بلوچ ریپبلکن آرمی کے سرمچاروں نے آج تربت کے علاقے پیدراک میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہم کارندے مفتی شاہ میر پر حملہ کیا، مفتی شاہ میر ریاستی ایما پر بلوچ نوجوانوں کے اغواہ شہادت سمیت زگری بلوچوں کے فرقے کے نام پر قتل عام میں ملوث ہے حملے میں شاہ میر کے متعدد کارندے زخمی ہوئے ہیں مفتی شاہ میر اور اس کا بھائی میران عزیز پیدارک و ہوشاپ اور گرد نواح میں بتہ خوری سمیت مختلف جرائم میں براہ راست ملوث ہیں بی آر اے عام بلوچوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ان ریاستی کاندوں سے دور رہیں کیونکہ ایسے لوگ ہر وقت ہماری نگاہ میں ہوتے ہیں اور ان پر کسی وقت ان پر حملہ کرسکتے ہیں
تازہ ترین
پسنی، جھاؤ حملے اور واشک میں ناکہ بندی کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔...
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف...
خضدار: شوہر دو بیٹوں کے بعد والدہ جبری لاپتہ
پاکستانی فورسز نے خاتون کو جبری لاپتہ کردیا، مجموعی طور پر خاندان کے گیارہ افراد لاپتہ۔
خضدار سے...
جب تک ریاست کے حق میں ریلی نہیں نکالی جاتی، کرفیو نافذ رہے گا...
نوشکی میں رواں ماہ 6 فروری سے نافذ ریاستی کرفیو تاحال برقرار ہے، جبکہ دکانیں اور شاہراہیں شام 6 بجے کے...
قیدی کے تبادلے کا آخری دن: پاکستانی فوج کا خضدار و گردنواح میں فضائی...
بی ایل اے کے زیرِ حراست اہلکاروں کے لیے دیے گئے الٹی میٹم کا آج آخری دن ہے۔
لسانی تنوع اور بلوچ قومی یکجہتی کا سوال – جعفر قمبرانی
لسانی تنوع اور بلوچ قومی یکجہتی کا سوال
تحریر: جعفر قمبرانی
دی بلوچستان پوسٹ
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بلوچ ایک کثیرالسانی قوم ہے جہاں بلوچی...

















































