل سے آزاد کرکے بی ایس او کو اُس کے اصل سیاسی ٹریک پر ڈال دیا اور غیر پارلیمانی جدوجہد کا اعلان کرکے بلوچ سیاست کو دو واضح گروپوں میں تقسیم کردیا ایک طویل عرصے کے بعد دوبارہ بی ایس او نے اپنا اعتماد بلوچ قوم اور نوجوانوں میں بحال کردیا، انقلابی سیاست کا داغ بیل ڈال دیا گیا۔ غیر نظریاتی اور غیر انقلابی رحجانات کی حوصلہ شکنی کی گئی، بی ایس او کے غیر پارلیمانی جدوجہد سے جہاں ریاستی ادارے سراسمیگی کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے، وہاں نام نہاد پارلیمانی پارٹیوں کی اوسان خطا ہوگئے، تمام پارلیمنٹ پرست بی ایس او کے خلاف متحد ہوگئے اور بلوچ نوجوانوں کے ذہنوں میں مختلف طریقوں سے زہر گھولنے کی کوشش کرتے رہے لیکن اُنہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

اس بار بلوچ نوجوانوں پر اُنکے پروپیگنڈے اثر نہیں کرسکے، لوگ پاکستانی پارلیمانی سیاست اور پارلیمانی سیاست کے دلدادہ جماعتوں سے مایوسی اور عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بلوچ آزادی پسندوں کے صفوں میں شامل ہوگئے اور لوگ مراعات و مفاداتی خودغرضانہ سیاست پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کرکے بلوچستان کی آزادی کے جدوجہد میں شامل ہوگئے۔ اس دوران 2006 میں نواب اکبر بگٹی کو پاکستانی فوج نے ایک خونی آپریشن میں شہید کردیا، نواب بگٹی کے شہادت کے بعد وفاق پرست پارلیمانی پارٹیوں اور نام نہاد قوم پرستوں سے بلوچ قوم نے شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوئے، مسلح مزاحمت کا حصہ بن گئے۔ 2007 میں بلوچ گوریلا کمانڈر شہید میر بالاچ مری کی شہادت نے تو بلوچ قوم کے نفرت اور غم و غصے میں مزید اضافہ کردیا۔ بلوچ قوم کے پارلیمانی سیاست سے نفرت اور پارلیمانی پارٹیوں کے خلاف پائی جانے والی غم و غصے کو بھانپتے ہوئے 2008 میں منعقد ہونے والے پاکستانی انتخابات سے پارلیمانی پارٹیوں نے بائی کاٹ کا اعلان کردیا لیکن اُنہوں نے قوم کو کوئی واضح سیاسی پروگرام نہیں دیا بلکہ اندرون خانہ آزادی پسندوں کے خلاف سرگرم ہوگئے۔ ریاستی ظلم و زیادیتوں، آپریشن، گمشدگیوں اور قتل عام کے خلاف عوام کو متحرک کرنے اور ریاست کے بلوچ دشمن پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کرنے کے بجائے بلوچ قومی تحریک اور بلوچ جہد کاروں کے خلاف صف آرا ہوگئے اور ریاست کیساتھ ملکر بلوچ آزادی پسند نوجوانوں کی نشاندہی کرنے لگے، سیاسی کارکنوں کے خاندانوں کو ہراساں کرنے اور فوج کو نوجوانوں کو اُٹھانے و مارنے کی تجویز دینے اور فوج کیساتھ ملکر انسرجنسی کاؤنٹر پالیسی مرتب کیئے۔

اس لیئے میں سمجھتا ہوں کہ پارلیمانی و مفاداتی سیاست نے بلوچ قومی مفادات کو شدید نقصانات سے دو چار کردیا ہے۔ نام نہاد پاکستانی پارلیمانی نظام سیاست، بلوچ شہیدوں اور اسیروں کی قربانیوں کا نعم البدل نہیں ہوسکتا، بلوچ شہیدا نے جس مقصد کے لئے جانیں قربان کیئے اور بلوچ اسیران، جس مقصد کے لیئے دشمن کے ٹارچر سیلوں میں اذیتیں برداشت کررہے ہیں، ہمیں چاہیئے کہ ہم اُنکے خواہشات کی تکمیل کے لیئے بلوچ جہد آزادی کو مضبوط و منظم کریں اور بلوچ قوم کو پاکستانی انتخابات سے بائیکاٹ کے لیئے شعوری طور پر تیار کریں، بلوچ قوم کے تمام باشعور فرزندوں طلباء، اساتذہ، سرکاری ملازم، ٹرانسپورٹرز، وکلا برادری، بلوچ خواتین غرض ہر مکتبہ فکر کے لوگوں میں الیکشن سے بائیکاٹ کا پرچار کریں۔ اپنے نجی محفلوں، گھروں، اسکولوں، کالجوں، شہروں اور قصبوں میں وہ پاکستانی خون آلود انتخابات سے بائیکاٹ کے لئے شعوری تبلیغ کریں۔