ہمارے مستقبل کے نظام میں خواتین کو ان کے حقوق ملیں گے – طالبان سربراہ کا عید پیغام

98

افغان طالبان کے سربراہ شیخ ہیبت اللہ نے عید الفطر کے اپنے جاری کردہ پیغام میں کہا کہ  وہ طبقات  یا شخصیات جو “جارحیت ” کے خاتمہ کے بعد مستقبل کے نظام کے متعلق خدشات کا شکار  ہیں، طالبان ایک بار پھران  سب کو  یقین دلاتی ہےکہ ہماری   پالیسی انحصارطلب  نہیں ہے، ہر کسی کو مرد ہو یا عورت انہیں ان کے حقوق ملیں گے، اس نظام میں  کوئی بھی محرومیت اور محکومیت  محسوس نہیں کریگا اور ان تمام شعبوں تک رسائی حاصل کی جائے گی، جو معاشرے کی خوشحالی، استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہیں۔

اپنے ییغام میں انہوں نے کہا عالمی اور علاقائی ممالک سے طالبان کے سیاسی تعلقات ماضی کی نسبت بہت وسیع ہوچکے ہیں۔  طالبان کی پالیسی اور مؤقف ان پر واضح ہوچکا ہے،جس کی بنیاد پر یقین اور اعتماد کی فضا قائم ہورہی ہے، ہم اپنی پالیسی کے مطابق   اسلامی ممالک سے اسلامی  بھائی چارے کا رشتہ،پڑوسی ممالک سے اچھے ہمسائے  اور خطے اور دنیا بھر کے تمام ممالک کیساتھ مفید تعلقات مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں ،تاکہ علاقائی اور عالمی معاشی خوشحالی، امن اور مشترکہ زندگی کے شعبوں میں لازمی  ذمہ داری ادا ہوتی رہے۔ دیگر ممالک سے بھی  یہی امید رکھتا ہوں کہ  اس سلسلے میں اسی نوع کے  اقدامات اٹھائیں گے ۔

امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے متعلق  طالبان سربراہ نے کہا ریاستہائے متحدہ امریکا کیساتھ تاریخی معاہدے پر دستخط اور اس کے نتیجے میں “جارحیت” کا خاتمہ طالبان اور تمام افغان ملت کے لیے ایک عظیم کامیابی سمجھی جاتی ہے اور اگر اس پر نیک نیتی سے عمل درآمد کیا جائے تویہ  تمام فریقوں کے مفاد میں ہے۔ امریکا کیساتھ جس معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں ہم  اس معاہدے کی پوری پاسداری کو لازمی سمجھتے ہیں اور اس کی پوری طرح پابند ہے، ساتھ انہوں نے کہا کہ مخالف فریق سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے وعدوں پر مستحکم رہے اور اس عظیم تاریخی موقع کو ضائع ہونے سے بچا ئے۔  مذکورہ معاہدے پر عمل درآمد   ہمارے ملک اور امریکا کےلیے جنگ کے خاتمہ ،ملک میں میں داخلی امن  کے قیام اور اسلامی نظام کے نفاذ کا بہترین ذریعہ  بن سکتی ہے۔

 انہوں نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا  کہ انہیں کسی بھی طبقے کو اس بات کی  اجازت نہیں دینی چاہیے کہ ہمارے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اور جسےعالمی سطح پر تسلیم کرلیا گیا ہے ،   اس معاہدے پر عمل درآمد  میں رکاوٹ بنیں ، اس میں تاخیری حربے  ڈالیں اور آخرکار اسے ناکامی سے دوچار کریں۔  اس معاہدے میں سب کچھ واضح طور پر لکھا چکاہے۔ یہ معاہدہ افغان اور امریکہ دونوں اقوام کے مفادات کے تحفظ  اور مسائل کے حل کے لیے ایک بہترین فریم ورک مہیا کرتا ہے،جس پر مکمل طور پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔  آئیے اس معاہدے کے نفاذ میں آگے بڑھیں ، تاکہ تمہاری افواج کے انخلا اور افغانستان و خطے میں امن اور استحکام کےلیے راہ ہموار ہوجائے۔

ساتھ ہی طالبان سربراہ نے کورونا وائرس ، طالبان قیدی ، افغان فورسز کے اہلکاروں اور دیگر متعدد موضوعات پہ اپنے عید پیغام میں گفتگو کی ہے ۔